احرام کی حالت میں خون نکلنے کاحکم

احرام کی حالت میں خون نکلنے کاحکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص کو عمرہ کرنے کے دوران چوٹ لگی جس سے خون نکل آیا اور احرام کو بھی لگ گیا، کیا ایسی صورت میں کوئی دم وغیرہ لازم آتا ہے؟

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مذکورہ(بیان کردہ)صورت میں دم وغیرہ کچھ بھی لازم نہیں ،کیونکہ مُحرِم کے جسم سے خون وغیرہ کا نہ نکلنا احرام کی پابندیوں میں سے نہیں، بلکہ فقہائے کرام نے تو بحالتِ احرام، مُحرِم کو حجامہ کروانے، داڑھ نکالنے اور زخم وغیرہ اکھیڑنے کی رخصت دی ہے، جبکہ ان صورتوں میں خون کا نکلنا ظاہر ہے۔البتہ خون اگر احرام کو لگ جائے تو اتنا حصہ دھو لیا جائے۔

علامہ علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود بن احمد کاسانی علیہ الرحمتہ بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں :

”ولا بأس بأن يحتجم المحرم، ويفتصد، ويبط القرحة، ويعصب عليه الخرقة، ويجبر الكسر، وينزع الضرس إذا اشتكى منه “

یعنی محرم کے لئے حجامہ کرانے، فصد لگوانے ، زخم شق کرنے، اس پر کپڑا باندھنے، ٹوٹی ہوئی ہڈی پر پٹی باندھنے اور درد کے باعث داڑھ اکھاڑنے میں کوئی حرج نہیں۔[بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الحج ، فصل تطیب المحرم ، ١٩١/٢]

ہندیہ میں فتاوی قاضیخان کے حوالے سے ہے :

” ولا بأس للمحرم أن يحتجم أو يفتصد أو يجبر الكسر أو يختتن، كذا في فتاوى قاضي خان“

یعنی محرم کے لئے حجامہ کرانے، فصد لگوانے، ٹوٹی ہوئی ہڈی پر پٹی باندھنے یا ختنہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، ایسا ہی فتاوی قاضیخان میں ہے۔[مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، کتاب المناسک ، الباب الرابع فیما یفعلہ المحرم بعد الإحرام، ٢٢٤/١]

بہارشریعت میں ہے :

”یہ باتیں احرام میں جائز ہیں : انگوٹھی پہننا، بے خوشبو کا سُرمہ لگانا، داڑھ اکھاڑنا، ٹوٹے ہوئے ناخن کو جدا کر دینا، دنبل یا پُھنسی توڑ دینا، ختنہ کرنا، فصد، بغیر بال مونڈے پچھنے کرانا….“(بہارشریعت، احرام کا بیان، جلد 1 ،حصہ 6 ، صفحہ 1088 ، مکتبۃالمدینہ کراچی)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی

( مورخہ 4 دسمبر 2022، بمطابق 9 جمادی الاولی ، 1444ھ بروز اتوار )

اپنا تبصرہ بھیجیں