اجازت نامہ حاصل کیے بغیر کام کرنا اور دوسرےکے کاغذات لیکر ٹیکس اداکرنے کا حکم

اجازت نامہ حاصل کیے بغیر کام کرنا اور دوسرےکے کاغذات لیکر ٹیکس اداکرنے کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ یورپ میں بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے باقاعدہ گورنمنٹ کی جانب سے اجازت نامہ ضروری ہوتا ہے اور حکومت کی طرف سے ان کاموں پر سالانہ ٹیکس بھی مقرر ہوتا جو ادا کرنے پر ہی مذکورہ اجازت نامہ کی مدت آگے بڑھتی ہے، یعنی اب اگلے سال بھی اسے وہ کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ایسے میں ایک شخص جسکے پاس باقاعدہ یہ اجازت نامہ والے کاغذات تو نہیں ہوتے لیکن اسکے پاس اچھا خاصہ کام ہوتا ہے اور وہ ان لیگل طور پر یہ کام کر رہا ہوتا ہے جبکہ دوسرا شخص جس کے پاس کاغذات تو موجود ہوتے ہیں لیکن اسکے پاس کام نہیں ہوتا، ایسے میں وہ شخص جو ان لیگل طور پر کام چلا رہا ہوتا ہے وہ دوسرے کے کاغذات لیکر ٹیکس وغیرہ ادا کرتا ہے یوں اسکا کام بھی چل جاتا ہے اور ساتھ میں دوسرے مسلم کا بھی فائدہ ہو جاتا ہے کہ اسکے کاغذات رینیو ہو جاتے ہیں۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ کار درست ہے؟(جزاك الله)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سوال میں مذکورہ طریقہ کار اختیار کرنا درست نہیں کیونکہ اس میں جھوٹ اور دھوکہ دہی شامل ہے جبکہ دھوکہ و بد عہدی وغیرہ تو کسی غیر مسلم سے بھی جائز نہیں، اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ایسا کرنا وہاں کے قانون کے مخالفت بھی ہے جس پر سزا وغیرہ کا قوی خدشہ ہے اور ہر وہ غیر قانونی کام جس پر ذلت کا قوی اندیشہ ہو جائز نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إياكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار….الخ “

یعنی جھوٹ سے بچو، بیشک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتے ہیں۔(سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب فی التشديد فی الکذب، ٢٩٧/٤)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

من غش فليس مني”

یعنی جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں) [ مسلم ، صحيح مسلم، کتاب الإیمان ، ٩٩/١ ]

فتاوی رضویہ میں ہے :

” غدر (دھوکہ) و بدعہدی مطلقاً ہر کا فر سے بھی حرام ہے۔”(فتاوی رضویہ، جلد 17 ، صفحہ 348 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

اپنے آپ کو ذلت و رسوائی پر پیش کرنا جائز نہیں چنانچہ ابن ماجہ شریف میں ہے :

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه»

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی مومن کے لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلت و رسوائ میں پیش کرے۔(ابن ماجه، سنن ابن ماجه،کتاب الفتن، حدیث نمبر 4016 ، 1332/2)

فتاوی رضویہ میں ہے :

” کسی جرم قانونی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا بھی منع ہے۔ حدیث میں ہے : ” من اعطی الذلۃ من نفسہ طائعا غیر مکرہ فلیس منّا ” یعنی جو شخص بغیر کسی مجبوری کے اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“(فتاویٰ رضویہ ، جلد 29 ، صفحہ 93 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ایک اور مقام پر ہے :

” ایسے امر کا ارتکاب جو قانونا ناجائز ہے ، اور جرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں۔” (فتاویٰ رضویہ ، جلد 20 ، صفحہ 192 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی

( مورخہ 1 دسمبر 2022، بمطابق 5 جمادی الاولی ، 1444ھ بروز جمعرات )

اپنا تبصرہ بھیجیں