کیا امام کا اقامت کے وقت حجرے سے باہر آنا سنت ہے؟

کیا امام کا اقامت کے وقت حجرے سے باہر آنا سنت ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صحیحین کی متعدد احادیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کے وقت اپنے حجرے سے باہر مصلی پر تشریف لاتے تھے تو کیا امام صاحبان کے لئے یہ اب بھی سنت ہے یا پہلے ہی سے مصلی پر ہونا مستحب ہے؟نیز مقتدی اقامت میں کس وقت کھڑے ہوں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق وا لصواب

اقامت کے وقت سے مراد اگر یہ لی جائے کہ مکبر اقامت پڑھ رہا ہو اور امام اس دوران حجرہ سے باہر آئے تو یہ سنت نہیں بلکہ یہ عمل تو احادیث سے ثابت بھی نہیں۔ اگر یہ مراد ہو کہ امام جب حجرہ سے آئے اسے دیکھ کر اقامت پڑھی جائے تو یہ حضور علیہ السلام سے ثابت ہے لیکن اس کو بھی علمائے کرام نے سنت نہیں لکھا ہے۔ دراصل عہد رسالت میں اذان کا وقت تو مقرر تھا لیکن جماعت قائم کرنے کاوقت مقرر نہیں تھا اور احادیث کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اقامت کے بعد حجرے مبارکہ سے باہر تشریف لاتے ،کبھی آپ کو حجرہ سے آتے دیکھ کر اقامت پڑھی جاتی اور کبھی اقامت سے پہلے ہی مصلی نماز پر تشریف فرما ہوتے تھے ۔جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ قدقامت الصلوة کہتے، پھر حضور جماعت کروانے کے لئے کھڑے ہوتے۔علمائے کرام نے ان احادیث کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ جب امام قبلہ کی جانب سے داخل ہو تو چاہے اقامت ابھی شروع ہو یا اس کا درمیان ہویا اختتام سبھی مقتدیوں کا امام کو دیکھ کر کھڑے ہونا سنت ہے۔ آج کے دور میں چونکہ دین سے عوام کی کافی دوری ہے اور بعض جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ اگر امام اقامت سے پہلے مصلی امامت پر موجود نہ ہو تو لوگ امام کے خلاف باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں اس لئے تنفیر عوام سے بچنے کے لئے بہتریہی ہے کہ امام اقامت سے پہلے ہی مصلی پر موجود ہو جیسا کہ یہ بھی حضور علیہ السلام اور دیگر صحابہ کرام سے ثابت ہے۔امام اگر مسجد میں موجود نہ ہو تو مقدیوں کا یا اقامت کے وقت مصلیٰ موجود ہو تو امام سمیت مقتدیوں کا کھڑے ہوکر تکبیر سننا خلاف سنت و مکروہ ہے،اقامت میں حی اعلی الفلاح کہا جائے اس وقت کھڑا ہونا مستحب ہے۔

مسلم شریف کی حدیث پاک ہے:

”عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: «أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْنَا فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ“

ترجمہ:ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:نماز کے لیے اقامت کہی گئی، تو ہم کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے پاس آنے سے پہلے ہم نے صفوں کو درست کر لیا۔ (صحیح مسلم ،باب متی یقوم الناس للصلاۃ،جلد2،صفحہ 1010،التراث)

بخاری شریف کی حدیث پاک میں سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’اذا اقیمت الصلوۃ فلاتقوموا حتی ترونی‘‘

ترجمہ: جب اقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہوجب تک مجھے نہ دیکھ لو۔(صحیح البخاری، باب: متى يقوم الناس، إذا رأوا الإمام عند الإقامة،جلد1،صفحہ129،دارطوق النجاۃ،مصر)

صحیح مسلم میں ہے:

”عن جابر بن سمرة قال: «كان بلال يؤذن إذا دحضت، فلا يقيم حتى يخرج النبي ﷺ. فإذا خرج أقام الصلاة حين يراه“

ترجمہ:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان اس وقت دیتے جب سورج ڈھل جاتا، اور وہ اقامت نہ کہتے یہاں تک کہ نبی ﷺ باہر تشریف لے آتے۔ پس جب نبی ﷺ باہر آ جاتے، تو وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔(مسلم شریف، باب متى يقوم الناس للصلاة،جلد1،صفحہ423،التراث)

سنن ترمذی میں ہے:

”جابر بن سمرة، يقول: «كان مؤذن رسول الله ﷺ يمهل فلا يقيم، حتى إذا رأى رسول الله ﷺ قد خرج أقام الصلاة حين يراه»“

ترجمہ:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے مؤذن انتظار کرتے اور اقامت نہ کہتے، یہاں تک کہ جب وہ دیکھتے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے آئے ہیں، تو جیسے ہی آپ ﷺ کو دیکھتے، اقامت کہتے۔(جامع ترمذی ،ابواب الصلاۃ،جلد1،صفحہ391،التراث)

فیض القدیر میں ہے

’’فی مسلم أن بلالا کان لا یقیم حتی یخرج لأنہ کان یراقب خروجہ فأول ما یراہ یشرع فی الإقامۃ قبل أن یراہ الناس فإذا رأوہ قاموا‘‘

ترجمہ: مسلم میں ہے کہ حضرت بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اقامت نہ کہتے جب تک سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف نہ لاتے تھے اس لئے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تعاقب میں رہتے تھے تو سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوصحابہ سے قبل دیکھتے ہی اقامت شروع کر دیتے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان جب سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتے اس وقت کھڑے ہوتے ۔ (فیض القدیر،حر ف الہمزہ،حدیث 472،جلد 1،صفحہ379، دارالکتب العلمیۃ ،بیروت)

مسند البزاز میں علامہ ابو بکر البزار رحمة اللہ علیہ (متوفی۲۹۲ھ)حدیث پاک بیان فرماتے ہیں:

”عن عبد الله بن أبي أوفى، قال: «كان بلال إذا قال: قد قامت الصلاة نهض رسول الله ﷺ بالتكبير»“

ترجمہ:عبداللہ بن ابی أوفى سے روایت ہے کہ: ”جب بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہتے اور (جب) کہتے: قد قامت الصلاة، تو رسول اللہ ﷺ( مصلیٰ پر پہلے سے موجود ہونے کی صورت میں) تکبیر کہہ کر (نماز کے لیے) کھڑے ہو جاتے۔ (مسند البزار،جلد8،صفحہ 298،التراث)

عمدۃ القاری میں ہے

’’واذا لم یکن الامام فی المسجد فذہب الجمہور الی انھم لا یقومون حتی یروہ‘‘

ترجمہ:اور اگر امام مسجد میں نہ ہو تو جمہور علماء اس طرف گئے ہیں کہ مقتد ی کھڑے نہ ہوں جب تک امام کو نہ دیکھ لیں۔ ( عمدۃ القاری شرح بخاری،بابمتی یقوم الناس اذا رأواالام عند الا قامۃ، جلد 5صفحہ225، دارالکتب العلمیۃ بیروت،لبنان )

فتاوی رضویہ میں امام اھلسنت رحمة اللہ علیہ (متوفی۱۳۴۰ھ) سے سوال ہوا:

”کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے حجرہ میں امام ہو اور تکبیر مکبّر شروع کردے اب امام حجرہ سے روانہ ہو ختم تکبیر سے پہلے حی علی الفلاح کے وقت یا بعد ختم تکبیر مصلّے پر پہنچ جاوے اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے بصورت احیانا یا بصورت دواما ، ہر دوصورت کا کیا حکم ہے؟“

جوابا آپ فرماتے ہیں:

” اس صورت میں کوئی حرج نہیں نہ امام مکبّر کا پابند ہوسکتا ہے بلکہ مکبر کو امام کی پابندی چاہئے حدیث میں ہے المؤذن املك بالاذان ، والامام املك بالاقامۃ (اذان کا اختیار مؤذن کو ہے اور اقامت کا اختیار امام کو۔ ت) اور اگر وہ تکبیر ہوتے میں چلا تو اُسے بیٹھنے کی بھی حاجت نہیں مصلّے پر جائے اور حی علی الفلاح یا ختم تکبیر پر تکبیر تحریمہ کہے ، یوں ہی بعد خطبہ اُسے اختیار ہے کہیں منقول نہیں کہ خطبہ فرماکر تکبیر ہونے تك جلوس فرماتے یہ حکم قوم کے لئے ، والله تعالیٰ اعلم۔“ (فتاوی رضویہ،جلد5،صفحہ 420،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

مصنف عبدالرزاق میں علامہ عبدالرزاق الصنعانی رحمة اللہ علیہ (متوفی۲۱۱ھ)نقل کرتے ہیں:

”عن عطية قال: كنا جلوسا عند ابن عمر فلما أخذ المؤذن في الإقامة قمنا، فقال ابن عمر: «اجلسوا فإذا قال: قد قامت الصلاة فقوموا»“

ترجمہ:حضرت عطیہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہیں: “ہم ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جب مؤذن نے اقامت کہنا شروع کی تو ہم کھڑے ہو گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹھے رہو، اور جب مؤذن قد قامت الصلاة کہے، تب کھڑے ہو جاؤ۔ (مصنف ،کتاب الصلاة،جلد1،صفحہ506،التراث)

التمھید میں علامہ ابن عبد البر رحمة اللہ علیہ (متوفی۴۶۳ھ)نقل کرتے ہیں:

”حدثنا ابن المبارك عن أبي يعلى قال رأيت أنس بن مالك إذا قيل قد قامت الصلاة قام فوثب قال وحدثنا أبو بكر بن أبي الأسود قال حدثنا معتمر بن سليمان عن هشام عن الحسن وابن سيرين أنهما كانا يكرهان أن يقوما حتى يقول المؤذن قد قامت الصلاة“

ترجمہ:حضرت ابن المبارک نے ہمیں حدیث بیان کی، وہ ابو یعلى سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب مؤذن ”قد قامت الصلاة“ کہتا تو وہ فوراً کھڑے ہو جاتے اور تیزی سے اٹھتے۔ابو بکر بن ابی الاسود نے ہمیں حدیث بیان کی، وہ معتمر بن سلیمان سے، وہ ہشام سے، وہ حسن بصری اور ابن سیرین رحمہما اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ دونوں ”قد قامت الصلاة“کہنے سے پہلے کھڑے ہونے کو ناپسند کرتے تھے۔ (التمھید،جلد9،صفحہ 193،التراث)

ردالمحتار اور ہندیہ میں ہے

’’اذا دخل الرجل عند الاقامۃ یکرہ لہ الانتظار قائما ولٰکن یقعد ثم یقوم اذا بلغ المؤذن قولہ حیّ علی الفلاح ‘‘

ترجمہ: جب کوئی شخص بروقت اقامت مسجد میں داخل ہو تو کھڑے رہ کر ختم تکبیر کا انتظار مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے پھر اس وقت کھڑا ہو جبکہ مؤذن’’ حیّ علی الفلاح‘‘ کہے۔(ہندیہ،کتاب الصلوٰۃ،الباب الثانی فی الاذان،جلد1،صفحہ57،دارالفکر،بیروت)

ھذا ماظھر للعبد الضعیف والله اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی الله علیه وآله وسلم

مولانا مبین اختر مدنی

17رمضان المبارک 1446ھ/18 مارچ 2025ء

نظرثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں