وضو میں زیور کا حکم

وضو میں زیور کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ وضو میں انگوٹھی پہنی ہو تو وضو کرنے کا کیا حکم ہو گا کیا انگوٹھی پہنے ہوئے وضو ہو جائے گا؟جواب ارشاد فرما دیجئے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب۔

بیان کی گئی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ انگوٹھی اتنی تنگ ہے معلوم ہو کہ نیچے پانی نہیں بہ سکے گا تو انگوٹھی کو اتار کر دھونا فرض ہے۔اگر ہلا کر دھونے سے پانی بہ جاتا ہے تو حرکت دینا ضروری ہے ۔

حدیث شریف میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

” أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا تَوَضَّأَ حَرَّکَ خَاتَمَهُ“

ترجمہ:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے اپنی انگشتری کو ہلا لیتے۔(سنن ابن ماجہ ،جلد1،ص 171،باب تخلیل الاصابع،مکتبہ العلم لاہور )

فتاوی شامی میں ہے:

”(وتحریك خاتمہ الوسع)ومثلہ القرط، وکذا الضیق ان علم وصول الماء،والا فرض“

ترجمہ:آداب میں سے کھلی انگوٹھی کو حرکت دینا ہے،اس کی مثل کان کی بالی ہے،اور اسی طرح تنگ انگوٹھی ہے۔اگر پانی کے پہنچنے کا علم ہو وگرنہ فرض ہے۔(فتاوی شامی جلد1، ص300،کتاب الطہارت،ضیاء القرآن لاہور )

فتاوی رضویہ میں ہے :

”مستحبہ تحریك خاتمہ الواسع وکذا الضیق ان علم وصول الماء والا فرض۔ کشادہ انگوٹھی کو حرکت دینا مستحب ہے اسی طرح تنگ کو بھی،اگر معلوم ہو کہ پانی پہنچ گیا ورنہ فرض ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد1 پارٹ2، ص 603 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور )

بہار شریعت میں ہے:

”ہر قسم کے جائز،نا جائز گہنے، چلے، انگوٹھیاں، پہنچیاں(ایک زیور جو کلائی میں پہنا جاتا ہے)،کنگن، کانچ، لاکھ وغیرہ کی چوڑیاں، ریشم کے لچھے وغیرہ اتنے تنگ ہو کہ نیچے پانی نہ بہے تو اتار کر دھونا فرض ہے اور اگر ہلا کر دھونے سے پانی بہ جاتا ہے تو حرکت دینا ضروری ہے اور اگر ڈھیلے ہوں کہ بے ہلائے بھی نیچے پانی بہ جائے گا تو کچھ ضروری نہیں۔“(بہار شریعت جلد1، ص290، مکتبہ المدینہ کراچی )

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ

ممبر فقہ کورس

16 شعبان، 1446ھ، 15 فروری 2025ء۔

نظرثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں