نکاح پڑھاتے وقت دولہے یا دولہن کے نام میں غلطی واقع ہوجائے تو نکاح کی شرعی حیثیت.
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نکاح خواں نے عورت سے وکالت دولہے کے کسی اور نام سے لی۔ یعنی دولہے نے جو نام بتایا تھا اس نام سے نہیں لی بلکہ کسی اور نام سے لی کیونکہ نکاح خواں سے نام سننے میں کچھ فرق آگیا تھا اور پھر بعد میں نکاح پڑھا دیا ۔ مثلا: دولہے نے نام علی حسین بن محمد امین بتایا تھا اور نکاح خواں نے دلہن سے علی حسن بن محمد امین نام کے ساتھ نکاح پڑھانے کی عورت سے وکالت لیکر نکاح پڑھا دیا ۔ کیا اس صورت میں نکاح ہو جائیگا؟ شرعی رہنمائی فرما دیجئے.
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
بیان کی گئی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ دولہا کہ جس کے نام میں غلطی ہوئی اگر وہ بوقتِ عقدِ نکاح مجلسِ نکاح میں موجود نہ تھا تو نکاح درست نہیں ہوگا کیونکہ اس صورت میں میں جہالت (دولہا کی پہچان نہ ہونا) لازم آتی ہے یہی وجہ ہے کہ علماء نے فرمایا کہ غیر موجود مرد یا عورت کے نکاح میں اس کا نام ٬والد کا نام اور دادا کا نام ذکر کرنا ضروری ہے تاکہ گواہوں کے سامنے دولہا یا دلہن ممتاز ہو سکے اور اگر وہ دولہا یا دلہن کہ جس کے نام میں غلطی ہوئی ہو مجلس نکاح میں موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ بھی کیا گیا تو یہی کافی ہے اگرچہ اس کے نام یا والد کے نام میں غلطی ہوئی ہو کیونکہ مقصود تعیین ہے اور
حسی اشارہ نام کے مقابلے میں زیادہ قوی ہے اور بدرجہ اولی تعیین پر دلالت کرتا ہے.
ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے.
“(غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح۔
(قوله: لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط خلافا لابن الفضل وعند الخصاف يكفي مطلقا والظاهر أنه في مسألتنا لا يصح عند الكل؛ لأن ذكر الاسم وحده لا يصرفها عن المراد إلى غيره، بخلاف ذكر الاسم منسوبا إلى أب آخر، فإن فاطمة بنت أحمد لا تصدق على فاطمة بنت محمد تأمل، وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها (قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها، كما لو قال اقتديت بزيد هذا فإذا هو عمرو فإنه يصح۔”
ترجمہ:(اگر عورت کے نکاح میں اس کے وکیل نے عورت کے والد کے نام میں غلطی کی اور عورت خود موجود نہ تھی تو نکاح درست نہیں ہوگا)، کیونکہ اس صورت میں جہالت (یعنی پہچان نہ ہونا) لازم آتی ہے۔ اسی طرح اگر وکیل نے اپنی بیٹی کے نام میں غلطی کی تو بھی نکاح درست نہیں ہوگا، الا یہ کہ عورت موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو، تو پھر نکاح درست ہو جائے گا۔
صاحب در مختار کا قول (“نکاح درست نہیں ہوگا”)
کیونکہ غائبہ (یعنی غیر موجود عورت) کے نکاح میں اس کا نام، اس کے والد کا نام اور دادا کا نام ذکر کرنا شرط ہے۔ پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ اگر گواہ عورت کو پہچانتے ہوں تو صرف نام کا ذکر کافی ہے، مگر ابن الفضل کے قول کے برخلاف، اور خصاف کے نزدیک تو مطلقاً (یعنی ہر حال میں) کافی ہے۔ مگر بظاہر ہماری موجودہ صورت میں (جہاں والد کا نام غلط ہو گیا ہو) نکاح کسی کے نزدیک بھی درست نہ ہوگا؛ کیونکہ صرف نام کا ذکر، کسی دوسری عورت کی طرف منتقل نہیں کر سکتا، برخلاف اس کے کہ نام کے ساتھ دوسرے باپ کا نام بھی ہو۔ مثلاً فاطمہ بنت احمد، فاطمہ بنت محمد پر صادق نہیں آتی۔ غور کیجیے۔
اسی طرح اگر عورت کے نام میں غلطی ہو تو بھی یہی حکم ہوگا۔
(صاحب در مختار کا قول الّا یہ کہ وہ عورت موجود ہو وغیرہ”)
یہ دونوں صورتوں پر لوٹ رہا ہے، یعنی اگر عورت موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو تو والد کے نام یا اپنے نام میں غلطی نقصان دہ نہیں ہوگی؛ کیونکہ حسّی اشارے کے ذریعے شناخت کرنا نام کے مقابلے میں زیادہ قوی اور مؤثر ہے، کیونکہ نام میں کبھی اشتراک (یعنی کئی لوگوں کے ایک نام ہونے) کی وجہ سے شبہ پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے ایسی حالت میں نام کا اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔
جیسے کہ اگر کوئی کہے: “میں نے اس زید کی اقتدا کی” اور بعد میں پتہ چلے کہ وہ عمرو تھا، تو تب بھی اقتداء صحیح ہوگی.
علامہ شامی مزید آگے فرماتے ہیں.
وما ذكروه في المرأة يجري مثله في الرجل ففي الخانية قال الإمام ابن الفضل إن كان الزوج حاضرا مشارا إليه جاز ولو غائبا فلا ما لم يذكر اسمه واسم أبيه وجده قال والاحتياط أن ينسب إلى المحلة أيضا قيل له فإن كان الغائب معروفا عند الشهود قال وإن كان معروفا لا بد عن إضافة العقد إليه وقد ذكرنا عن غيره في الغائبة إذا ذكر اسمها لا غير وهي معروفة عند الشهود وعلم الشهود أنه أراد تلك المرأة يجوز النكاح …… والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم وإلا فلا و به جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر .
ترجمہ:جو کچھ عورت کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے، وہی حکم مرد کے بارے میں بھی جاری ہوتا ہے۔ چنانچہ الخانیہ میں امام ابن الفضل نے فرمایا کہ اگر خاوند موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو، تو نکاح جائز ہے۔ اور اگر وہ غائب ہو، تو جب تک اس کا نام، اس کے والد اور دادا کا نام ذکر نہ کیا جائے، نکاح جائز نہیں۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ (غائب) کی نسبت اس کی رہائش کی بستی (محلہ) کی طرف بھی کی جائے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ غائب شخص گواہوں کے ہاں مشہور و معروف ہو، تو؟
انہوں نے فرمایا: اگر وہ معروف بھی ہو، تب بھی نکاح کے وقت اس کی طرف نسبت ضرور کی جائے۔
اور ہم نے غیر ابن الفضل (کسی اور عالم) سے نقل کیا ہے کہ اگر غائبہ (عورت) کا صرف نام ذکر کر دیا جائے، اور وہ گواہوں کے نزدیک معروف ہو، اور گواہوں کو علم ہو کہ عقد اسی عورت کے ساتھ ہو رہا ہے، تو نکاح جائز ہے……..
خلاصہ یہ ہے کہ:
غائبہ (عورت) کا نکاح کرتے وقت اس کا نام، والد کا نام اور دادا کا نام لینا ضروری ہے اگرچہ وہ گواہوں کے ہاں معروف ہو، یہ ابن الفضل کا قول ہے۔
اور دوسرے علماء کے قول کے مطابق، اگر عورت گواہوں کے ہاں معروف ہو تو صرف نام لینا کافی ہے، ورنہ مکمل نسب بیان کرنا لازم ہوگا۔
اور اسی پر صاحبِ ہدایہ نے تجنيس میں جزم کیا ہے اور کہا ہے: “چونکہ مقصود تعارف ہے، اور تعارف حاصل ہو چکا ہے”، اور اسے فتح القدير اور البحر الرائق میں بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
( ردالمحتار علی الدرالختار ٬ کتاب النکاح ٬مطلب:الخصاف کبیر فی العلم یجوز الاقتداء بہ ٬جلد 4 ٬ صفحہ 98 مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ )
فتاوی رضویہ میں ہے.
“البتہ مشہود کے سامنے منکوحہ کا متمیز ہوجانا ضرور ہے
“حتی کہ اگر وہ عورت نقاب پہنے مجلس میں حاضر ہو تو نکاح میں اس کی طرف اشارہ کافی ہے اگرچہ زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ وہ چہرہ کُھلارکھے۔
“پس اگر بحالتِ غیبت صرف بنتِ عمی یا فلانۃ یابنتِ عمی فلانۃ یا ان کے مثل جس لفظ سے شہود اسے متمیز کرلیں تو اس قدر کافی، ورنہ ذکرِ اب وجد یعنی فلانہ بنتِ فلاں بن فلاں کہنا ضروری ہے۔”
(فتاوی رضویہ٬ کتاب النکاح ٬جلد 11 ٬ صفحہ 112 ٬ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے.
یہ امر بھی ضروری ہے کہ منکوحہ گواہوں کو معلوم ہو جائے یعنی یہ کہ فلاں عورت سے نکاح ہوتا ہے، اس کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ اگر وہ مجلسِ عقد میں موجود ہے توا س کی طرف نکاح پڑھانے والا اشارہ کر کے کہے کہ میں نے اِس کو تیرے نکاح میں دیا اگرچہ عورت کے مونھ پر نقاب پڑا ہو، بس اشارہ کافی ہے اور اس صورت میں اگر اُس کے یا اُس کے باپ دادا کے نام میں غلطی بھی ہو جائے تو کچھ حرج نہیں ، کہ اشارہ کے بعد اب کسی نام وغیرہ کی ضرورت نہیں اور اشارے کی تعیین کے مقابل کوئی تعیین نہیں.
دوسری صورت معلوم کرنے کی یہ ہے کہ عورت اور اُس کے باپ اور دادا کے نام لیے جائیں کہ فلانہ بنت فلاں بن فلاں اور اگر صرف اُسی کے نام لینے سے گواہوں کو معلوم ہو جائے کہ فلانی عورت سے نکاح ہوا تو باپ دادا کے نام لینے کی ضرورت نہیں پھر بھی احتیاط اِس میں ہے کہ اُن کے نام بھی لیے جائیں اور اس کی اصلاً ضرورت نہیں کہ اُسے پہچانتے ہوں بلکہ یہ جاننا کافی ہے کہ فلانی اور فلاں کی بیٹی فلاں کی پوتی ہے اور اِس صورت میں اگر اُس کے یا اُس کے باپ دادا کے نام میں غلطی ہوئی تو نکاح نہ ہوا اور ہماری غرض نام لینے سے یہ نہیں کہ ضرور اُس کا نام ہی لیا جائے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ تعیین ہو جائے، خواہ نام کے ذریعے سے ہو یا یوں کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کی لڑکی.
(بہار شریعت ٬ باب نکاح کا بیان ٬منکوحہ کی تعیین ٬جلد 2 ٬ حصہ ہفتم ٬ صفحہ 17 ٬ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد عرفان مدنی قصوری
ممبر فقہ کورس ٬رول نمبر157
13ذیقعدہ 1446ھ بمطابق 11مئی 2025ء