نجومیوں کے پاس جانااور فال نکالنےکی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ میں کہ برج وغیرہ کی کیا حقیقت ہے اور فال نکالنا اور نجومیوں کے پاس جانا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
شریعت اسلامیہ اللہ عزوجل پر کامل توکل کی ترغیب دیتی ہے اور کفارو فساق کے عقائد و افعال سے منع کرتی ہے۔نجومیوں سے مستقبل کے حالات پوچھنا،فال اور برجوں پر اعتقاد رکھنا ناجائز وحرام ہے اور احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔
اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
”یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ“
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والوشراب اور جُوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ (سورت مائدہ آیت ٩٠)
مفتی قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ تفیسر صراط الجنان میں فرماتے ہیں:
”زمانۂ جاہلیت میں کفار نے تین تیر بنائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک پر لکھا تھا ’’ہاں ‘‘ دوسرے پر لکھا تھا ’’نہیں ‘‘ اور تیسرا خالی تھا ۔ وہ لوگ ان تیروں کی بہت تعظیم کرتے تھے اور یہ تیر کاہنوں کے پاس ہوتے اور کعبہ معظمہ میں کفارِ قریش کے پاس ہوتے تھے(جب انہیں کوئی سفر یا اہم کام درپیش ہوتا تو وہ ان تیروں سے پانسے ڈالتے اور جو ان پر لکھا ہوتا اس کے مطابق عمل کرتے تھے)۔پرندوں سے اور وحشی جانوروں سے برا شگون لینا اور کتابوں سے فال نکالنا وغیرہ بھی اسی میں داخل ہے۔( البحر المحیط، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۴ / ۱۶)
کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے کی مذمت:
احادیث میں کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے کی شدید مذمت کی گئی ہے،ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں:
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو کسی نجومی یا کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو گویااِس نے اُس کا انکار کردیا جو (حضرت) محمد صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل کیا گیا۔(مستدرک، کتاب الایمان، التشدید فی اتیان الکاہن وتصدیقہ، ۱ / ۱۵۳، الحدیث: ۱۵)
(2)…حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے ، سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو کاہن کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو چالیس (40) راتوں تک اس کی توبہ روک دی جاتی ہے اور اگر اُس نے اِس کی تصدیق کی تو کفر کیا۔(معجم الکبیر ، ابوبکر بن بشیر عن واثلۃ، ۲۲ / ۶۹، الحدیث: ۱۶۹)
(3)…حضرت قبیصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: خط کھینچنا، فال نکالنا اور پرندے اُڑا کر شگون لینا جِبْت (یعنی شیطانی کاموں ) میں سے ہے۔(ابوداؤد، کتاب الطب، باب فی الخط وزجر الطیر، ۴ / ۲۲، الحدیث: ۳۹۰۷)“(صراط الجنان، جلد3 ،صفحہ25، مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:
’’کاہنوں جوتشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا برُادریافت کرنا اگر بطور اعتقاد یعنی جو یہ بتائیں حق ہے تو کفر خالص ہے اسی کو حدیث میں فرمایا’’ فقد کفر بما نزل علی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ‘‘ترجمہ : تحقیق اس نے انکار کیا اس کا جو محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل ہوا یعنی کافر ہوگیا اور اگر بطور اعتقاد تیقن نہ ہومگر میل و رغبت کے ساتھ ہو تو گناہ کبیرہ ہے اور اسی کو حدیث شریف میں فرمایا’’لم یقبل اللہ لہٗ صلاۃ اربعین صباحا ‘‘ترجمہ :’’اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں فرمائیگا اور اگر بطور ہزل و استہزاء ہو تو عبث و مکروہ و حماقت ہے ہاں اگر بقصد تعجیز (عاجز کرنے کے ارادے سے) ہو تو حرج نہیں ۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد21،صفحہ155،رضافائونڈیشن،لاہور)
فتاویٰ افریقہ میں ہے:
”اخد الفال من المصحف مکروہ۔ترجمہ:مصحف شریف سے فال لینا مکروہ ہے۔ یعنی: کراھة تحریم لانھا المحل عند فی الاحکام
ترجمہ:یعنی مکروہ تحریمی ہے کہ حنفیہ کے یہاں جب کراہت مطلق بولتے ہیں تو اس سے کراہت تحریم مراد لی جاتی ہے۔“(فتاویٰ افریقہ ص۔۔149 مطبوعہ:مکتبہ نوریہ رضویہ)
فتاویٰ خلیلیہ میں ہے :
”نجومی ہوئے، رمال ہوئے، جفار ہوئےکہ اپنے جھوٹے سچے علم نجوم یا رمل وجفر سے فال نکالنا اپنا ذریعہ معاش بنائےبیٹھے ہیں اور لوگوں کو فریب میں مبتلا رکھنا انکا وطیرہ ہے، انکے پاس جانا اور ان سے قسمت کا حال غیب کی باتیں معلوم کرنا زمانۂ جاہلیت کا دستور اور مشرکین عرب کا معمول رہا ہے۔ قرآن کریم نے: تستقسموا بالازلام (مائدہ :3 ) فرما کر ان سب طریقوں کو حرام و ناجائز و گناہ قرار دیا ہے۔ ان کے پاس جا کر انکی باتیں سننا بھی گناہ و حرام ہے اور انکی باتوں پر یقین کر لینا، اپنے ایمان و عقیدہ کو تباہ کرنے کے برابر ہے۔ “(فتاویٰ خلیلیہ۔جلد3۔۔ص:225۔مطبوعہ: ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
بہارشریعت میں ہے:”قمردرعقرب یعنی چاند جب برج عقرب میں ہوتا ہے تو سفر کرنے کو برا جانتے ہیں اور نجومی اسے منحوس بتاتے ہیں اور جب برج اسد میں ہوتا ہے تو کپڑے قطع کرانے اور سلوانے کو برا جانتے ہیں۔ ایسی باتوں کو ہر گز نہ مانا جائے، یہ باتیں خلاف شرع اور نجومیوں کے ڈھکوسلے ہیں۔“(بہارشریعت،حصہ16،صفحہ659،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــہ
ممبر فقہ کورس
20 شعبان المعظم 1446ھ 19 فروری2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری