مفتی ناقل کے اوصاف وخصوصیات
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مفتی میں کیا خصوصیات ہونا ضروری ہیں؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
یاد رہے کہ مفتی کی دو قسمیں ہیں:
(1) مفتی مجتہد (2) مفتی ناقل
فی زمانہ جتنے بھی مفتیان عظام پائے جاتے ہیں، سب “مفتی ناقل” ہیں۔
ان دونوں میں فرق:
(1) مفتی مجتہد: وہ مفتی کہلاتا ہے کہ جو ادلہ شرعیہ: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے جواب دے۔
(2) مفتی ناقل: وہ مفتی کہلاتا ہے کہ جو سوال کے جواب میں مجتہد کے قول کو نقل کرے۔
مگر یہ نقل کرنا بھی آسان کام نہیں کہ جو چاہے نقل احکام فرمادے، بلکہ مفتی ناقل کے لیے بھی کئی اہم خصوصیات و شرائط کا حامل ہونا ضروری ہے، جو کتب فقہ میں تفصیلاً مذکور ہیں،
ذیل میں مفتی ناقل کی بعض اہم خصوصیات، اوصاف اور شرائط کا ذکر کیا جاتا ہے:
(1) مذہب کے متون، شروح، فتاوی پر اس کی گہری نظر ہو، ساتھ ہی استحضار ہو۔
(2) متداول کتب فقہ کا کامل مطالعہ کیے ہوئے ہو، اور اس کے حافظے میں فقہ کے اکثر کلیات و جزئیات محفوظ ہوں۔
(3) جواب کتب معتمدہ مستند ہ سے دے، کتب ضعیفہ سے فتوی نہ دے۔
(4) جواب تحقیق کے ساتھ لکھے اور مذہب کے جزئیات مفتی بہا سے استناد کرے۔
(5) جواب مسئلہ کے تمام ضروری گوشوں کو حاوی ومحیط ہو۔
(6) سوال کے بارے میں جب تک پورا اطمینان خاطر نہ ہو جائے حکم صادر نہ کرے۔
(7) جو بھی حکم دے اس کی قوی دلیل پہلے ذہن نشین کرلے ۔
(8) متشابہ مسائل میں امتیاز پر قادر ہو۔
(9) یک گونہ اجتہادی صلاحیت ہو تا کہ پیش آمدہ جدید مسائل میں صحیح حکم اخذ کرے۔
(10) انتہائی ذہین و فطین ہو۔
(11) سوال کو کما حقہ سمجھنے والا ہو۔
(12) سوال فہم ہو، سائل کے خلجان اور اس کی الجھن کو سمجھ سکے۔
(13) سوال کے لب و لہجہ سیاق و سباق سے یہ پہچان لینا کہ سائل کا منشا کیا ہے؟ یہ سب سےاہم کام ہے۔ جو شخص بہت دقیق تنقیدی نظر نہ رکھتا ہو وہ وہ اس کو شاید ہی جان سکے یہ بہت ماہر حاذق کا کام ہے۔
(14) اس بات پر بھی نظر رکھے کہ سائل یا کوئی بد مذہب اس کے فتوے سے غلط فائدہ حاصل نہ کر سکے۔
(15) زبان عرب کا پورا پورا ماہر ہو، عبارت النص، دلالت النص، اشارة النص، اقتضاء النص وغیرہ کے ذریعہ فقہی عبارتوں کے جملہ معانی سمجھنے کا ملکہ رکھتا ہو۔
(16) عرف ناس و حالات زمانہ سے باخبر ہو
(17) اتنا جری ہو کہ بلا خوف لومۃ لائم حق بات کہنے کی جرات رکھتا ہو۔
(18) مزاج میں نہ زیادہ غصہ ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ نرمی۔
(19) کسی سے مرعوب نہ ہو ۔
(20) مخلص ہو۔
(21) مصلحت کا لحاظ اور لوگوں کے احوال کو جاننے والا ہو۔
(22) بیدار مغز و معاملہ فہم ہو، ذہین و فطین ہو، بردبار، خوش خلق ہو۔
(23) فضول کاموں سے بچے اور پسندیدہ کام اختیار کرے۔
(24) فسق اور خلاف مروت کاموں سے اجتناب کرے۔
(25) فتوی میں تساہل یعنی ستی سے کام لینا حرام ہے یعنی ایسی سستی کہ جس سے حلال و حرام میں فرق کرنے میں زیادہ محنت نہ کی جائے اور نتیجے کے طور پر حرام و حلال مل جائیں۔
(26) تساہل یعنی سستی کی ایک صورت یہ ہے کہ مسئلے میں غور و فکر کیے بغیر فورا فتوی دیدے۔ اگر کسی مسئلے کی پہلے سے تحقیق ہے اور وہ مسئلہ پوچھا گیا اور فورا جواب دیدیا تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر مسئلے کا اچھی طرح علم نہیں اور بغیر تحقیق اور غور و فکر کیے اپنے اندازے سے فورا جواب دیدیا تو یہ نا جائز ہے۔
(27) تساہل یعنی سستی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اغراض فاسدہ کی وجہ سے مفتی حرام یا مکروہ حیلوں کو تلاش کرے اور جس شخص سے نفع حاصل کرنا ہے اسے رخصتیں دے اور جس سے کوئی مخالفت ہے اسے سخت احکام بتائے یا مسئلے کی سخت صورتیں اس کے لیے نکالے۔
لہذا جو عالم دین افتاء کے جملہ اوصاف و شرائط کا جامع ہو وہی نقل فتوی کا اہل ہے اور وہی قابل اعتماد مفتی ناقل ہے۔
(فتاوی ملک العلماء، صفحہ8، مطبوعہ: شبیر برادرز/ فتاوی برکاتیہ، جلد1، صفحہ13-14، مطبوعہ: شبیر برادرز/ فتاوی مرکز تربیت افتا، جلد1، صفحہ19، فقیہ ملت، اکیڈمی/ فتاوی علیمیہ، جلد1، صفحہ35-36/ آداب فتوی، صفحہ90-91، باب الاسلام: پبلشرز)
فتاوی رضویہ میں ہے:
“فقہ یہ نہیں کہ کسی جزئیہ کے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے یوں تو ہر اعرابی، ہر بدوی فقیہ ہوتا کہ ان کی مادری زبان عربی ہے بلکہ فقہ بعد ملاحظہ اصول مقررہ و ضوابط محررہ ووجوہ تکلم وطرق تفاہم وتنیقح مناط و لحاظ انضباط ومواضع یسر واحتیاط وتجنب تفریط وافراط وفرق روایات ظاہرہ ونادرہ وتمیز درآیات غامضہ وظاہر ومنطوق ومفہوم وصریح ومحتمل وقول بعض وجمہور ومرسل ومعلل ووزن الفاظ مفتین وسیر مراتب ناقلین وعرف عام وخاص وعادات بلاد واشخاص وحال زمان ومکان واحوال رعایا و سلطان وحفظ مصالح دین ودفع مفاسدین وعلم وجوہ تجریح واسباب ترجیح ومناہج توفیق ومدارک تطبیق ومسالک تخصیص ومناسک تقیید ومشارع قیود وشوارع مقصود وجمع کلام ونقد مرام فہم مراد کا نام ہے کہ تطلع تام واطلاع عام ونظر دقیق وفکر عمیق وطول خدمت علم و ممارست فن وتیقظ وافی وذہن صافی معتاد تحقیق مؤید بتوفیق کا کام ہے، اور حقیقۃً وہ نہیں مگر ایک نور کہ رب عزوجل بمحض کرم اپنے بندہ کے قلب میں القا فرماتا ہے:
وما یلقٰھا الا الذین صبروا وما یلقٰہا الا ذوحظ عظیم۔
اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو، اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا۔
صدہا مسائل میں اضطراب شدید نظر آتا ہے کہ ناواقف دیکھ کر گھبرا جاتا ہے مگر صاحب توفیق جب ان میں نظر کو جولان دیتا اور دامن ائمہ کرام مضبوط تھام کر راہ تنقیح لیتا ہے توفیق ربانی ایک سررشتہ اس کے ہاتھ رکھتی ہے جو ایک سچا سا نچا ہوجاتا ہے کہ ہر فرع خود بخود اپنے محمل پر ڈھلتی ہے اور تمام تخالف کی بدلیاں چھنٹ کر اصل مراد کی صاف شفاف چاندنی نکلتی ہے اس وقت کھل جاتا ہے کہ اقوال سخت مختلف نظر آتے تھے حقیقۃً سب ایک ہی بات فرماتے تھے، الحمد ﷲ فتاوائے فقیر میں اس کی بکثرت نظیریں ملیں گی۔”
(فتاوی رضویہ، جلد16، صفحہ376-377، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے:
“تفقہ فقط کتاب سے عبارت دیکھ لینے اور لفظی ترجمہ سمجھ لینے کا نام نہیں بلکہ مقصد شرع کا ادراک اور احوال بلاد وعباد پر نظر رکن اعظم تفقہ ہے،
درمختار میں ہے: “من لم یکن عالماً أهل زمانه فهو جاھل.”
ترجمہ: جو اپنے زمانہ والوں کے حالات نہیں جانتا وہ جاہل ہے۔
(فتاوی رضویہ، جلد11، صفحہ263، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے:
فتوٰی دینے کےلئے مفتی کو کتنا علم پڑھنا ضروری ہے اور کتنی مہارت علوم دینیہ میں ہونی چاہئے فقط۔
امام اہلسنت رحمہ ﷲ ارشاد فرماتے ہیں:
“حدیث و تفسیر واصول وادب وقدر حاجت ہیأت وہندسہ و توقیت اور ان میں مہارت کافی اور ذہن صافی اور نظر وافی اور فقہ کا کثیر مشغلہ اور اشغال دنیویہ سے فراغ قلب اور توجہ الی ﷲ اور نیت لوجہ ﷲ اور ان سب کے ساتھ شرط اعظم توفیق من ﷲ، جو ان شروط کا جامع، وہ اس بحر ذخار میں شناوری کرسکتا ہے مہارت اتنی ہو کہ اس کی اصابت اس کی خطا پر غالب ہو اور جب خطا واقع ہو رجوع سے عار نہ رکھے ورنہ اگر خواہی سلامت برکنار است (یعنی اگر سلامتی چاہتے ہو تو دور رہو )۔”
(فتاوی رضویہ، جلد18، صفحہ589-590، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
کتبه: ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی۔
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری۔
️مؤرخہ 25 شعبان المعظم 1446ھ بمطابق 24 فروری 2025ء، بروز پیر