ماہ رمضان یا جمعہ کے دن فوت ہونے والے کی فضیلت

ماہ رمضان یا جمعہ کے دن فوت ہونے والے کی فضیلت

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کہا جاتا ہے کہ ماہ رمضان یا جمعہ کے روز فوت ہونے والے شخص سے حساب و کتاب نہیں ہوگا،کیا یہ بات درست ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

احادیث مبارکہ میں رمضان المبارک یا جمعہ کے دن فوت ہونے والے شخص کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اللہ پاک رمضان میں فوت ہونے والے کی بخشش فرمادے گا اسی طرح جمعہ کے بارے میں بھی فضیلت ملتی ہے کہ اس سے حساب نہیں ہوگا۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ عذاب ہمیشہ کے لئے نہیں اٹھایا جائے گا بلکہ صرف رمضان کے مہینے یا جمعہ والے دن ہی عذاب نہیں ہو گا پھر بعد میں حساب و کتاب اور عذاب کا سلسلہ ہوگا جبکہ بعض کہتے ہیں کہ اللہ پاک ایسے بندے سے حساب وکتاب نہیں فرمائے گا بلکہ ہمیشہ کے لئے بخشش فرما دے گا اور یہی موقف اللہ عزوجل کی رحمت کے زیادہ قریب ہے۔

حلیۃ الاولیاء میں ہے:

”عن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من وافق موته عند انقضاء رمضان دخل الجنة ومن وافق موته عند انقضاء عرفة دخل الجنة ومن وافق موته عند انقضاء صدقة دخل الجنۃ“

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کی موت رمضان کے اختتام پر واقع ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔جس کی موت عرفہ کے دن کے اختتام پر واقع ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔جس کی موت صدقہ دینے کے بعد واقع ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔(حلیۃ الأولیاء، جلد 5، صفحہ 26، دار الکتب العلمیہ،بیروت)

ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے:

”عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ “

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو مرتا ہے، اللہ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے ۔(جامع ترمذی, کتاب الجنائز, باب ماجاء فیمن مات یوم الجمعۃ, الحدیث 1074،صفحہ 279، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ،بیروت)

حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے

”قوله : (وَيَأْمَنُ المَيت مِن عَذَابِ القبر) ظاهره : ولو كان كافرًا.قوله : (أَمِنَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ) ويكون من شهداء الآخرة، ولا يسأل أصلا أو سؤالا عنيفا .وذكر الشيخ عبد السلام في شرح الجوهرة ونحوه الملا علي قاري في شرح الفقه الأكبر أنه قيل : إن المؤمن إذا مات فيه، أو في ليلته يعذب ساعة، ثم لا يعود إليه العذاب .وأما الكافر فيعود إليه، وأفاد القاري أن هذا غير محقق الثبوت“

ترجمہ:صاحب درمختار کا قول “اور میت قبر کے عذاب سے امن میں ہوتی ہے” کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔صاحب درمختار کا قول “قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے” کا مطلب یہ ہے کہ وہ آخرت کے شہداء میں شمار ہوتا ہے، اور اس سے یا تو بالکل سوال نہیں کیا جاتا یا سختی کے ساتھ سوال نہیں کیا جاتا ہے۔شیخ عبد السلام نے شرح الجوہرة میں، اور اسی طرح ملا علی قاری نے شرح الفقہ الأکبر میں ذکر کیا ہے کہ کہا جاتا ہے: اگر کوئی مومن اس میں (یعنی جمعہ میں) یا اس کی رات میں فوت ہو جائے تو اسے ایک ساعت کے لیے عذاب دیا جاتا ہے، پھر اس پر دوبارہ عذاب نہیں آتا۔

رہا کافر، تو اس پر عذاب لوٹ آتا ہے۔ اور ملا علی قاری نے وضاحت کی ہے کہ یہ بات قطعی طور پر ثابت نہیں۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ، باب الجمعۃ،،جلد 2،صفحہ 644،دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ابو المعین علامہ میمون بن محمد نسفی رحمہ اللہ تعالیٰ(متوفی 508ھ) بحر الکلام میں فرماتے ہیں:

”ثم إن المؤمن على وجهين، إن كان مطيعاً لا يكون له عذاب القبر ويكون له ضيقه فيجد هول ذلك وخوفه لما أنه كان [قد] تنعم بنعمةالله تعالى ولم يشكر النعمة، وإن كان عاصياً يكون له عذاب القبر وضيقه لكن ينقطع عنه عذاب القبر يوم الجمعة، ثم لا يعود العذاب إلى يوم القيامة، وإن مات يوم الجمعة أو ليلة الجمعة يكون له العذاب ساعة وضيقه كذلك ثم ينقطع عنه العذاب ولا يعود إلى يوم القيامة“

ترجمہ:پھر مؤمن دو طرح کا ہوتا ہے۔ اگر وہ مطیع (فرمانبردار) ہو تو اسے عذابِ قبر نہیں ہوگا، لیکن اسے قبر کی تنگی ضرور محسوس ہوگی اور وہ اس کی ہیبت اور خوف کو پائے گا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے کبھی لطف اندوز ہوتا رہا مگر اس نعمت کا شکر ادا نہیں کیا۔ اگر وہ گناہ گار ہو تو اسے عذابِ قبر اور تنگی دونوں ہوں گے، لیکن جمعہ کے دن اس سے عذابِ قبر اٹھا لیا جائے گا اور پھر قیامت تک واپس نہیں آئے گا۔ اور اگر وہ جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہو تو اسے صرف ایک گھڑی کے لیے عذاب اور تنگی ہوگی، پھر وہ عذاب ختم ہوجائے گا اور قیامت تک نہیں لوٹے گا۔(بحر الکلام ,الباب الخامس, الفصل الثالث, المبحث الاول:سوال القبر وعذابہ,صفحہ 250تا 251,مطبوعہ مکتبہ دارالفرفور)

رد المحتار میں ہے :

”قال أهل السنة والجماعة: عذاب القبر حق وسؤال منكر ونكير وضغطة القبر حق، لكن إن كان كافراً فعذابه يدوم إلى يوم القيامة ويرفع عنه يوم الجمعة وشهر رمضان، فيعذب اللحم متصلاً بالروح والروح متصلاً بالجسم فيتألم الروح مع الجسد، وإن كان خارجاً عنه، والمؤمن المطيع لا يعذب بل له ضغطة يجد هول ذلك وخوفه، والعاصي يعذب ويضغط لكن ينقطع عنه العذاب يوم الجمعة وليلتها، ثم لا يعود وإن مات يومها أو ليلتها يكون العذاب ساعةً واحدةً وضغطة القبر ثم يقطع“

ترجمہ:اہلِ سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ عذابِ قبر برحق ہے، اور منکر و نکیر کے سوالات اور قبر کی سختی بھی برحق ہیں۔ لیکن اگر مرنے والا کافر ہو تو اس کا عذاب قیامت تک جاری رہتا ہے، البتہ جمعہ کے دن اور رمضان المبارک کے مہینے میں اس سے عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔ عذاب جسم اور روح دونوں پر ہوتا ہے، یعنی روح جسم سے متصل ہو تو جسم کے ساتھ روح بھی تکلیف محسوس کرتی ہے، اور اگر جسم سے جدا ہو تو بھی عذاب برداشت کرتی ہے۔مومن جو اطاعت گزار ہو، اسے عذاب نہیں دیا جاتا، البتہ اسے قبر کی سختی (دباؤ) ضرور محسوس ہوتی ہے، جو ایک طرح کا ہول اور خوف ہوتا ہے۔ گناہ گار مومن کو عذاب دیا جاتا ہے اور قبر کی سختی بھی ہوتی ہے، لیکن جمعہ کے دن اور اس کی رات کو عذاب موقوف کر دیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ نہیں آتا۔ اگر کوئی شخص جمعہ کے دن یا اس کی رات میں فوت ہو تو اسے صرف ایک گھڑی کے لیے عذاب اور قبر کی سختی ہوتی ہے، پھر وہ سختی اور عذاب ختم ہو جاتا ہے۔ (ردالمحتار ,جلد 3, کتاب الصلوٰۃ, باب الجمعۃ, صفحہ 49, مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیْہ الرحمۃ سےسوال ہوا کہ جمعرات کو مرنے والا شخص دائماً عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا یا عارضی طور پر؟ تو آپ رحْمۃاللہ تعالی عَلیْہ نے جواب ارشاد فرمایا:

”جمعرات کے لیے کوئی حکم نہیں آیا، شبِ جمعہ اور رمضان مبارک میں ہر روز کے واسطے یہ حکم ہے کہ جو مسلمان ان میں مرے گا سوالِ نکیرین وعذابِ قبر سے محفوظ رہے گا، وﷲ اکرم ان یعفو من شیئ ثم یعود فیہ،اللہ تعالیٰ اِس سے زیادہ کریم ہے کہ ایک شے کو معاف فرما کر پھر اُس پر مؤاخذہ کرے۔“(فتاوی رضویہ، جلد9،رسالہ روحوں کا بعد وفات اپنے گھر آنا, صفحہ661, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ

محمد عرفان مدنی قصوری

28 رمضان المبارک 1446ھ بمطابق 29 مارچ 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں