قیامت کے دن کیا کفار کو بھی دیدار الٰہی ہوگا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا قیامت کے دن صرف مسلمانوں کو اللہ پاک کا دیدار ہوگا یا کفار کو بھی ہوگا؟ نیز کیا جنت میں جنتیوں کو روزانہ دیدار الہٰی نصیب ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق والصواب
قیامت کے دن مسلمان اور کافر سب کو دیدار الہٰی ہوگا، مسلمان کو رحمت کے ساتھ دیدار نصیب ہوگا اور کافر کو غضب وقہر کے ساتھ دیدار ہوگا۔ جنت میں اللہ پاک کا دیدار حسب مراتب ہوگا عام جنتیوں کو ہفتہ میں ایک بار اور جو خاص معزز جنتی ہوں گے ان کو دن میں دو مرتبہ یعنی صبح وشام دیدار الہٰی نصیب ہوگا اور بعضوں کو جب چاہیں۔
صحیح بخاری میں ہے:
”عَنْ جَرِيرِ قَالَ:كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةً يَعْنِي الْبَدْرَ فَقَالَ:إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ، كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ“
ترجمہ: حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگارہ میں حاضر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودھویں کے چاند کی طرف نگاہ مبارک اٹھائی اور فرمایا تم (قیامت کے دن) اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو اب دیکھ رہے ہواس کو دیکھنے میں تم کوئی شک نہیں کرتے۔( صحيح البخاري جلد1، ص203، رقم الحدیث529، مطبوعہ دار ابن کثیر،دمشق)
حاوی للفتاوی میں ہے:
”رُؤْيَةُ اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْمَوْقِفِ حَاصِلَةٌ لِكُلِّ أَحَدٍ، الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ بِلَا نِزَاعٍ، وَذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ إِلَى أَنَّهَا تَحْصُلُ فِيهِ لِلْمُنَافِقِينَ أَيْضًا. وَذَهَبَ آخَرُونَ مِنْهُمْ إِلَى أَنَّهَا تَحْصُلُ لِلْكَافِرِينَ أَيْضًا، ثُمَّ يُحْجَبُونَ بَعْدَ ذَلِكَ لِيَكُونَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً، وَلَهُ شَاهِدٌ رُوِّينَاهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ“
ترجمہ: قیامت کے دن میدان محشر میں ہر ایک مرد وعورت کو بلا اختلاف اللہ پاک کا دیدار نصیب ہوگا۔ علمائے اہلسنت کا ایک گروہ فرماتا ہے کہ یہ دیدار الہٰی منافقین کو بھی حاصل ہوگا ۔بلکہ علمائے متاخرین فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن کفار کو بھی بھی دیدار الہٰی ہوگا، پھر اس کے بعد ان سے یہ دیدار چھپا لیا جائے گا تاکہ وہ حسرت (کے عذاب) میں رہیں۔ اس روایت پر وہ روایت شاہد ہے جو امام حسن بصری علیہ الرحمہ سے مروی ہے۔(حاوی للفتاوی جلد2، صفحہ 240، دارالفکر بیروت)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
”أَنَّ رُؤْيَةَ اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْمَوْقِفِ حَاصِلَةٌ لِكُلِّ أَحَدٍ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، حَتَّى قِيلَ لِلْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ أَيْضًا، ثُمَّ يُحْجَبُونَ بَعْدَ ذَلِكَ ; لِيَكُونَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً“
ترجمہ: قیامت کے دن میدان محشر میں ہر ایک مرد وعورت کو اللہ پاک کا دیدار نصیب ہوگا ،حتیٰ کہ منافقین اور کفار کو بھی دیدار الہٰی ہوگا مگر پھر اس کے بعد چھپا لیا جائے گا تاکہ ان پر حسرت(کا عذاب) ہو۔(مرقاۃ المفاتیح جلد8،صفحہ 3548، رقم الحدیث 5578، دارالفکر ،بیروت)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” قیامت میں ہرمؤمن و کافر کو رب کا دیدار ہوگا۔ مؤمن کو رحمت کی شان میں اور کافر کو غضب وقہر کی شان میں۔ قیامت کے بعد صرف مؤمنوں کو جنت میں دیدار الہٰی ہوا کرے گا،کفار کو دوزخ میں نہ ہوگا۔“(مرآۃ المناجیح جلد 7، ص 375، مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)
تفسیر ابن رجب حنبلی میں ہے:
”أنّ أعْلى أهلِ الجنَّة منزلةً من ينظر في وجْهِ اللَّه عز وجل مرتين بُكْرة وعشيا، وعُمومُ أهلِ الجنَّة يرونه في كلِّ جمعةٍ “
ترجمہ: جو اعلی قدرو منزلت والے جنتی ہوں گے وہ دن میں دو مرتبہ صبح وشام اللہ پاک کا دیدار کریں گے۔ اور عام جنتی ہر جمعہ والے دن دیدار الہٰی سے مشرف ہوں گے۔(روائع التفسير (الجامع لتفسير الإمام ابن رجب الحنبلي)،جلد2،صفحہ521،دار العاصمة،السعودية)
سنن ترمذی میں ہے:
” وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غَدْوَةً وَعَشِيَّةً“
ترجمہ: اللہ پاک کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا ہوگا جو صبح وشام اس ذات کے جلوے دیکھے گا۔(سنن ترمذی جلد 4،ص 688رقم الحدیث 2553، مطبوعہ مصطفی البابی مصر)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”جنتیوں کو رب کا دیدار حسب مراتب ہوگا کسی کو ہفتہ میں ایک بار کسی کو روزانہ دو بار کسی کو ہر وقت جیسے دنیا میں بعض لوگ ہر وقت عشق الہٰی میں محو رہتے ہیں بعض کبھی کبھی۔“(مرآۃ المناجیح جلد 7، ص 378، مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ابو حسان ضیاءاللہ چشتی مدنی
28شوال المکرم 1446ھ بمطابق 27اپریل 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری