دعائے قنوت کی جگہ فاتحہ پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ وتر میں دعائے قنوت کی جگہ الحمد شریف پڑھ لی تو کیا حکم ہوگا؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وتر میں دعائے قنوت جو احادیث سے ثابت ہے وہی پڑھنی چاہیے کہ یہ سنت ہے، البتہ اگر اس دعاکے علاوہ سورة فاتحہ بنیت دعا پڑھ لی تو نماز ہو جائے گی اور سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوگا، کیونکہ دعا جو ثناء کے معنی میں ہو پڑھی جاسکتی ہے اور سورة فاتحہ بھی دعا کے معنی پر مشتمل ہے۔
در مختار میں ہے
” وأما خصوص: «اللهم إنا نستعينك» فسنة “
ترجمہ:باقی”اللہم إنا نستعینک” جیسی مخصوص دعا سنت ہے۔ (رد المحتار، جلد 1 ، صفحہ 468 ، مطبوعہ کوئٹہ)
بحر الرائق میں ہے:
”واتفقوا على أنه لو دعا بغيره جاز “
ترجمہ : فقہائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی اس ( معروف دعا ) کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے ، تویہ بھی جائز ہے ۔( البحر الرائق ، کتاب الصلوٰۃ ، باب صفۃ الصلوٰۃ ، القنوت فی الوتر ، جلد 1 ، صفحہ 318 ، بیروت )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
” وليس في القنوت دعاء مؤقت كذا في التبيين. و الأولي أن يقرأ : اللّهم إنا نستعينك و يقرأ بعده اللّهم اهدنا فيمن هديت. و من لم يحسن القنوت يقول: “ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة و قنا غذاب النار”، كذا في المحيط. أو يقول: اللّهم اغفرلنا، و يكرر ذلك ثلاثاً، وهو اختيار أبي الليث، كذا في السراجية اھ….“
ترجمہ: اور قنوت میں کوئی دعا مقرر نہیں ہے ایساہی تبیین الحقائق میں ہے اور بہتر یہ ہے کہ اللھم انا نستعینک الخ. پڑھے اور اس کے بعد اللھم اھدنا فیمن ھدیت پڑھے اور جسے دعائے قنوت اچھی طرح یاد نہ ہو تو وہ اللھم ربنا آتنا فی الدنیا الخ. پڑھے ایساہی محیط میں ہے،یا اللھم اغفرلنا تین مرتبہ پڑھے اور وہ ابو اللیث کی اختیار کردہ ہے، ایساہی فتاویٰ سراجیہ میں ہے۔(فتاویٰ ھندیہ ، جلد 1 صفحہ 111، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
الدر المختار میں ہے
”(و) قراءة (قنوت الوتر) وهو مطلق الدعاء وكذا تكبير قنوته(قوله: وقراءة قنوت الوتر) أقحم لفظ (قراءة) إشارة إلى أن المراد بالقنوت الدعاء لا طول القيام، كما قيل، وحكاهما في المجتبى، وسيجيء في محله. ابن عبد الرزاق: ثم وجوب القنوت مبني على قول الإمام: وأما عندهما فسنة، فالخلاف فيه كالخلاف في الوتر كما سيأتي في بابه (قوله: وهو مطلق الدعاء) أي القنوت الواجب يحصل بأي دعاء كان في النهر، وأما خصوص: «اللهم إنا نستعينك» فسنة فقط، حتى لو أتى بغيره جاز إجماعا“
ترجمہ:(اور) قنوت الوتر پڑھنا یعنی دعا پڑھنا، اور اسی طرح اس کی تکبیر بھی۔( اور اس کا قول کہ قنوت الوتر پڑھنا) لفظ “تلاوت” کا استعمال اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ قنوت سے مراد دعا ہے، نہ کہ طویل قیام جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، اور یہ بات المجتبیٰ میں بھی نقل کی گئی ہے جیسا کہ اس کے مقام پر آگے ذکر ہوگا۔ ابن عبد الرزاق(کا فرمان): پھر قنوت کاواجب ہونا امام کے قول پر مبنی ہے، اور ان دونوں کے مطابق یہ سنت ہے، اس لیے اس میں اختلاف ویسا ہی ہے جیسے وتر کے بارے میں ہوگا جیسا کہ اس کے باب میں آئے گا۔ ( اور اس کا قول دعا کا مطلق ہونا) یعنی قنوت واجب کسی بھی دعا سے ادا ہو سکتی ہے، اور “اللہم إنا نستعینک” جیسی مخصوص دعا صرف سنت ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی اور دعا پڑھے تو اجماعاً یہ جائز ہے۔ (رد المحتار، جلد 1 ، صفحہ 468 ، مطبوعہ کوئٹہ)
اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:
’’ نماز صحیح ہوجانے میں تو کلام نہیں ، نہ یہ سجدہ سہو کا محل کہ سہواً کوئی واجب ترک نہ ہوا ۔ دعائے قنوت اگر یاد نہیں ، یاد کرنا چاہیے کہ خاص اس کا پڑھنا سنت ہے اور جب تک یاد نہ ہو اللھم ربنا اٰتنافی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار پڑھ لیا کرے ۔ یہ بھی یاد نہ ہو ، تو اللھم اغفرلی تین بار کہہ لیا کرے ۔ یہ بھی یادنہ آئے ، تو صرف یارب تین بار کہہ لے ، واجب ادا ہوجائے گا ۔رہا یہ کہ قل ھواللہ شریف پڑھنے سے بھی یہ واجب ادا ہوا کہ نہیں اتنے دنوں کے وتر کا اعادہ لازم ہو ظاہر ہے کہ ادا ہوگیا کہ وہ ثنا ہے اور ہر ثنا دعا ہے۔“(فتاوٰی رضویہ،جلد7،ص485،مطبوعہ رضافاؤنڈیشن ، لاهور )
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہارِ شریعت میں لکھتے ہیں:
” دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے ، جب بھی حرج نہیں ۔ “( بہارِ شریعت ، حصہ 4 ، جلد 1 ، صفحہ 654 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
ممبر الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی
01 شعبان المعظم 1446ھ 31 جنوری 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری