خود کو کسی طریقے سے نامرد کرلینا

خود کو کسی طریقے سے نامرد کرلینا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے ٹیکے لگوا کر خود کو نامردکر لیا ہے اب اس پر کونسے جنسی احکام لاگو ہوں گے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی بھی طریقے سے خود کو نامرد کرنا حرام ہے کہ حدیث پاک میں اس کی ممانعت مذکور ہے۔یہ عمل خود کو خصی کرنےکے زمرے میں آئے گا ۔ خصی سے مراد یہ ہے کہ جس کے انثیین نکال لیے گئے ہوں جب کہ عنین سے مراد وہ شخص ہے جس کا آلہ موجود ہو مگر وہ جماع پر قادر نہ ہو۔ یہ دونوں مرد کے حکم میں ہیں،عورت کو ان سے پردہ بھی کرنا ہوگا اور ان کی خلوت صحیحہ شمار ہوگی کہ بعد طلاق عورت پر عدت واجب ہوگی۔

صحيح البخاري میں ہے

”حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد، عن إسماعيل، عن قيس، عن عبد الله رضي الله عنه، قال: ” كنا نغزو مع النبي صلى الله عليه وسلم وليس معنا نساء، فقلنا: ألا نختصي؟ فنهانا عن ذلك، فرخص لنا بعد ذلك أن نتزوج المرأة بالثوب ” ثم قرأ: {يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم} [المائدة: 87]“

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں، چناں چہ ہم (یعنی بعض صحابہ) نے عرض کیا: کیا ہم خصی نہ ہوجائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا، اور اس کے بعد ہمیں رخصت دے دی کہ ایک جوڑے کپڑے (مہر) کے بدلے ہم نکاح کرلیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اے ایمان والو! حرام نہ کرو وہ پاکیزہ چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔(صحيح البخاري ، جلد 1 ، صفحہ 234، قدیمی کتب خانہ)

سنن نسائی میں ہے

” عن سعد بن ابي وقاص، قال: لقد رد رسول الله صلى الله عليه وسلم على عثمان التبتل ولو اذن له لاختصينا“

ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو مجرد (غیر شادی شدہ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا، اور اگر آپ انہیں اس کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔(سنن نسائی، جلد 1 ، صفحہ 213، حدیث 3214، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)

كتاب الزہد لابن المبارک میں ہے:

” لیس منا مَن خصی ولا اختصیٰ، إن خصاء أمتي الصیام“

ترجمہ:جس نے کسی کو خصی کیا یا اپنے آپ کو خصی کیا تو وہ ہم میں سے نہیں، کیونکہ میری امت کا خصی ہونا روزے ہیں ۔(کتاب الزہد لابن المبارک،باب التواضع،رقم الحدیث:845،ص:336،دارالکتب العلمیہ)

عمدة القاری میں ہے

” نھانا عن ذالك، یعني : عن الاختصاء، وفیه تحریم الاختصاء لما فیه من تغییر خلق اللہ تعالیٰ، ولما فیه من قطع النسل و تعذیب الحیوان“

ترجمہ: اس حدیث سے خصی ہونے کی حرمت کا پتاچلتا ہے، اور یہ حرمت اس وجہ سے ہے کہ اس فعل میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تغییر و تبدیلی کرنا اور نسلِ انسانی کو ختم کرنا اور کسی جاندار کو عذاب دینا پایا جاتا ہے۔(عمدۃ القاري، کتاب التفسیر، باب قوله تعالیٰ:’’یا أیھا الذین اٰمنوا لا تحرموا طیبات ما احل اللہ لکم‘‘، جلد 18صفحہ280، دار الکتب العلمیة)

مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

اس لیے کہ وہ نسل انسانی بندکرتا ہے،انسان کی بقاء سے اسلام کا بقاءہے۔اس سے معلوم ہوا کہ قاطع باہ دوائیں کھانا اور کھلانا حرام ہیں،نیزعورتوں کے رحم نکال دینا یا انہیں ناقابل اولاد بنادینا بھی حرام ہے جب زنا کے لیے ہویانسل بندکرنے کے لیے۔۔ کیونکہ روزے سے شہوت ٹوٹتی ہے۔معلوم ہوا کہ جو لوگ نکاح نہ کرسکیں وہ اپنے کو نامرد نہ بنائیں بلکہ روزے رکھا کریں۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:724، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے

”ﻭاﻟﻌﻨﻴﻦ ﻣﻦ ﻻ ﻳﻘﺪﺭ ﻋﻠﻰ ﺇﺗﻴﺎﻥ اﻟﻨﺴﺎء“

ترجمہ: عنین وہ ہے جو عورتوں کے پاس آنے کی قدرت نا رکھتا ہو( یعنی جماع نہ کر سکے۔)(بنایہ ،کتاب اطلاق باب احکام العنین ،وغیرہ جلد 5، صفحہ 583، دار الکتب العلمیہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

”خصی یعنی جس کے انثیین نکال لیے گئے ہوں۔“(بہار شریعت ،جلد 3 ، حصہ 16، صفحہ 451، مکتبہ المدینہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے :

”عنین اُس کو کہتے ہیں کہ آلہ موجود ہو اور زوجہ کے آگے کے مقام میں دخول نہ کرسکے اور اگر بعض عورت سے جماع کرسکتا ہے اور بعض سے نہیں یا ثیب کے ساتھ کر سکتاہے اوربِکر کے ساتھ نہیں تو جس سے نہیں کرسکتا اُس کے حق میں عنین ہے اور جس سے کر سکتا ہے اُس کے حق میں نہیں ۔ اس کے اسباب مختلف ہیں مرض کی وجہ سے ہے یا خلقۃً ایسا ہے یا بُڑھاپے کی وجہ سے یا اس پر جادو کردیا گیا ہے۔“(بہار شریعت ، جلد 2 ،حصہ 8، صفحہ 230، مکتبہ المدینہ کراچی)

ہدایہ میں ہے

”والخصي في النظر إلى الأجنبية كالفحل” لقول عائشة رضي الله عنها: الخصاء مثلة فلا يبيح ما كان حراما قبله ولأنه فحل يجامع“

یعنی اجنبی عورت کو دیکھنے میں خصی کام مرد کی طرح ہے ۔ ا س کی دلیل بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا فرمان ہے کہ خصی کرنا مثلہ ہے۔ پس جو امر خصی ہونے سے پہلے حرام تھا وہ حرام نہیں ہو گا، نیز اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک کامل مرد ہے جو زن وشو کا تعلق قائم کر سکتا ہے۔(الهداية في شرح بداية المبتدي، جلد 4 ، صفحہ 372، مطبوعہ بیروت)

عنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

”(ولها كمال المهر إن كان خلا بها لأن خلوة العنين صحيحة) ۔۔۔۔ (ويجب العدة) لتوهم الشغل احتياطا استحساناً۔“

یعنی نامرد نے عورت سے خلوت کرلی ہو تو اُس کی عورت کو پورا مہر ملے گا کہ نامرد کی خلوت درست ہوتی ہے ۔۔ ۔ ۔ ہاں اُس کی عورت پر استحساناً احتیاط کے طور پر عدت لازم ہوگی کیونکہ ممکن ہے کہ عورت کو حمل ٹھہر چکا ہو ۔(العنایۃ شرح الھدایۃ، کتاب الطلاق، ج 04، ص 300، دار الفکر، ملتقطاً)

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فتاوٰی رضویہ میں نامرد سے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :”جب ا س طرح سال کامل گزر جائے ا ور زید (عنین)ہندہ پر قدرت نہ پائے تو اس وقت بطلب ہندہ زید وہندہ میں تفریق کردی جائے، اب بعد عدت ہندہ کو اختیار نکاح ہوگا۔”وکل ماذکر نا مفصل فی الدرالمختار و ردالمحتار والفتاوی الخیریہ وغیرھا من الکتب الفقہیۃ۔(جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے ، وہ مفصل طور پر درمختار، ردالمحتار اور فتاوٰی خیریہ وغیرہ کتب میں موجود ہے)”۔ “(فتاوٰی رضویہ،ج11،ص196،رضافاونڈیشن،لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے:

” شوہر کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے یا انثیین نکال ليے گئے ہیں یا عنین (نامرد)ہے یا خنثیٰ ہے اور اس کا مرد ہونا ظاہر ہوچکا تو ان سب میں خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد عورت کو طلاق دی تو مہر پورا واجب ہوگا، جبکہ نکاح بھی صحیح ہو ۔۔۔۔۔ خلوتِ صحیحہ کے یہ احکام بھی ہیں: طلاق دی تو عورت پر عدّت واجب، بلکہ عدّت میں نان و نفقہ اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب ہے۔“(بہارِ شریعت، ج02، ص70، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

ممبر الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی

29شعبان المعظم 1446ھ 27 جنوری 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں