بیٹھ کر اذان دینےکا حکم
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اذان کھڑے ہو کر دینا ضروری ہے؟ اگر کوئی بیٹھ کر اذان دیتا ہے تو کیا اذان ہو جائے گی یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
واضح رہے کہ کھڑے ہو کر اذان دینا سنت ہے، اور بیٹھ کر اذان دینے کو فقہائے کرام نے مکروہ قرار دیا ہے۔ اگر کسی نے بیٹھ کر اذان دی تو ایسی اذان کا اعادہ کیا جائے ۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
“ویکرہ الاذان قاعدا، وإن أذن لنفسہ قاعدا فلا بأس بہ”
ترجمہ: “بیٹھ کر اذان دینا مکروہ ہے، اور اگر کوئی صرف اپنے لیے بیٹھ کر اذان دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔”
(الفتاوی الھندیہ، جلد 1، کتاب الصلوۃ، صفحہ 60، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
رد المحتار میں ہے:
“ویکرہ أذان جنب (إلی قولہ) وقاعد وقولہ ویعاد أذان جنب الخ زاد القھستانی والفاجر والراکب والقاعد والماشی والمحرف عن القبلۃ وعلل الوجوب فی الکل بانه غیر معتد به، والندب بانه معتد به الا انه ناقص، قال وھو الاصح کما فی التمرتاشی”
ترجمہ: “جنبی (جس پر غسل فرض ہو) اور بیٹھ کر اذان دینا مکروہ ہے۔ اور ان کا قول ہے کہ جنبی کی اذان دہرائی جائے۔ قہستانی نے اس میں فاجر، سوار، بیٹھا ہوا، چلتا ہوا، اور قبلہ سے منحرف شخص کا بھی اضافہ کیا ہے۔ اور ان سب میں واجب ہونے کی وجہ یہ بیان کی کہ ان اذانوں کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور اعادہ مستحب ہونے کی وجہ یہ بیان کی کہ ان کا اعتبار تو ہے، لیکن وہ ناقص ہیں۔ کہا کہ یہی صحیح ہے جیسا کہ تمرتاشی میں ہے۔”
(الدرر المختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 392، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
“بہار شریعت” میں ہے:
“بیٹھ کر اذان دینا مکروہ ہے، اگر کہی جائے تو اعادہ کرے۔”
(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 468، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، دعوت اسلامی)
المختصر: بیٹھ کر اذان دینا خلاف سنت و مکروہ ہے اگر کسی نے دی تو اس کا اعادہ کیا جائے گا۔
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وسلم بالصواب
کتبہ: ابو یوسف علی حسن مدنی
مورخہ: 7 ربیع الثانی 1446ھ، 11 اکتوبر 2024ء