اعتکاف میں خیمے لگانا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اعتکاف کے لئے مسجد میں صفوں کی ایک یا دونوں جانب خیمے لگائے جاتے ہیں آیا کہ یہ خیمے لگانا جائز ہیں ؟نیزاس صورت میں بوقت جماعت صفوں سے خیمے ہٹا کر صفوں کو دونوں کونوں تک پورا کرنا واجب ہے یا اعتکاف کی صورت میں قطع صف کی رخصت ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ اعتکاف سے مقصود تنہا ہوکر اللہ عزوجل کی عبادت کرنا ہے اور اس کے لئے مسجد میں خیمے لگانا جائز و بہتر ہے کہ یہ احادیث سے ثابت ہے۔مقصد ان خیموں کا یہ ہوتا ہے کہ معتکفین یکسوئی کے ساتھ عبادت کرسکیں۔ لیکن یہ خیمے لگانا کوئی ضروری نہیں ہیں۔نیز اس صورت میں بوقت جماعت قطع صف کی رخصت نہیں بلکہ خیموں کو ہٹا کر صفوں کو دونوں کونوں تک پورا کرنا واجب ہے ۔
بخاری شریف میں ہے
”عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَكَانَ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ“
ترجمہ:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نماز فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، آپ ﷺ کے حکم پر مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا گیا۔(صحیح البخاری, کتاب الصیام, باب الاعتکاف , حدیث 2033 ,صفحہ 366 ,دار الکتب العلمیہ ،بیروت)
صحیح مسلم میں حدیث پاک ہے
”عن أبی سعيد الخدري قال ان رسول اله صلی الله عليه وسلم اعتكف العشر الأول من رمضان ثم اعتكف العشر الأوسط في قبة تركية على سدتها حصير قال فاخذ الحصير بيده فنحّاھا في ناحية القبة ثم أطلع راسه فكلم الناس فدنوا منه فقال اني اعتکفتُ العشر الأول ألتمس هذه الليلة ثم اعتكفت العشر الأوسط ثم أتیت فقیل لی انھا فی العشر الأواخر فمن أحب منکم أن یعتکف فلیعتکف فاعتکف الناس معہ“
ترجمہ :حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورا قدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا،پھر ایک ترکی خیمہ میں رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا جس کے دروازے پر چٹائی لگی ہوئی تھی۔آپ نے اپنے ہاتھ سے وہ چٹائی ہٹائی اور خیمہ کے ایک کونے میں کر دی،پھر خیمہ سے سر باہر نکالا اور لوگوں سے فرمایا:’’میں اس رات (یعنی لیلۃ القدر)کی تلاش میں پہلے عشرے کا اعتکاف کرتا تھا،پھر میں درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھا،پھر میرے پاس کوئی(فرشتہ ) آیا تو میری طرف وحی کی گئی کہ یہ آخری عشرے میں ہے، تم میں سے جس شخص کو پسند ہو وہ اعتکاف کرے،چنانچہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا۔ (صحیح مسلم، جلد اول, کتاب الصیام، باب فضل لیلۃ القدر۔۔۔، صفحہ 370 ، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
البحر الرائق شرح کنزالدقائق میں ہے
”ومحاسنہ کثیرۃ لان فیہ تفریغ القلب عن امور الدنیا وتسلیم النفس الی المولی والتحصن بحصن حصین وملازمۃ بیت رب کریم فھو کمن احتاج الی عظیم فلازمہ حتی قضی مآربہ فھو یلازم بیت ربہ لیغفرلہ “
ترجمہ:اور اعتکاف کی بہت سی خوبیاں ہیں، کیونکہ اس میں دل کو دنیاوی امور سے فارغ کرنا، اپنی جان کو اللہ کے سپرد کرنا، ایک مضبوط قلعے میں پناہ لینا، اور کریم رب کے گھر کی ملازمت اختیار کرنا شامل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو کسی بڑے (شخص) کی ضرورت ہو اور وہ اس کے در پر جم کر بیٹھ جائے یہاں تک کہ اس کی حاجت پوری ہو جائے۔ پس اعتکاف کرنے والا بھی اپنے رب کے گھر کو لازم پکڑ لیتا ہے تاکہ اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے۔(البحر الرائق, جلد 2 ,کتاب الصوم, باب الاعراف, صفحہ 523 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
وقار الفتاویٰ میں ہے :
”پردے میں بیٹھنا لازم نہیں ہے بلکہ بہتر ہے۔ رات میں ان چٹائیوں کو اٹھا کر جو مسجد میں بچھی ہوئی ہوتی تھیں گھیر کر ایک حجرہ کی طرح بنا دیا جاتا تھا اس کے اندر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت فرمایا کرتے تھے۔“ (وقارالفتاوی، جلد 2 ، صفحہ 436، مطبوعہ بزم وقارالدین، کراچی)
سنن ابی داؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
” اقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بايدي إخوانكم، لم يقل عيسى: بايدي إخوانكم، ولا تذروا فرجات للشيطان، ومن وصل صفا وصله الله ومن قطع صفا قطعه الله“
ترجمہ:تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اور (صفوں کے اندر کا) شگاف بند کرو، اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے(نامکمل چھوڑے) گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا۔(سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ،باب تسویۃ الصفوف، الحدیث 666 )
رد المحتار میں علامہ شامی فرماتے ہیں
”فلو وقف فی الصف الثانی داخلھا قبل استکمال الصف الأول من خارجھا یکون مکروھا“
ترجمہ:اگر کوئی شخص دوسری صف میں کھڑا ہو، جبکہ پہلی صف مکمل نہ ہوئی ہو، تو یہ مکروہ ہوگا۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ،باب الامامۃ،جلد 2، صفحہ 373، رشیدیہ کوئٹہ)
علامہ شامی مزید آگے فرماتے ہیں
”کرہ لأن فیہ ترکا لاِکمال الصفوف ..ھل الکراھۃ فیہ تنزیھیۃ أو تحریمیۃ, ویرشد الی الثانی قولہ علیہ السلام “ومن قطعہ قطعہ اللہ“
ترجمہ:یہ مکروہ ہے کیونکہ اس میں صفوں کو مکمل کرنے کو ترک کرنا پایا جاتا ہے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگلی صف مکمل نہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے یا تحریمی ؟ تو سرکار علیہ السلام کا فرمان” جو صف کو توڑے اسے اللہ توڑدے” اس کے مکروہ تحریمی ہونے کی رہنمائی کرتا ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب الصلوٰۃ، باب الامامۃ،جلد2، صفحہ 374، رشیدیہ کوئٹہ)
اسی طرح فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت صفوں میں کن کن باتوں کا خیال ضروری ہے اس طرح کے ایک سوال کا طویل جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
”دربارہ صفوف شرعاً تین باتیں بتاکیداکیدماموربہ ہیں اور تینوں آج کل معاذاللہ کالمتروک ہورہی ہیں، یہی باعث ہے کہ مسلمانوں میں نااتفاقی پھیلی ہوئی ہے۔
اول تسویہ کہ صف برابر ہوخم نہ ہو کج نہ ہو مقتدی آگے پیچھے نہ ہوں سب کی گردنیں شانے ٹخنے آپس میں محاذی ایک خط مستقیم پرواقع ہوں۔
دوم : اتمام کہ جب تک ایک صف پوری نہ ہو دوسری نہ کریں اس کا شرع مطہرہ کو وہ اہتمام ہے کہ اگرکوئی صف ناقص چھوڑے مثلاً ایک آدمی کی جگہ اس میں کہیں باقی تھی اسے بغیر پوراکئے پیچھے اور صفیں باندھ لیں، بعد کو ایک شخص آیا اس نے اگلی صف میں نقصان پایا تو اسے حکم ہے کہ ان صفوں کو چیرتاہوا جاکروہاں کھڑا ہو اور اس نقصان کو پوراکرے کہ انہوں نے مخالفت حکم شرع کرکے خود اپنی حرمت ساقط کی جو اس طرح صف پوری کرے گا اللہ تعالٰی اس کے لئے مغفرت فرمائے گا۔۔۔
سوم: تراصّ یعنی خوب مل کر کھڑاہونا کہ شانہ سے شانہ چھلے۔۔۔۔ یہ تینوں امر شرعا واجب ہیں جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی خوب تحقیق کی ہے اور بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں۔“(ملخص از فتاوی رضویہ ،جلد 7 صفحہ 219 تا 223 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد عرفان مدنی قصوری
ممبر فقہ کورس (الرضا قرآن و فقہ اکیڈمی )
23 رمضان المبارک 1446ھ بمطابق24مارچ 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری