میڈیکل سٹور والے کا اصل مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو مفت میں دوائی دینا
سوال: مفتی صاحب،میرا ایک جاننے والا میڈیکل سٹور پر کام کرتا ہے ، اس سے میں نے دوائی مانگی ، اس نے مالک کو بتائے بغیر دوکان سے اٹھا کر مجھے فری میں دے دی ، کیا یہ درست ہے اور یہ دوائی میرے لیے حلال ہے یا حرام؟
(سائل: اللہ دتہ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
میڈیکل سٹور یا کسی بھی دکان پر کام کرنے والوں کو ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو فری میں دوائی یا کوئی اور چیز دینے کی شرعا اجازت نہیں ، اگر دی تو اس دوائی وغیرہ کی قیمت اپنی طرف سے ادا کرنا ہو گی ، یا مالک کو بتا کر معاف کروانا لازم ہے ورنہ گنہگار ہوں گے ،ہاں اگر مالک کی طرف سے اجازت ہو تو دینے میں کوئی حرج نہیں، نیز یہ یاد رہے کہ بغیر اجازت ایسا کرنے کی صورت میں فقط دینے والے کا فعل ناجائز ہو گا اس سے دوائی وغیرہ کا حلال ہونا حرام نہیں ہوتا۔
مشکوۃ شریف میں ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه .یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبر دار کسی پر ظلم مت کرو، کسی مسلمان کے لیے کسی کا مال اُس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔
[أبو عبد الله ، مشكاة المصابيح ، کتاب البیوع ، باب الغصب و العاریۃ ، ٨٨٩/٢]
ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : (لا يحل مال امرئ ) أي : مسلم أو ذمي ( إلا بطيب نفس) أي: بأمر أو رضا منه. یعنی کسی مسلمان یا ذمی کا مال کسی کے لیے حلال نہیں، مگر اس کی خوشی یعنی اس کی اجازت و رضا سے حلال ہے۔
[ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، کتاب البیوع ، باب الغصب و العاریۃ، ١٩٧٤/٥]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کـتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
ابو الحسن محمد حق نواز مدنی
01 ربیع الثانی 1448ھ / 14ستمبر 2026ء