جیولرز کا زیادہ قیمت پر زیورات بیچنا اورواپس کم قیمت میں خریدنا کیسا؟
سوال: مفتی صاحب، ہم جب مارکیٹ میں سونا بیچنے یا خریدا ہوا واپس کرنے جاتے ہیں تو اس پر جیولرز کی طرف سے کافی کاٹ کا سلسلہ ہوتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟
(سائل: ذیشان ملک)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
عام طور پر مارکیٹ میں یہی طریقہ رائج ہے کہ جیولرز کو جب زیورات بیچے جائیں تو وہ اُس قیمت سے کم میں خریدتے ہیں جتنے میں وہ بیچتے ہیں، اسکا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر جھوٹ اور دھوکہ دیے بغیر وہ کسٹمر سے کم قیمت میں خریدتے ہیں تو ایسا کرنا شرعا درست ہے،نیز اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ جس جیولر کو یہ زیورات بیچے جا رہے ہیں وہ اگر وہی ہے جس سے یہ زیورات خریدے تھے تو اُسے واپس بیچنے سے قبل سابقہ قیمت مکمل طور پر ادا ہو چکی ہو ورنہ اُسکو کم قیمت میں بیچنا جائز نہیں۔
کنز الدقائق مع شرح البحر الرائق میں ہے : (قوله وشراء ما باع بالأقل قبل النقد) أي لم يجز شراء البائع ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن….. وقيد بقوله قبل النقد إذ بعده لا فساد.
[البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق ،كتاب البيع، باب البيع الفاسد، ٩٠/٦]
در مختار مع ردالمحتار میں ہے :(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول…… (قوله قبل نقد كل الثمن الأول) قيد به؛ لأن بعده لا فساد، ولا يجوز قبل النقد، وإن بقي درهم.
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، كتاب البيوع ، باب البيع الفاسد ، ٧٤/٥]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کـتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
ابو الحسن محمد حق نواز مدنی
01 ربیع الثانی 1448ھ / 14ستمبر 2026ء