زکوٰۃ دینے میں اخراجات کا شرعی حکم

زکوٰۃ دینے میں اجراجات کا شرعی حکم

کیا فرماتے علماء کرام اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنے موبائل اکاؤنٹ میں سے کسی کے موبائل اکاؤنٹ میں زکوٰۃ کی رقم بھیجے کہ یہ دعوت اسلامی کو جمع کروادیں یا فلاں شرعی فقیر کو دے دیں جس کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجی گئی جب وہ ریٹیلر سے یہ رقم نکلوائے گا تو اس پر ریٹیلر کچھ فیس بھی لے گا اب سوال یہ ہے کہ یہ فیس کس کے ذمہ آئے گی رقم بھیجنے والے کے ذمہ یا جس کے اکاؤنٹ میں بھیجی گئی اس کے ذمہ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں جب اکاؤنٹ میں زکوۃ بھیجی گئی، تو بھیجنے، رقم نکلوانے وغیرہ کے اخراجات زکوۃ بھیجنے والا(یعنی دینے والا)ادا کرے گا کیونکہ جس کے اکاؤنٹ میں زکوٰۃ بھیجی ہے یہ امین ہے اور امانت پر آنے والا خرچہ مالک پر آتا ہے نہ کہ امین پر۔ اور یہ خرچہ اصل مال زکوٰۃ سے الگ ہو گا، اگر زکوۃ میں سے ادا کیا گیا تو اتنا حصہ دوبارہ بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

”مؤنۃ ردالودیعۃ علی المالک لا علی المودع کذا فی السراجیۃ….. وإذا سافر الوديعة في الموضع الذي يجوز له السفر بها تكون الأجرة على المالك، كذا في السراج الوهاج“

ترجمہ:امانت واپس کرنے کا خرچہ مالک پر ہے نہ کہ مودع پر یعنی جس کے پاس امانت رکھی گئی اس پر نہیں، اسی طرح سراجیہ میں ہے۔ اور جب مودع ودیعت ایسی جگہ پر لے گیا جہاں اسے لے جانے کی اجازت ہے تو اجرت مالک پر ہو گی۔ جیسا کہ السراج الوہاج میں ہے۔(فتاوٰی ہندیہ، کتاب الودیعۃ، الباب العاشر،ج4،ص362، دار الفکر بیروت )

فتاوی رضویہ میں ہے:

”جتناروپیہ واپس کرناہواس کی فیس منی آرڈراسی روپیہ سے دے کہ وہ اس کے ہاتھ میں امانت ہے اورردامانت کی مونت امین پرنہیں ۔“

(فتاوی رضویہ،ج19،ص170،رضافاونڈیشن،لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”جتنا روپیہ زکوٰۃ گیر ندہ کو ملے گا اتنا زکوٰۃ میں محسوب ہوگا، بھیجنے کی اُجرت وغیرہ اس پر جو خرچ ہو شامل نہ کی جائے گی۔“(فتاوی رضویہ،ج10، ص203، مسئلہ:80، رضا فاونڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

”روپے کے عوض کھانا غلّہ کپڑا وغیرہ فقیر کو دے کر مالک کر دیا تو زکاۃ ادا ہو جائے گی، مگر اس چیز کی قیمت جو بازار بھاؤ سے ہوگی وہ زکاۃ میں سمجھی جائے، بالائی مصارف مثلاً بازار سے لانے میں جو مزدور کو دیا ہے یا گاؤں سے منگوایا تو کرایہ اور چونگی وضع نہ کریں گے یا پکوا کر دیا تو پکوائی یا لکڑیوں کی قیمت مُجرا نہ کریں ، بلکہ اس پکی ہوئی چیز کی جو قیمت بازار میں ہو، اس کا اعتبار ہے۔“(بہار شریعت،ج1،حصہ 5،ص909،مسئلہ:25، مکتبۃ المدینہ)

واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری

15جمادی الاولی1445ھ

30نومبر2023ء،جمعرات

اپنا تبصرہ بھیجیں