جمعہ کے خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینے کی شرعی حیثیت

جمعہ کے خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینے کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مساجد میں عموما لکڑی کی چھڑی پڑی ہوتی ہے جسے جمعہ والے دن امام صاحب ہاتھ میں پکڑ کر عربی خطبہ پڑھتے ہیں ،کیا یہ عصا پکڑ کر خطبہ پڑھنا سنت ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

صورت مستفسرہ کے مطابق امام کا عصا پکڑ کر خطبہ دینا سنت نہیں ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ سنت اور بعض نے ایسے مکروہ لکھا ہے لہذا جب کراہت اور استحباب میں اختلاف ہو تو ترک(چھوڑنا) کرنا اولی (بہتر)ہوتا ہے اور اگر کوئی عذر کی بناء پر عصا کے ذریعے خطبہ دے تو حرج نہیں۔

درمختار میں ہے

” وفی الحاوی القدسی:اذا فرغ الموذن قام الامام والسیف فی یسارہ وہو متکی علیہ وفی الخلاصۃ: ویکرہ أن یتکی علی قوس او عصا “

ترجمہ:حاوی قدسی میں ہے جب مؤذن فارغ ہو جائے تو امام کھڑا ہو جبکہ تلوار اس کے بائیں ہاتھ میں ہو جبکہ وہ اس پر ٹیک لگائے ہوئے ہو الخلاصہ میں ہے یہ مکروہ ہے کہ وہ تیر کمان یا عصا پر ٹیک لگائے ۔ ( درمختار باب الجمعۃجلد 3 صفحہ 41 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

رد المحتار میں ہے:

”قولہ: (وفی الخلاصۃ الخ) استشکلہ فی الحلیۃ بأنہ فی روایۃ ابٔی داؤد ’’انہ صلی اللہ علیہ وسلم قام: أی فی الخطبۃ متوکئا علی عصا أو قوس ‘‘ ونقل القہستانی عن عید المحیط أن اخذ العصا سنۃ کالقیام “

ترجمہ:صاحب درمختار کا فرمان کے خلاصہ میں ہے ،حلیہ میں اشکال کیا گیا کہ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں عصا یا قوس پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے۔ قہستانی نے المحیط کے باب سے نقل کیا ہے کہ عصا کا پکڑنا یہ سنت ہے جس طرح خطبہ میں کھڑا ہونا سنت ہے ۔(ردالمختار باب الجمعۃ جلد 3 صفحہ 41 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

جد الممتار میں ہے

” (قولہ) استشکلہ فی الحلیۃ الخ ۔ ذکر کلام الخلاصۃ ثم قال قلت وہو مشکل بما اخرج ابوداؤد عن الحکم بن حزن الکلفی فذکر الحدیث ثم قال وعن البراء بن عدان أن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تناول قوسا فخطب علیہ (قولہ) أنہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قام الخ (اقول) لفظ الحدیث عن الحکم بن حزن الکلفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال أقتنابہا (ای بالمدینۃ الطیبۃ) أیاما شہدنا فیہا الجمعۃ مع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقام متوکئا علی عصا أوقوس فلا دلالۃ فیہ الاعلی وقوعہ مرۃ وواقعۃ عین لاتعم فکربما تکون لعذر أو لبیان الجواز“

ترجمہ: حلیہ میں اشکال کیا گیا الخ خلاصہ میں ذکر کردہ کلام سے پھر فرمایا کہ میں کہتا ہوں یہ مشکل ہے کہ اس مسئلے کا اخراج ابو داؤد سے مروی روایت سے ہوا کہ روایت کی حکم بن حزن الکلفی سے پھر حدیث ذکر کی۔ پھر فرمایا کہ روایت کی براء بن عدان سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو قوس آپ کے ساتھ تھی پس اسی پر ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا

حدیث کے لفظ جو حکم بن حزن الکلفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں یعنی مدینہ طیبہ میں جمعہ کے ایام میں حاضر ہوتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور پس آپ خطبہ کے لیے عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے۔پس یہ دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ یہ واقعہ ایک مرتبہ ہی وقوع پذیر ہوا اور عموماً ایسا نہیں ہوتا تھا یا تو یہ بیان جواز کے لیے تھا یا عذر کی بناء پر ۔ (جد الممتارکتاب الصلوٰۃ جلد 1 صفحہ 378 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے

”ویکرہ ان یخطب متکاء علی قوس او عصا کذا فی الخلاصہ و ھکذا فی المحیط“

یعنی مکروہ ہے یہ کہ کمان یا عصا پر ٹیک لگا کر خطبہ دے ایسا ہی خلاصۃ الفتاویٰ اور المحیط میں ہے۔(فتاویٰ عالمگیری کتاب الصلوہ الباب السادس عشر فی الصلوہ الجمعہ جلد 1 صفحہ 138 مطبوعہ مکتبہ کوئٹہ)

ردالمحتارمیں ہے

” وما تردد بين السنة والبدعة يتركه “ترجمہ:اورجس کام کے سنت اوربدعت ہونے میں شک ہوتواسے ترک کردیا جائےگا

۔(ردالمحتارمع الدرالمختار،باب الاعتکاف،جلد 02، صفحہ 441 مطبوعہ بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے :

”خطبہ میں عصاہاتھ میں لینا بعض علماءنے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت مؤکدہ نہیں ،توبنظر اختلاف اس سے بچناہی بہترہےمگرجب کوئی عذر ہو ۔”وذلک لان الفعل اذاترددبین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولی”ترجمہ:اوراس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی فعل کے سنت اورمکروہ ہونے میں شک ہوتواس کاترک کرنابہترہوتاہے۔“

(فتاوی رضویہ،جلد8،صفحہ303، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’خطبہ کے وقت عصا وغیرہ ہاتھ میں لینے کے بارے میں فقہاکے اقوال بہت مختلف ہیں ایک قول یہ ہے کہ جو شہر تلوار سے یعنی لڑکر فتح کیا گیا ہو وہاں تلوار وغیرہ ہاتھ میں لے کر خطبہ پڑھا جائے اور جو بطور صلح فتح ہوا ہو وہاں نہیں۔ درمختار میں ہے’’یخطب الامام بسیف فی بلدۃ فتحت بہ کمکۃوالا لا کالمدینۃ وفی الحاوی القدسی إذا فرغ المؤذنون قام الامام والسیف فی یسارہ وہو متکء علیہ.وفی الخلاصۃ ویکرہ أن یتکء علی قوس أو عصا‘‘اور حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بروقت خطبہ قوس یا عصا دست مبارک میں لینا آیاہے۔ لہذا قول کراہت صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ کا یہ عمل تھا کہ پہلے جب قوت تھی بغیر عصا خطبہ پڑھا کرتے تھے اور آخر عمر شریف میں جب ضعف کا غلبہ ہوا تو عصا پر ٹیک لگاتے ۔اور فقیر نے ایک بار دریافت بھی کیا تھا تو فرمایا کہ سنت ہونا ثابت نہیں۔‘‘ (فتاوٰی امجدیہ ،جلد1،صفحہ287،مکتبہ رضویہ،کراچی)

فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے :

امام کا بوقت خطبہ ممبر پر کھڑے ہو کر ہاتھ میں عصا کا پکڑنا ضروری نہیں اور اس کے سنت ہونے میں اختلاف ہے لہذا عذر نہ ہو تو اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔سیدنا اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللّٰہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء کے نزدیک سنت لکھا،بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہوئی تو کوئی سنت مؤکدہ نہیں تو بنظر اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔مگر جب کوئی عذر ہو”وتلك لان الفعل اذا تردد بين السنة والكراهة كان تركه اولى“(فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ نمبر 300 مطبوعہ شبیر برادرز)

وقار الفتاوی میں ہے :

”امام کو خطبہ کے وقت عصا لینا ضروری نہیں ہے بلکہ جواز میں بھی اختلاف ہے بعض آئمہ عصا لینے کو بھی بہتر کہتے ہیں اور بعض مکروہ اور جب کراہت اور استحباب میں اختلاف ہو تو ترک کرنا اولی ہے۔“(وقار الفتاوی جلد 2 صفحہ 163 مطبوعہ بزم وقار الدین)

فتویٰ علیمیہ میں ہے:

”بعض علماء نے سنت فرمایا اور بعض نے مکروہ تو بصورت اختلاف بچنا ہی بہتر ہے اور کرنے والے پر تشدد اور طعن و تشنیع درست نہیں۔“(فتاویٰ علیمیہ جمعہ کا بیان جلد 1 صفحہ 286 مطبوعہ شبیر برادرز)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

بنت عثمان

22ربیع الاول 1445ھ09 اکتوبر 2023ء

نظر ثانی و ترمیم:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں