بیوی سے کہنا میں تمہیں اپنی بہن سمجھتا ہوں

بیوی سے کہنا میں تمہیں اپنی بہن سمجھتا ہوں

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نکاح میری ایسی کزن سے ہوا جو عمر میں مجھ سے بڑی تھی، والدین اور رشتے داروں کے دباؤ پر نکاح ہوا تھا، میں شادی کرنے پر راضی نہیں تھا،پہلی رات میں نے اسے کہہ دیا کہ میں تمھیں اپنی بہن جیسا سمجھتا ہوں۔اس سے میری طلاق کی نیت نہیں تھی اور ظہار کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں تھا ۔البتہ میری نیت یہی تھی کہ جس طرح میں اپنی بہن کو اپنے اوپرحرام سمجھتا ہوں ایسے ہی تمہیں حرام سمجھتا ہوں۔اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ ظہار کے لئے ہیں، لیکن اس میں چونکہ ’’ مجھ پریا اپنے اوپر‘‘ کے الفاظ مفقود ہیں اس وجہ سے مظاہر یعنی ظہار کرنے والا ہونے کے لئے اس میں نیت ِ ظہار کی حاجت اور آپ کی ان الفاظ سے چونکہ تحریم کی نیت تھی تو ظہار ہو گیا تحریم کی نیت بالاتفاق ظہار ہی ہے۔ پھرمذکورہ جملے( میں تمھیں اپنی بہن جیسا سمجھتا ہوں)میں لفظ’’ سمجھتا ہوں ‘‘سے ظہار کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی کہ کسی چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دینے میں اس لفظ سے اثبات و تاکید مراد ہوتی ہے نہ کہ نفس الامر کی نفی ۔

لہذا آپ پرکفارہ کی ادائیگی سے پہلے مذکورہ بیوی سے جماع کرنا ، شہوت کے ساتھ چھونا اور بوسہ وغیرہ لینا ناجائز و حرام ۔اس کا کفارہ یہ ہے کہ دو مہینے کے مسلسل روزے رکھیں جن کے درمیان رمضان اور ممنوع ایام یعنی عیدین و ایام ِ تشریق نہ ہو اور اگر روزے اسلامی مہینے کی پہلی تاریخ سے رکھنا شروع کیے تو دوسرے مہینے کے اختتام پر کفارہ مکمل ہو جائے گا چاہے کل دن اٹھاون بنیں یا انسٹھ ہاں اگر دوران ماہ سے روزے رکھنا شروع کیے ہیں تو پورے ساٹھ ہی رکھنے ہوں گے۔ پھر اگر روزے رکھنے کی استطاعت نہ ہو یعنی ایسامرض لاحق ہوجس سے تندرست ہونے کی امید نہیں یا بڑھاپے کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتا تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھلائے یا ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کے برابر گندم یا اس کی قیمت دے دے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

”اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاوَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ“

ترجمہ:تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ،ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا اور بیشک وہ ضرور ناپسندیدہ اور بالکل جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ ضروربہت معاف کرنے والا ، بہت بخشنے والا ہے۔(سورۃ المجادلہ پارہ 28 آیت 2)

تفسیر صراط الجنان میں ہے

”اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕهِمْ: تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں ۔} اس آیت میں ظہار کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں اور انہیں اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں ، یہ کہنے سے وہ ان کی مائیں نہیں ہوگئیں بلکہ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا ہے اور بیشک ظہار کرنے والے بیویوں کو ماں کہہ کر ناپسندیدہ اور بالکل جھوٹ بات کہتے ہیں ، بیوی کو کسی طرح ماں کے ساتھ تشبیہ دینا ٹھیک نہیں اور بیشک اللہ تعالیٰ انہیں ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔(تفسیر صراط الجنان سورۃ المجادلہ پارہ 28 آیت 2 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

مصنف عبد الرزاق میں ہےامام حسن بصری سے مروی ہے :

”من ظاهر بذات محرم، فھو ظهار“

ترجمہ:جس نے (اپنی بیوی کو) محرم خاتون سے تشبیہ دی تو وہ ظہار ہے۔(مصنف عبد الرزاق،جلد 6 صفحہ 423، رقم : 11485 مطبوعہ مکتبہ الرشید الریاض)

کتاب الآثار میں ہے حضرت ابراہیم فرماتے ہیں :

”لا یقعُ الظهارُ إذا ظاهرَ الرجلُ من امرأتِهٖ إلا بذاتِ محرمٍ“

ترجمہ:ظہار(اس وقت تک) واقع نہیں ہوگا جب تک (خاوند اپنی بیوی کو) اپنی کسی رحم محرم خاتون سے تشبیہ نہ دے۔(کتاب الآثارمحمد الشیبانی جلد 2 صفحہ 481، رقم : 547 مطبوعہ مکتبہ الرشید الریاض )

تفسیر روح البیان میں ہے

”الظهار لغة مصدر ظاهر وهو مفاعلة من الظهر ، ويراد به معان مختلفة راجعة إلى الظهر معنى و لفظا بالاختلاف الاغراض ظاهر من امرأته إذا قال لها : انت على كظهر امى “

ترجمہ: ظہار لغت میں مصدر ہے ظاہر کا اور یہ مفاعلہ ہے ظہر سے اور اس کے معانی مختلف ہے مگر راجع معنی ظہر( پیٹھ) ہے اور اس کی اغراض میں اختلاف ہے ظھار یہ ہے کہ جب زوج اپنی زوجہ کو تو مجھ پر ایسی ہے جیسے مجھ پر میری ماں کی پیٹھ۔ (روح البیان جلد 2 صفحہ 514 : سورہ المجادلہ ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

عنایہ میں ہے

”وَ فِي اصْطِلَاحِ الْفُقَهَاءِ : تَشْبِيهُ الْمَنْكُوحَةِ بِالْمُحَرَّمَةِ عَلَى سَبِيلِ التَّأْبِيدِ اتِّفَاقًا بِنَسَبٍ أَوْ رَضَاعٍ أَوْ مُصَاهَرَةٍ “

ترجمہ:فقہاء کی اصطلاح میں ظہار یہ ہے کہ اپنی منکوحہ کو ان محارم رشتوں سے تشبیہ دینا جن سے نکاح کرنا حرام حرمت ہے موبدہ کے ساتھ چاہے نسب کی وجہ سے ہو یا رضاعت یا مصاہرت کی وجہ سے ۔ ( العناية باب الظِّهَارُ جلد 2 صفحہ 6 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

در المختار میں ہے

”( وإن نوى بأنت علي مثل أمي ) أو كأمي وكذا لو حذف علي، خانية ( براً أو ظهاراً أو طلاقاً صحت نيته ) ووقع ما نواه “

ترجمہ :اور اگر نیت کے ساتھ بیوی سےکہا میری ماں کی مثل ہے تو وہ بائنہ ہوجائے گی اور کامی اور اسی طرح حذف کیا خانیہ میں ہے عزت اور ظہار یا طلاق کی نیت کے ساتھ درست ہے پس وہی واقع ہوگا جس کی نیت کی ہو۔(درمختار جلد 3 صفحہ 470 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے

”ولو قال: أنت علي كأمي أو مثل أمي يرجع إلى نيته فإن نوى به الظهار كان مظاهرا، وإن نوى به الكرامة كان كرامة، وإن نوى به الطلاق كان طلاقا، وإن نوى به اليمين كان إيلاء“

ترجمہ: اور اگر کہا اپنی بیوی سے تو میری ماں ہے یا میری ماں کی مثل ہےظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اگر اُس کے اِعزاز کے ليے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور اور اگر قسم کی نیت ہے تو ایلا ہے۔ (بدائع الصنائع، كتاب الظهار، فصل في شرائط الظهار، جلد:5، صفحہ:8 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

البحر الرائق میں ہے

”وان نوی بانت علی مثل امی برا او ظھارا اور طلاقا فکما نوی “

ترجمہ: اگر بیوی سے کہا تو مجھ پر ایسی ہے جیسی میری ماں اور اس کے کہنے سے اس کی بزرگی کی نیت کی یا ظہار کی نیت کی یا طلاق کی نیت کی تو جو نیت کرے گا وہی ہوگا۔(البحر الرائق جلد 4 صفحہ 164 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’ولو قال لها: أنت علي مثل أمي أو كأمي ينوي، فإن نوى الطلاق وقع بائناً، و إن نوی الكرامة أو الظهار فكما نوی، هكذا في فتح القدير“

ترجمہ:اور اگر شوہر نے اپنی بیوی سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے یا ماں جیسی ہے پس اگر اس نے نیت کی طلاق کی تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور اگر نیت کی بزرگی اور ظہار کی پس وہی واقع ہوگا جس کی نیت کی اسی طرح فتح القدیر میں ہے ۔(فتاویٰ ھندیہ باب الظهار جلد 1 صفحہ 508 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

سیدی امام اہلسنت اعلی ٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’ ہاں اگر یوں کہا ہو کہ تو مثل یا مانند یا بجائے ماں بہن کے ہے تو اگر بہ نیت طلاق کہا تو ایک طلاق بائن ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اور بہ نیت ظہار یا تحریم کہا یعنی یہ مراد ہے کہ مثل ماں بہن کے مجھ پر حرام ہے تو ظہار ہوگیا اب جب تک کفارہ نہ دے لے عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا بنظر شہوت اس کے کسی بدن کو چھونا یا بنگاہِ شہوت اس کی شرمگاہ دیکھنا سب حرام ہوگیا،اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ جماع سے پہلے ایک غلام آزاد کرے، اسکی طاقت نہ ہوتو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھے، اس کی بھی قوت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی طرح اناج یا کھانا دے۔ ‘‘ ( فتاویٰ رضویہ جدید جلد13 صفحہ280 مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہو ر )

بہارشریعت میں ہے:

”عورت سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز کے ليے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں۔“(بہارشریعت جلد 2 ،حصہ 8،صفحہ 207 مطبوعہ،مکتبہ المدینہ کراچی)

ارشاد باری تعالیٰ ہے

”الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًاؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ“

ترجمہ کنزالایمان:اور وہ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کا تدارک (تلافی ) کرناچاہیں تو ( اس کا کفارہ)میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرناہے یہ وہ ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔پھر جو شخص(غلام )نہ پائے تو میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا (شوہر پر لازم ہے) پھر جو(روزے کی) طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ( لازم ہے) یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔(سورۃ المجادلہ پارہ 28 آیت 3/4 )

تفسیر صراط الجنان میں ہے:

”وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ: اور وہ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہیں ۔} اس سے پہلی آیت میں ظہار کی مذمت بیان کی گئی اور اب یہاں سے ظہار کا شرعی حکم بیان کیا جا رہاہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کریں ،پھر اس ظہار کو توڑ دینا اوراس کی وجہ سے ہونے والی حرمت کو ختم کر دینا چاہیں تو ان پر ظہار کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے ، لہٰذا اُن پر ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کریں ، یہ وہ حکم ہے جس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے تاکہ تم دوبارہ ظہار نہ کرو اور اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور یہ بات یاد رکھو کہ اللّٰہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے اور وہ تمہیں ان کی جزا دے گا ،لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شریعت کی جو حدود مقرر کی ہیں ان کی حفاظت کرو اور کسی حد کو نہ توڑو۔( مدارک،المجادلۃ،تحت الآیۃ: ۳، ص۱۲۱۶، خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۴ / ۲۳۷، روح البیان، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۹ / ۳۹۲، ملتقطاً)

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ: پھر جو شخص (غلام) نہ پائے۔} اس آیت میں ظہار کے کفارے کی مزید دو صورتیں بیان کی جا رہی ہیں ، چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ پھر جسے غلام نہ ملے تو اس صورت میں ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا شوہر پر لازم ہے ،پھر جو اتنے روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا شوہر پر لازم ہے۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے تا کہ تم اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھو ، ان کی فرمانبرداری کرو اور جاہلیّت کے طریقے چھوڑدو اور یہاں جو ظہار اور اس کے کفارے کے اَحکام بیان ہوئے یہ اللّٰہ تعالیٰ کی حدیں ہیں ،ان کو توڑنا اور ان سے تجاوُز کرنا جائز نہیں اور کافروں کے لیے قیامت کے دن دردناک عذاب ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۲۳۷، مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۲۱۷، ملتقطاً)(تفسیر صراط الجنان سورۃ المجادلہ پارہ 28 آیت 4/3 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

سنن ابو داؤد میں ہے

”حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ظَاهَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَادِلُنِي فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ اتَّقِي اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكِ ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ:‏‏‏‏ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية إِلَى الْفَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يُعْتِقُ رَقَبَةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا يَجِدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا عِنْدَهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأُتِيَ سَاعَتَئِذٍ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ أَحْسَنْتِ، ‏‏‏‏‏‏اذْهَبِي فَأَطْعِمِي بِهَا عَنْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَارْجِعِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا. قَالَ أَبُو دَاوُد فِي هَذَا:‏‏‏‏ إِنَّهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْتَأْمِرَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَهَذَا أَخُو عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ“

ترجمہ حضرت خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ سے روایت ہے میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ سے شکایت کر رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ سے ڈر، وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے ، میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی: قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی گفتگو سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑ رہی تھی ( سورۃ المجادلہ: ۱ ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک گردن آزاد کریں ، کہنے لگیں: ان کے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھیں ، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! وہ بوڑھے ہیں انہیں روزے کی طاقت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ، کہنے لگیں: ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ کہتی ہیں: اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل آ گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول ( آپ یہ دے دیجئیے ) ایک اور زنبیل میں دے دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک ہی کہا ہے، لے جاؤ اور ان کی جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو، اور اپنے چچا زاد بھائی ( یعنی شوہر ) کے پاس لوٹ جاؤ ۔ راوی کا بیان ہے کہ زنبیل ساٹھ صاع کی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ اس عورت نے اپنے شوہر سے مشورہ کئے بغیر اس کی جانب سے کفارہ ادا کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں۔(سنن ابو داؤد ، الطلاق ، باب فی الظھار: حدیث نمبر_2214، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)

بدائع الصنائع میں ہے

”وأما حكم الظهار فللظهار أحكام: منها حرمة الوطء قبل التكفير“

پس ظہار کا حکم یہ ہے کہ کفارے کی ادائیگی سے قبل زوجہ سے وطی کرنا حرام ہے ۔(بدائع الصنائع، كتاب الظهار، فصل في حكم الظهار، جلد5، صفحہ:14 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

” ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے اور اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دو مہینے کے روزے لگاتار رکھے، ان دنوں کے بیچ میں نہ کوئی روزہ چھوٹے نہ دن کو یا رات کو کسی وقت عورت سے صحبت کرے ورنہ پھر سرے سے روزے رکھنے پڑیں گے، اور جو ایسا بیمار یا اتنا بوڑھا ہے کہ روزوں کی طاقت نہیں رکھتا وہ ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے۔ “( فتاویٰ رضویہ، باب الظهار جلد 13 صفحہ 269 مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

”ظہار کرنے والا جماع کا ارادہ کرے تو کفارہ واجب ہے اور اگر یہ چاہے کہ وطی نہ کرے اور عورت اُس پر حرام ہی رہے تو کفارہ واجب نہیں ۔“(بہار شریعت،کفارہ کا بیان جلد 2 حصہ 8 کفارہ کا بیان صفحہ 210 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

بنت عثمان

11صفر المظفر 1445ھ29اگست 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں