نابالغ بیٹے کی طرف سے قربانی

سوال:اگر والد اپنے نابالغ بیٹے کی طرف سے قربانی کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

یوزر آئی ڈی:سجاد عطاری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اولا یہ بات ذھن نشین رہے کہ خود پر قربانی واجب ہوتے ہوے بیٹے یا کسی کی بھی کی طرف سے قربانی کی تو واجب ادا نہیں ہو گا ہاں اپنی طرف سے قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ اگر نابالغ بیٹے کی طرف سے بھی قربانی کرے تو یہ بہتر ہے۔ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:’’جس پر قربانی واجب ہے اس کو خود اپنے نام سے قربانی کرنی چاہیے،لڑکے یا زوجہ کی طرف سے کرے گا ،تو واجب ساقط نہ ہو گا،اپنے نام سے کرنے کے بعد جتنی قربانیاں کرے،مضائقہ نہیں،مگر واجب کوادا نہ کرنا اور دوسروں کی طرف سے نفل ادا کرنا بہت بڑی غلطی ہے، پھر بھی دوسروں کی طرف سے جو قربانی کی ہو گئی اور ایام نحر(قربانی کے دن)باقی ہوں، تو یہ خود قربانی کرے،گزرنے پر قیمتِ اضحیہ تصد ق کرے۔‘‘

(فتاوی امجدیہ ،کتاب الاضحیہ،جلد2،حصہ3،صفحہ314،مکتبہ رضویہ،کراچی)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:بالغ لڑکوں یا بی بی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو اون سے اجازت حاصل کرے بغیر اون کے کہے اگر کر دی تو اون کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا اور نابالغ کی طرف سے اگرچہ واجب نہیں ہے مگر کر دینا بہتر ہے۔

(بہارشریعت،جلد3،حصہ15،صفحہ336،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

16ذوالقعدۃ الحرام 1444ھ/6 جون2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں