جو امام گالیاں دیتا ہو اس کے پیچھے نماز

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ مسجد کے امام صاحب بعض اوقات غصہ کی حالت میں یا کسی کو ڈانٹتے ہوئے یا جب کبھی جھگڑے کی وجہ سے گالیاں نکالتے ہیں اور فحش بکتے ہیں، ایسی گفتگو ان کے نمازیوں نے بھی سنی ہے، کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے؟ اور جن نمازیوں کا اس وجہ سے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا دل نہیں کرتا، جماعت ترک کر کے اپنی نماز پڑھنا یا ان کے پیچھے پڑھی گئی نماز کا اعادہ کرنا شرعاً کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

فحش گوئی اور گالیاں بکنا بلاشبہہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اگر واقعی کوئی امام فحش گو ہو اور گالیاں بکتا ہو نیز یہ بات عام نمازیوں کو معلوم ہو تو ایسے شخص کی اقتدا مکروہِ تحریمی ہے کہ ایسا شخص فاسقِ معلن ہے، اس کے پیچھے ادا کی جانے والی تمام نمازوں کا اعادہ لازم ہے۔ البتہ اگر وہ اعلانیہ گالیاں نہ بکتا ہو، لیکن عام نمازی اس کے پیچھے نماز پڑھنے کو پسند نہیں کرتے کہ اس سے متنفر ہیں تو تقلیل جماعت کا باعث بننے کی وجہ سے اس کی امامت میں کراہت ضرور ہوگی۔ مسجد انتطامیہ کو چاہیے کہ احسن انداز میں ان سے معذرت کر لے اور کسی باعمل و متقی شخص کو امام مقرر کرے۔

صحیح بخاری شریف کی حدیثِ پاک میں ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”‌سباب ‌المسلم فسوق“

ترجمہ: کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب الإیمان، باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر، جلد نمبر 1، صفحه نمبر 27، حدیث نمبر 48، مطبوعه: دار ابن كثير)

علامہ سید احمد بن محمد الطحطاوی الحنفی �(المتوفی: 1231 ھ/1815ء) لکھتے ہیں:

”والفسق …شرعا ‌خروج ‌عن ‌طاعة الله تعالى بارتكاب كبيرة، قال القهستاني أي أو إصرار على صغيرة“

ترجمہ:اصطلاح شرع میں فاسق سے مراد گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے کے سبب اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر ہو جانے والا شخص ہے، القہستانی نے فرمایا: یا گناہ صغیرہ پر مصر ہونا (بھی فسق ہے۔)(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الصلاة، جلد نمبر 1، صفحه نمبر 303، مطبوعه: دار الکتب العلمیة)

علامہ ابن عابدين سید محمد امين بن عمر شامی حنفی �(المتوفى:
1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”وأما ‌الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا… بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم“

ترجمہ: اور بہر حال فاسق کی تقدیم (امامت) کے مکروہ ہونے کی فقہائے کرام نے یہ علت بیان کی ہے کہ وہ اپنے دین کے حکم کو اہمیت نہیں دیتا اور یہ کہ امامت کے لیے اس کو آگے بڑھانے میں، اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا لوگوں پر اس کی اہانت کرنا لازم ہے۔ … بلکہ شرح المنیۃ میں ہے کہ اس کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الإمامة ، جلد نمبر 1، صفحه نمبر 560، مطبوعه: دار الفکر)

شیخ الإسلام والمسلمین امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان� (المتوفی: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:

”فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے، اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں ، فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھُپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ ،اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے، تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب۔“(فتاوی رضویة، جلد نمبر 06، صفحه نمبر 601، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاہور)

آپ � مزید ارشاد فرماتے ہیں:

”جس بات کے معاینہ کے گواہان ثقہ بتائے جاتے ہیں وہی ممانعت امامت کو بس ہیں، بلکہ ایسے افعال شنیعہ سے متہم ہو چکا اور طبائع اس سے نفرت کرنے لگتیں اگر ثبوت نہ بھی ہو تاہم اس کی امامت میں تقلیل جماعت ضرور ہے اور اسی قدر کراہت امامت کو بس ہے اگر چہ وہ واقع میں بے قصور ہو ۔ “(فتاوی رضویة، جلد نمبر 06، صفحه نمبر 553، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی � (المتوفی: 1423ھ/2001ء) لکھتے ہیں:

”سمدھن ہو یا کوئی اور، گالی دینا گناہ ہے، اور گالی کو جائز سمجھنا اشد گناہ… زید پر لازم ہے کہ گالی دینے اور گالی کو جائز سمجھنے سے اعلانیہ توبہ کرے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں، اور توبہ کرے تو اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں، بشرطیکہ کوئی اور خرابی نہ ہو۔“(فتاوی فیض الرسول، جلد نمبر 01، صفحه نمبر 298، مطبوعه: اکبر بک سیلرز لاہور)

و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبــــــــــــــــــــــــــــہ

عبده المذنب احمدرضا عطاری حنفی عفا عنه الباري

06 شوال المکرم 1444ھ / 27 اپریل 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں