دعا قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا

 مفتی صاحب سوال عرض یہ ہے کہ وتر پڑھتے وقت تیسری رکعت میں تکبیر کہہ کر دعا قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا رکوع کے بعد یاد آیا کے دعا قنوت نہیں پڑھی پھر اسی ٹائم تکبیر کہی دعا قنوت پڑھی دوبارہ رکوع کیا اور بعد میں سجدہ سہو کیا تو رہنمائی فرما دیں نماز ہو گئی؟ اگر نہیں ہوئی تو سہی طریقہ ارشاد فرما دیں.

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلے جانے والے شخص کے لئے حکم شرعی یہ ہے کہ اب وہ بغیر دعائے قنوت پڑھے اپنی نماز مکمل کرے پھر آخر میں سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے وآپس قیام کی طرف لوٹ کر قنوت پڑھی تو صحیح قول کے مطابق گنہگار ہو گا البتہ نماز فاسد نہیں ہو گی، اب اس کے لیے حکم یہ ہے کہ رکوع دوبارہ نہ کرے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے. لیکن یہ یاد رہے کہ اگر ایسے شخص نے عمداً دوبارہ رکوع کر لیا تو جان بوجھ کر سجدہ میں تاخیر ہونے کے سبب ترک واجب کا مرتکب ہوا اور اس پر وتر دوبارہ پڑھنا واجب ہے.

صورت مستفسرہ میں چونکہ آپ نے واضح نہیں کیا کہ آپ نے دوبارہ رکوع بھول کر کیا ہے یا جان بوجھ کر لہذا آپ کے لئیے حکم شرعی یہ ہے کہ اگر آپ نے قصدا رکوع کیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ مجھے دوبارہ رکوع کرنا چاہیے تو آپ ترک واجب کے مرتکب ہوئے، کیونکہ آپ نے جان بوجھ کر نماز کے سجدے میں تاخیر کی، لہذا وتر دوبارہ پڑھنا واجب ہو گا، اور اگر آپ نے دوبارہ رکوع بھولے سے کیا ہے تو اعادہ کی حاجت نہیں.

 مراقی الفلاح میں ہے : “وإذا نسي القنوت في ثالثة الوتر وتذكره في الركوع أو في الرفع منه أي من الركوع لا يقنت على الصحيح لا في الركوع الذي تذكر فيه ولا بعد الرفع منه و يسجد للسهو ولو قنت بعد رفع رأسه من الركوع لا يعيد الركوع ويسجد للسهو لزوال القنوت عن محله الأصلي وتأخير الواجب

ترجمہ : اور اگر وتر کی تیسری رکعت میں قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع یا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یاد آیا تو صحیح قول کے مطابق قنوت نہ پڑھے نہ رکوع میں اور نہ رکوع سے سر اٹھانے  کے بعد اور سجدہ سہو کرے، اور اگر رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قنوت پڑھ لی تو رکوع کا اعادہ نہ کرے اور سجدہ سہو کرے قنوت کے اپنے اصلی محل سے فوت ہونے کی وجہ سے اور واجب میں تاخیر ہونے کے سبب.

( مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، صفحة 143)

در مختارمیں ہے:’’ولو نسیہ ای القنوت ثم تذکرہ فی الرکوع لا یقنت فیہ لفوات محلہ ولا یعود الی القیام فی الاصح لان فیہ رفض الفرض للواجب فان عاد الیہ وقنت ولم یعد الرکوع لم تفسد صلاتہ لکون رکوعہ بعد قراءۃ تامۃوسجد للسھو قنت او لا لزوالہ عن محلہ ‘‘ترجمہ:اگر کوئی شخص (نمازِ وتر میں )قنوت پڑھنا بھول گیا پھر اسے رکوع میں یاد آیا ،تو دعائے قنوت کا محل فوت ہوجانےکی  وجہ سےوہ رکوع میں دعائے قنوت نہیں پڑھے گااور اصح قول کےمطابق قنوت پڑھنے کے لیےقیام کی طرف بھی نہیں لوٹے گا ،کیونکہ اس میں واجب(قنوت) کی خاطر فرض (رکوع )کوچھوڑنا لازم آئے گا (اوریہ جائز نہیں ہے)پس اگر وہ قیام کی طرف لوٹا ،قنوت پڑھی اور رکوع کا اعادہ نہ کیا ،تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی ،کیونکہ مکمل قراءت کے بعد رکوع ہو چکا ہےاوروہ شخص قنوت پڑھے یا نہ پڑھے،بہر صورت سجدہ سہو کرےگا،کیونکہ قنوت اپنےمحل سےفوت ہو چکی ہے ۔

(درمختار،ج2،ص538-540،مطبوعہ پشاور)

  امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمتہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو شخص قنوت بھول کر رکوع میں چلا جائے،اُسے جائز نہیں کہ پھر قنوت کی طرف  پلٹے،بلکہ حکم ہے کہ نماز ختم کر کےاخیر میں سجدہ سہو کر لے پھر اگر کسی نے اس حکم کا خلاف کیا، بعض ائمہ کے نزدیک اُس کی نماز باطل ہو جائے گی اور اصح یہ ہے کہ برا کیا،گنہگار ہوا،مگر نماز نہ جائے گی۔‘‘

(فتاوی رضویہ،ج8، ص219،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

 بہار شریعت میں ہے: “اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں  چلا گیا تو نہ قیام کی طرف لوٹے نہ رکوع میں  پڑھے اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا، تو نماز فاسد نہ ہوگی، مگر گنہگار ہو گا”

(بہار شریعت ،حصہ 4، ص661،مکتبۃ المدینہ کراچی)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ مذکورہ عبارت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:’’اقول:وقولہ ’’ ولم یعد الرکوع‘‘ ای ولم یرتفض بالعود للقنوت لا ان لو اعادہ فسدت لان زیادۃ مادون رکعۃ لا تفسد نعم لا یکفیہ اذن سجود السھو لانہ اخر السجدۃ بھذا الرکوع عمدا فعلیہ الاعادۃ سجد للسھو او لم یسجد ‘‘میں کہتا ہوں  کہ مصنف علیہ الرحمہ کا یہ قول کہ’’اور اس نے رکوع کا اعادہ نہ کیا ‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ قنوت پڑھنے کے لیے قیام کی طرف لوٹنے کے سبب رکوع فاسد نہیں ہو گا ،نہ یہ  کہ اگر رکوع کا اعادہ کر لیا ،تو نماز فاسد ہو جائے گی، ہاں (جان بوجھ کر )دوبارہ رکوع کرنے کی صورت میں سجدہ سہو کافی نہیں ہو گا ،کیونکہ اس شخص نے اس رکوع کی وجہ سے جان بوجھ کر سجدے کو مؤخر کیا ہے ،لہذا سجدہ سہو کیا ہو یا نہ کیا ہو ،بہر صورت نماز کا اعادہ لازم ہو گا ۔

(فتاوی رضویہ،ج8، ص213، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

(والله تعالى اعلم بالصواب)

کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ25فروری 2022 بمطابق23رجب المرجب1443ھ بروز جمعۃ المبارک )

اپنا تبصرہ بھیجیں