صلّوا خلف کل بر و فا جر حدیث کی تاویل

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے تو ایک حدیث پاک ہے:صلّوا خلف کل بر و فا جر یعنی” ہرایک نیک وبدکے پیچھے نماز پڑھو۔ اس حدیث کی کیا تاویل ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

 یاد رکھیں کہ حدیث پاک میں فاسق کو امام بنانے سے منع کیا گیا ہے، لیکن دوسری حدیث پاک میں جو فرمایا گیا کہ ہر نیک و بد کے پیچھے نماز پڑھو، تو یہ حکم اس دور کے لئے تھا کہ جب حکام خود یا ان کے مقرر کردہ لوگ ہی نماز پڑھاتے تھے، اور بعض اوقات حکام بد مذہب یا فاسق بھی ہوئے اور انکے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی صورت میں شھید کردیئے جانے یا سزا دیئے جانے کا اندیشہ تھا، اس لئے صرف فتنہ کا دروازہ بند کرنے لئے فرمایا کہ انکے پیچھے نماز پڑھ لو، اور یہ جو نماز پڑھنے کا جواز ہے تو صرف اس کا معنی یہ ہے کہ فرض اتر جائے گا نہ یہ کہ کراہت بھی نہیں ہوگی، لیکن اب حکم شرع یہی ہے کہ فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکرہ تحریمی یعنی پڑھنی منع ہے اور پڑھ لی ہو تو پھیرنی واجب ہے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے: لا یؤمُّ فاجرٌمومناً إلا أن یقھرہ بسلطان،یخاف سیفہ وسوطہ۔

یعنی: کوئی فاسق کسی مسلمان کی امامت نہ کرے مگر اس حالت میں کہ وہ اپنی سلطنت کے زور سے اسے دبائے کہ یہ اس کی تلوار اور تازیانے کاخوف رکھتاہو۔

سنن ابن ماجۃ،کتاب : إقامۃ الصلاۃ،باب في فرض الجمعۃ، جلد 2،ص5،  دار المعرفۃ، بیروت

حدیث پاک :صلّوا خلف کل بر و فا جر کی وضاحت کرتے ہوئے اعلی حضرت فرماتے ہیں:

اصل بات یہ ہے کہ نمازِ عام کی امامتِ سلاطین خود کرتے ہیں یا وہ ،جسے وہ مقرر کریں اور بعض وقت حُکّام بد مذہب یافاسق بھی ہوئے، اُن کے پیچھے نماز پڑھنے سے وہی اندیشہ تھا تلوار اور تازیانہ کا،جوحدیث میں گزرا ۔ اسی بنا پر یہ حدیث آئی ہے کہ ضرورت کے وقت ان کے پیچھے پڑھ لے۔۔۔۔یہ جواز اس معنٰی پر ہے کہ فرض اتر جائے گا، نہ یہ کہ کوئی کراہت نہیں۔

(اظہار الحق الجلی، ص27، مکتبۃ المدینۃ)

فتاوی رضویہ شریف میں ہے: زمانہائے خلافت میں سلاطین خود امامت کرتے اور حضور عالمِ مکان ومایکون صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ ان میں فسّاق و فجّار بھی ہونگے فرمایا کہ

ستکون علیکم امراء یؤخرون الصلٰوۃ عن وقتھا

 (تم پر ایسے امراء وارد ہوں گے جو نمازوں کو وقت سے مؤخر کرینگے ۔ت)

(مسند الامام احمد بن حنبل مروی عن عبادہ بن الصامت، مطبوعہ دارالفکر بیروت ،  ۵/۳۱۴)

اور معلوم تھا کہ اہل صلاح کے قلوب ان کی اقتداء سے تنفر کریں گے اور معلوم تھا کہ اُن سے اختلاف آتشِ فتنہ کو مشتعل کرنے والا ہوگا اور دفع فتنہ دفع اقتداء فاسق سے اہم واعظم تھا ۔

قال ﷲ تعالٰی

والفتنۃ اکبر من القتل۔ (فتنہ قتل سے بڑاو بدتر ہوتا ہے۔ت)

(۳؎ القرآن    ۲/۲۷۱    )

لہذا دروازہ فتنہ بند کرنے کے لئے ارشاد ہوا: صلواخلف کل بر وفاجر۔

 (ہر نیک وفاجر کے پیچھے نماز ادا کرو۔ت)

 (سنن الدارقطنی، باب صفۃ من تجوز الصلٰوۃ الخ، مطبوعہ نشر السنۃ ملتان        ۲/۵۷)

یہ اس باب سے ہے: من ابتلی ببلیتین اختاراھونھما

 (جوشخص دومصیبتوں میں مبتلا ہوجائے تو ان میں آسان کو اختیار کرے۔ت)اور فقہا کا قول

تجوز الصلاۃ خلف کل بروفاجر  (ہر نیک وفاجرکے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے۔)

 اُسی معنی پر ہے جو اوپر گزرے کہ نماز فاسق کے پیچھے بھی ہوجاتی ہے اگر چہ غیر معلن کے پیچھے مکروہ تنزیہی اور معلن کے پیچھے مکروہِ تحریمی ہوگی۔

واللّٰه تعالی اعلم بالصواب۔

کتبه: ندیم عطاری مدنی حنفی۔

نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری۔

مورخہ 23 صفرالمظفر 1443ھ بمطابق 01 ستمبر،2021ء،بروز جمعۃ المبارک

اپنا تبصرہ بھیجیں