گروی رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ میں ایک شخص سے چھ لاکھ روپے قرض لے کر مکان تعمیر کر کے اسی شخص کو دو سال کےلیے گروی دے دوں گا کیا یہ معاہدہ جائز ہے ؟ بینوا توجروا۔

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

اس طرح معاہدہ کرنا کہ ایک شخص سے قرض لے کر اسی کو دو سال کے لئے مکان گروی پر دوں گا، اگر اس میں گروی دینے سے مراد یہ ہے کہ قرض دینے کے بدلے وہ دو سال تک اُس مکان میں مفت رہے گا تو یہ جائز نہیں کیونکہ اس میں قرض پر پر بغیر عوض کے نفع حاصل ہو رہا ہے اور جو نفع بغیر عوض کے حاصل ہو، عقد میں مشروط ہو وہ سود ہوتا ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔ اسی طرح گروی رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا بھی حرام ہے۔

عن عُمارة الهَمْداني، قَالَ: سمعتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: “كُل قرض جرّ منفعةً فهو ربًا”.

ترجمہ: حضرت عمارہ ھمدانی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہوتا ہے۔

( کتاب المطالب العالیہ، کتاب البیوع، بَابُ الزَّجْرِ عَنِ الْقَرْضِ إِذَا جَرّ مَنْفَعَةً، جلد 07، صفحہ 362، مطبوعہ دار العاصمة )۔

در مختار میں ہے: ” كل قرض جر نفعا حرام “.

اس کے تحت رد المحتار المعروف فتاویٰ شامی میں ہے: ” أي إذا كان مشروطا “.

ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ حرام ہے یعنی اس وقت جب وہ عقد میں مشروط ہو۔

( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 05، صفحہ 166، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

اسی میں ہی ایک اور مقام پر ہے: ” (لا انتفاع به مطلقا) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن “.

ترجمہ:( گروی رکھی ہوئی چیز سے ) نفع اٹھانا بالکل جائز نہیں، نہ خدمت کے ذریعے اور نہ ہی پہننے اور رہنے کے ذریعے، اور نہ ہی اجارے پر یا عاریۃً دے کر، خواہ مرتہن اٹھائے یا راہن ( دونوں پر حرام ہے )۔

( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 06، صفحہ 482، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

فقہ حنفی کی مشہور کتاب بہارِ شریعت میں ہے: ” مرہون چیز سے کسی قسم کا نفع اُٹھانا جائز نہیں ہے مثلاً لونڈی غلام ہو تو اس سے خدمت لینا یا اجارہ پر دینا مکان میں سکونت کرنا یا کرایہ پر اُٹھانا یا عاریت پر دینا، کپڑے اور زیور کو پہننا یا اجارہ و عاریت پر دینا الغرض نفع کی سب صورتیں ناجائز ہیں اور جس طرح مرتہن کو نفع اُٹھانا ناجائز ہے راہن کو بھی ناجائز ہے۔ 

( بہارِ شریعت، جلد 03، حصہ 17، صفحہ 702، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

            کتبہ            

 سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ