ڈاکٹروں کا گفٹ لینا اور کمپنیوں کا دینا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں آجکل جو ڈاکٹر حضرات کو دوائیوں کی کمپنیاں گفٹ کے نام پر اے سی ،کار وغیرہ دیتے ہیں اور مقصد اس میں یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ہماری ہی کمپنی کی دوا مریضوں کو لکھ کر دے یونہی لیبارٹریز والے گفٹ دیتے ہیں تاکہ ہماری لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے جائیں، ڈاکٹروں کا یہ گفٹ لینا اور کمپنیوں کا دینا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

مختلف کمپنیاں جو آج کل ڈاکٹرز حضرات کو گفٹ کے نام پر اے سی، کار، مختلف تفریحی مقامات کے ٹرپ، گھر، میڈیکل کے آلات یا دیگر مَمالِک کے سفر کے لیے ٹکٹ وغیرہ دیتی ہیں اور مقصد اس میں یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ہماری ہی کمپنی کی دوائیاں مریضوں کو لکھ کر دے، یونہی لیبارٹریز والے گفٹ دیتے ہیں تاکہ ہماری ہی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے جائیں، تو ڈاکٹروں کا اس طرح یہ گفٹ لینا اور کمپنیوں یا لیبارٹریوں کا اس طرح یہ گفٹ دینا خواہ ڈاکٹر اس کا مطالبہ کرے یا نہ کرے، رشوت ہی ہے جو کہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ لہذا ڈاکٹروں اور کمپنیوں کو اس سے بچنا بے حد ضروری ہے۔ ہاں اگر کمپنیاں معمولی قسم کی چیزیں مثلاً دوائیں، قلم، پیڈ اور کیلنڈر وغیرہ دیں اور اپنی پروڈکٹس بیچنے کا پابند نہ کریں تو یہ جائز ہے۔

حدیثِ پاک میں ہے: ” لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ.

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے.

( سنن أبي داود، جلد 03، صفحہ 300، كتاب الأقضية، باب في كراهية الرشوة، مطبوعہ مکتبۃ العصریہ بیروت )۔

بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: ” والرشوة بكسر الراء ما یعطیہ الشخص للحاکم وغیرہ لیحکم لہ او یحملہ علی ما یرید “.

ترجمہ: رشوت یہ ہے کہ کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو کچھ دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کردے یا حاکم کو اپنی منشاء پوری کرنے پر ابھارے۔

( البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب القضاء، جلد 06، صفحہ 285، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی، بیروت )۔

سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ رشوت کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ” رشوت لینا مطلقاً حرام ہے کسی حالت میں جائز نہیں جو پرایا حق دبانے کے لئے دیا جائے رشوت ہے یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیاجائے رشوت ہے لیکن اپنے اُوپر سے دفع ظلم کے لئے جو کچھ دیاجائے دینے والے کے حق میں رشوت نہیں یہ دے سکتا ہے لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام۔

( فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ597، رضافاونڈیشن،لاہور )۔

سیدی و مرشدی امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ تحریر فرماتے ہیں: ” ڈاکٹرز کو دواؤں کی کمپنی کی جانب سے تحفۃً جو دوائیں، گھڑی، قلم اور پیڈ وغیرہ ملتے ہیں وہ عُمُوماً معمولی ہوتے ہیں اور کمپنی یہ اشیاء اپنی مشہوری کیلئے دیتی ہے کیونکہ اکثر اوقات ان پر کمپنی کانام بھی موجود ہوتا ہے جیسا کہ بہت سے ادارے سالانہ اپنی ڈائری جاری کرتے ہیں اور مختلف لوگوں کومفت دیتے ہیں۔ لہٰذا اس مُعامَلے پر عُرف جاری ہونے کی وجہ سے ان معمولی اشیاء کا لینا اور کمپنی کا انہیں دینا جائز ہے اور یہ رشوت کے زُمرے میں نہیں۔ اس کے علاوہ کار، A.C اور دیگر مَمالِک کے سفر کیلئے ٹکٹ وغیرہ عُمُوماً کمپنی کی جانب سے تحفۃً نہیں دیا جاتا کیونکہ ڈاکٹر جو دوائی لکھ کر دے رہا ہے وہ تو اس کا کام ہے اور وہ علاج کی رقم بھی وُصول کرتا ہے۔ کمپنی کیلئے اس نے جُدا گانہ کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی اُجرت بنتی ہو لہٰذا شرعاً یہ کمیشن یا اُجرت نہیں۔ ہاں اگر رِشوت ہی کو کمیشن کہیں تو اور بات ہے جیسا کہ یہ بھی ہمارے عُرف ہی میں ہے کہ بعض اوقات جب پولیس کسی کا کام کروا دیتی ہے تو اس پر رِشوت لیتی ہے مگر اسے رشوت کہنے کے بجائے اپنے حق یا اپنےکمیشن کا نام دیتی ہے تو ایسا کمیشن بھی رِشوت ہی ہے۔ کمپنی کے مختلف چیزیں دینے کا مقصد صرف اپنی میڈیسن ( دوائیں ) زیادہ سے زیادہ بکوانا ہوتا ہے تو کام نکلوانے کیلئے دینا رِشوت ہے لہٰذا ڈاکٹر کمیشن کامطالبہ کرے تو رِشوت کا مطالبہ ہے اوراگر مطالبہ نہ بھی کرے تب بھی صَراحَۃً یا دَلالَۃً طے ہونے کی ( یعنی کھلے لفظوں میں یا جو علامت سے ظاہر ہو، UNDERSTOOD ہو اس ) صورت میں رِشوت ہی ہے اور رِشوت حرام ہے۔

( غیبت کی تباہ کاریاں، صفحہ 374، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)۔

محققِ اہلسنت مفتی علی اصغر عطاری صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنے ایک فتویٰ میں فرماتے ہیں: ” ایک گفٹ وہ ہوتا ہے جس میں یہ طے ہوتا ہے کہ آپ صرف ہماری کمپنی کا مال فروخت کرو، دیگر کمپنیوں کا مال چھوڑ دو تو ہم آپ کو یہ گفٹ دیں گے۔ یہ رشوت کی صورت ہے۔ ڈاکٹروں کو میڈیکل کمپنیاں جو مختلف پیکجز دیتی ہیں تحفہ تحائف کی صورت میں وہ بھی یہی تیسری صورت ہوتی ہے۔

( ماہنامہ فیضان مدینہ شوال المکرم 1441ھ، صفحہ 30، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )۔

مفتی ہاشم صاحب مد ظلہ العالی اسی طرح کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ” یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ان اشیاء کو گفٹ یا کمیشن و اجرت قرار دینا درست نہیں، کمیشن اس لیے نہیں کہ ڈاکٹر جو دوائی لکھ کر دے رہا ہے وہ تو اس کا کام ہے اور وہ علاج کی رقم بھی وُصول کرتا ہے، کمپنی کیلئے اس نے جُدا گانہ ( یعنی الگ سے ) کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی اُجرت و کمیشن بنتی ہو، اور گفٹ اس لیے نہیں کہ گفٹ وہ ہوتا ہے جس میں کسی شخص کو بغیر کسی عوض کے کسی چیز کا مالک بنایاجائے جبکہ یہاں بغیر عوض نہیں بلکہ اپنا کام بنانے کے لیے یہ اشیاء دی جاتی ہیں “.

( فتوی نمبر: 7102، دارالافتاء اہلسنت دعوتِ اسلامی ).

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

       کتبہ            

 سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 05 جمادی الاولی 1443ھ بمطابق 10 دسمبر 2021ء بروز جمعہ )۔