زمین کی خرید و فروخت میں کاغذات کے اخراجات

علمائے دین کی بارگاہ میں عرض ہے کہ زمین کی خرید و فروخت میں کاغذات کے اخراجات خریدنے والے کےذمہ لازم ہیں۔ تو یہ پوچھنا ہے کہ اگر بیچنے والا ادا  کرے تو کیا حکم ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بیع میں معاہدہ لکھنے کے اخراجات مشتری(یعنی خریدنے والے) پر لازم ہوتے ہیں اگر کوئی یہ شرط لگائے کہ کاغذات لکھنے کے اخراجات بائع (بیچنے والا)  ادا کرے گا تو یہ شرط عقد کے خلاف اور شرط فاسد ہے جو کہ عقدِ بیع کو فاسد کر دے گی. لہذا ایسی شرط لگانا جائز نہیں ہے.

“ملتقی الابحر” میں ہے:ولو بشرط لا یقتضیہ العقد، وفیہ نفع لأحد المتعاقدین …..فھو فاسد

اگر بیع ایسی شرط کے ساتھ ہو جس کا عقد تقاضا نہ کرتا ہوں اور اس میں متعاقدین یعنی بائع ومشتری دونوں میں سے کسی ایک کا نفع ہو تو یہ بیع فاسد ہے۔

(ملتقی الابحر مع مجمع الانھر، جلد2، صفحہ62،دار إحياء التراث العربی بیروت).

اسی ملتقی الابحر میں ہے:وفیھا:رجل اشتری أرضا علی أن خراجھا علی البائع، البیع فاسد،

فساد والی شرطوں میں سے یہ بھی ہے کہ ایک شخص نے اس شرط پر جگہ خریدی کہ اس کا خراج بائع کو دینا ہو گا، تو یہ بیع فاسد ہے۔

(شرح المجلۃ، جلد2، صفحہ70، مطبوعہ پشاور).

“درمختار” میں ہے:لو کتب فی الصك فما اتفق المشتری فیہا من نفقۃ اورم فیہا من مرمۃ فعلی البائع یفسد البیع

اگر بیع نامہ میں لکھا گیا کہ جو کچھ مشتری مبیع پر خرچ کرے گا یا اس میں مرمت کرے گا وہ بائع کے ذمے ہوگا تو بیع فاسد ہو جائی گی.

(درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ص437مطبوعہ دارالكتب العلمية ).

واللہ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب

مجیب:ابو معاویہ زاہد بشیر عطاری مدنی

نظرثانی: ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری المدنی زید مجدہ

(6ربیع الاخر 1443ھ بمطابق  11نومبر 2021ء بروز جمعرات)