منقولی چیزوں کو قبضہ سے پہلے آگے بیچنا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ منقولی (moveable) چیزوں کو قبضہ سے پہلے آگے بیچنا جائز ہے؟آج کل آن لائن خرید و فروخت میں دیکھا گیا ہے کہ چیز قبضہ سے پہلے آگے بیچ دی جاتی ہے اس کا بھی حکم بتادیں۔

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب

منقولی (moveable) چیزوں کو قبضہ (possesion) سے پہلے آگے بیچنا جائز نہیں،آن لائن کاروبار میں بھی ضروری ہے کہ پہلے چیز کو خرید کر اس پر قبضہ کیا جائے پھر آگے بیچا جائے۔آن لائن کاروبار کا ایک شرعی طریقہ یہ ہے کہ چیز کو خریدنے کے بعد کسی کو قبضے کا وکیل بنادے کیونکہ وکیل کا قبضہ موکل کا قبضہ ہوتا ہے اور اسی وکیل کے ذریعے اپنے کسٹمر تک پہنچا دے،یہ کام سامان پہنچانے والی کمپنیوں مثلا ٹی سی ایس، لیو پارڈ وغیرہ کے  ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے یعنی ان کے کسی فرد کو کہ دیا جائے کہ میری طرف سے فلاں چیز وصول کر کے فلاں ایڈریس پر پہنچا دی جائے۔اس طرح یہ آن لائن خرید و فروخت جائز ہوجائے گی۔

قبضہ سے پہلے چیز آگے بیچنے کی ممانعت پر بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:ابْن عُمَرَ رَضِيَ اللہ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ.”ترجمہ:رسول اللہ  صلی اللہ  تعالٰی علیہ وسلم   نے فرمایا:جو شخص غلہ خریدے، جب تک قبضہ نہ کرلے اُسے بیع نہ کرے۔

(بخاري،کتاب البیوع،باب بیع الطعام قبل ان یقبض،صفحہ 513،حدیث 2136،دار ارقم)

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَلَا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ” ترجمہ: عبداللہ  بن عباس رضی اللہ  تعا لٰی عنہما کہتے ہیں  ، جس کو رسول اللہ  صلی اللہ  تعالٰی علیہ و سلم   نے قبضہ سے پہلے بیچنا منع کیا، وہ غلہ ہے مگر میرا گمان یہ ہے کہ ہر(منقولی) چیز کا یہی حکم ہے۔

(المرجع السابق،حدیث 2135)

 عَنْ عَبْدِ اللہ رَضِيَ اللہ عَنْهُ قَالَ : ” كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعْلَى السُّوقِ فَيَبِيعُونَهُ فِي مَكَانِهِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ.” ترجمہ:حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے فرماتے ہیں: لوگ بازار میں غلہ خرید کر اُسی جگہ (بغیر قبضہ کیے) بیچ ڈالتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ  تعالٰی علیہ وسلم   نے اسی جگہ بیع کرنے سے منع فرمایا، جب تک منتقل نہ کرلیں۔

(صحیح البخاري،کتاب البیوع،باب منتہی التلقی،الحدیث: 2167،صفحہ 519،دار ابن کثیر)

عمدۃ القاری میں ہے:”قولہ(حتی ینقلوہ) الغرض منہ:حتی یقبضوہ لان العرف فی قبض المنقول ان ینقل عن مکانہ” ترجمہ: منتقل کرنے سے مراد قبضہ کرنا ہے کیونکہ منقولی اشیاء میں عرف یہی ہے کہ اس جگہ سے منتقل کر کے قبضہ کرتے ہیں۔

(عمدۃ القاری،جلد 11،صفحہ 410،دار الکتب العلمیہ)

الاختیار میں ہے:”ولا یجوز بیع المنقول قبل القبض”ترجمہ: منقولی کو قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں۔

(الاختیار،جلد 2،کتاب البیوع،باب شروط صحۃ البیع،صفحہ 8،دار الکتب العلمیہ)

النقایہ میں ہے:”ولا یجوز بیع مشتری منقول قبل قبضہ”ترجمہ: منقولی چیز کو قبضہ سے پہلے بیچنا ناجائز ہے۔

(شرح النقایہ،جلد 2،کتاب البیوع،فصل فی بیع المنقول،صفحہ 368،دار ارقم)

وکیل کے قبضہ کے بارے میں در مختار میں ہے:”لنیابته عنه فی القبض فصار قابضا حکما”ترجمہ:وکیل قبضہ کرنے میں موکل کا نائب ہوتا ہے تو موکل حکما قبضہ کرنے والا ہوجاتا ہے۔

(رد المحتار،جلد 9،کتاب الاجارہ،صفحہ 154،دار المعرفہ)

بہار شریعت میں ہے:وکیل کا قبضہ موکل ہی کا قبضہ ہے۔

(بہار شریعت،جلد 3،صفحہ 180،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ