جلدی قسطیں دینے پر ڈسکاونٹ

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ڈھائی سال کی قسطوں پر پلاٹ خریدا تھا اب بائع کہتا ہے کہ جلد پیسے دے دیں تو ڈسکاؤنٹ ملے گا اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب

صورت مسئولہ میں بائع کو ڈسکاؤنٹ دینا واجب ہے کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ بائع نے اگر ادھار پر مال بیچا اور ثمن کی ادائیگی کے لئے وقت مقرر کردیا ہو اور مشتری اس مقررہ مدت سے پہلے ثمن ادا کردے تو مدت کی وجہ سے بائع نے جو نفع مقرر کیا تھا اس کو ثمن کی مکمل مدت پر تقسیم کریں اور ثمن کی ادائیگی پر جتنے دن گزرے ہیں فقط اتنا ہی نفع ملے گا یعنی بقیہ نفع ساقط ہوجائے گا اور بائع کو باقی نفع لینا جائز نہیں ہوگا۔مثال کے طور پر بائع نے بارہ مہینے کے ادھار پر کوئی چیز بیچی جس میں اس کا نفع 1 لاکھ روپے تھا اور مشتری 9 ماہ میں وہ رقم ادا کردے تو اب بائع 75000 نفع لے سکتا ہے 25000 ساقط ہوجائے گا، اگر مشتری 6 ماہ میں پیسے دے دے تو اب بائع 50000 کا حقدار ہوگا اور باقی ساقط ہوجائے گا۔

درمختار میں ہے: “قضی المدیون الدین الموجل قبل الحلول۔۔۔۔۔لا یاخذ من المرابحۃ التی جرت بینھما الا بقدر ما مضی من الایام”ترجمہ: مدیون نے دین موجل کی ادائیگی مدت پوری ہونے سے پہلے کردی تو دائن اس نفع کے حساب سے دین نہیں لے سکتا جو ان کے درمیان طے ہوا تھا بلکہ جو ایام گزرے ہیں صرف اسی قدر نفع لے گا۔

 اس کے تحت رد المحتار میں ہے: “صورته اشتری شیئا بعشرۃ نقدا و باعه الاخر بعشرین الی اجل ھو عشرۃ اشھر،فاذا قضاہ بعد تمام خمسة۔۔۔یاخذ خمسة و یترک خمسة” ترجمہ: اس کی صورت یہ ہے کہ کسی نے کوئی چیز دس میں نقد خریدی اور کسی اور کو بیس میں دس مہینے کے ادھار پر بیچ دی، تو مشتری اگر پانچ مہینے کے بعد ہی ثمن ادا کردے تو (نفع) میں سے پانچ لے گا اور پانچ چھوڑ دے گا۔

(الدر المختار مع الرد المحتار،جلد10،کتاب الخنثی،صفحہ 524،دار المعرفہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 19 جون 2021 بمطابق 8 ذو القعدہ المبارک 1442ھ بروز ہفتہ )