برتن ناپاک ہوجائیں تو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ برتن ناپاک ہوجائیں تو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے نیز پلاسٹک کے برتن پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب

اگرکوئی ایسا برتن ناپاک ہو گیا جس میں نجاست جذب نہ ہوتی ہو جیسے چینی یا اسٹیل وغیرہ کے برتن تو اسے صرف تین مرتبہ دھو لینا کافی ہے،وہ پاک ہو جائے گا اور اگر ایسا برتن ہو جس میں مسام(چھوٹے چھوٹے سوراخ )ہوں کہ جن کےذریعے نجاست اس میں جذب ہوجاتی ہو جیسے گھڑا وغیرہ یا برتن تو ایسا ہو کہ جس میں نجاست جذب نہیں ہوتی لیکن اُس میں ٹوٹنے کی وجہ سےدراڑ یا لکیر پڑگئی ہو تو اسے پاک کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ اسے ایک مرتبہ دھو کر چھوڑ دیں یہاں تک کہ پانی ٹپکنا بند ہوجائے پھر دوسری مرتبہ دھوئیں اور اسی طرح چھوڑ دیں اور پھر تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی کریں تو وہ برتن پاک ہو جائے گا اور اگر نجاست ایسی ہوکہ جس کی تہ جم جاتی ہے تو اس کی تہ کو ختم کرنا لازم ہوگا۔

پلاسٹک کے برتن اگر ایسے ہوں جو نجاست کو جذب کرلیتے ہوں یا کھردار ہوں تو ان کو تین مرتبہ اس طرح دھویا جائے کہ ہر مرتبہ پانی ٹپکنا موقوف ہوجائے، اور اگر پلاسٹک کے برتن ایسے ہوں جو نجاست کو جذب نہیں کرتے تو صرف پانی بہا دینا کافی خشک کرنا ضروری نہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:و یشترط العصر فی کل مرۃ فیما ینعصر۔۔۔۔۔۔وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس.هكذا في التبيين هذا إذا تشربت النجاسة كثيرا وإن لم تتشرب فيه أو تشربت قليلا يطهر بالغسل ثلاثا. هكذا في محيط السرخسي.

(عالمگیری،جلد 1،کتاب الطھارۃ،باب النجاسۃ و احکامھا،فصل فی تطھیر الانجاس،صفحہ 47،دار الکتب العلمیہ)

بہار شریعت میں ہے: جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے جیسے چٹائی، برتن، جوتا وغیرہ اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے، یوہیں دو مرتبہ اور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا وہ چیز پاک ہو گئی اسے ہر مرتبہ کے بعد سوکھانا ضروری نہیں۔

(بہار شریعت، جلد1، حصہ2، صفحہ399، المکتبۃ المدینہ)

مزید فرماتے ہیں: اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نجاست جذب نہ ہوئی ،جیسے چینی کے برتن، یا مٹی کا پرانا استعمالی چکنا برتن یا لوہے، تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں تو اسے فقط تین بار دھو لینا کافی ہے، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔

(بہار شریعت، جلد1، حصہ2، صفحہ399، المکتبۃ المدینہ)

 اعلی حضرت فرماتے ہیں:مٹی کا برتن چکنا استعمالی جس کے مسام (چھوٹے چھوٹے سوراخ) بند ہوگئے ہوں جیسے ہانڈی، وہ تو تانبے کے برتن کی طرح صرف تین بار دھو ڈالنے سے پاک ہو جاتا ہے اور جو ایسا نہ ہو جیسے پانی کے گھڑے وغیرہ اُن کو ایک بار دھوکر چھوڑ دیں کہ پھر بوند نہ ٹپکے اور تری نہ رہے،دوبارہ دھوئیں اور اسی طرح چھوڑ دیں،سہ بارہ ایسا ہی کریں کہ پاک ہو جائے گا۔چینی کا برتن جس میں بال(ٹوٹنے کی وجہ سے دراڑ یا لکیر) ہو،وہ بھی یوں ہی خشک کر کے تین بار دھویا جائےگا اور ثابت (کسی قسم کی ٹوٹ وغیرہ سے سلامت)ہو،توصرف تین بار دھودینا کافی ہے،مگر نجاست اگر جرم دار(جس کی تہ جم جائے)ہے،تو اس کا جرم چھڑا دینا بہر حال لازم ہے۔خشک کرنے کے یہ معنیٰ ہیں کہ اتنی تری نہ رہے کہ ہاتھ لگانے سے ہاتھ بھیگ جائے،خالی نم یا سیل کا رہنا مضائقہ نہیں،نہ اس کے لئے دھوپ یا سایہ شرط۔

(فتاوی رضویہ،ج4،ص559،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 9 اکتوبر 2018 بمطابق 29 محرم 1440ھ بروز منگل)