ٹشو پیپر سے استنجا کرنا کیسا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ ٹائلیٹ پیپر/ٹشو پیپر سے استنجا کرنا کیسا؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

نجاست کو ڈھیلے سے صاف کرنا سنت ہے اور پھر پانی سے طہارت حاصل کرنا مستحب ہے بلکہ قرآن پاک نے صفائی کے اس اہتمام کی تعریف فرمائی،کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا یہ سب ڈھیلے کے حکم میں ہیں، کاغذ سے استنجا کرنا ممنوع ہے چاہے سادہ ہو یا لکھا ہوا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قیمتی ہوتا ہے اور لکھنے کے کام آتا ہے اور اس سے استنجا کرنے میں بے ادبی ہے،لیکن ٹائلٹ پیپر کا اصل مقصد ہی صفائی ہے اسی وجہ سے یہ پانی کو جذب بھی کرتا ہے ،نہ تو یہ حقیقتا کاغذ ہے نہ ہی اس کا استعمال کاغذ کی طرح لکھنے میں ہوتا ہے نہ ہی عرف عام میں اسے کوئی کاغذ کہتا ہے اس لئے اس سے استنجا کرنا بالکل جائز ہے۔

اللہ پاک سورۃ التوبہ کی آیت 108 میں ارشاد فرماتا ہے:”فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ(۱۰۸)” ترجمہ:اس میں وہ لوگ ہیں جو خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

اس کی تفسیر میں ہے:”یہ آیت مسجد قبا والوں کے حق میں نازل ہوئی، سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے گروہ انصار! اللہ عزوجل نے تمہاری تعریف فرمائی ہے، تم وضو اور استنجے کے وقت کیا عمل کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ !صلی اللہ علیہ وسلم، ہم بڑا استنجا تین ڈھیلوں سے کرتے ہیں ،اس کے بعد پانی سے طہارت کرتے ہیں۔

(تفسیر صراط الجنان،جلد 4،صفحہ 239،مکتبہ المدینہ)

فتاوی شامی میں ہے:”فکان الجمع سنۃ علی الاطلاق فی کل زمان و ھو الصحیح و علیہ الفتوی”ترجمہ:پانی اور ڈھیلوں کو جمع کرنا مطلقا ہر زمانے میں سنت ہے اور یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے۔

(فتاوی شامی،جلد 1،کتاب الطہارۃ،فصل الاستنجاء،صفحہ 604،دار المعرفہ)

بہار شریعت میں ہے:”کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا یہ سب ڈھیلے کے حکم میں  ہیں،ان سے بھی صاف کر لینا بلا کراہت جائز ہے۔”

(بہار شریعت،جلد 1،استجنے کا بیان،صفحہ 411،مکتبہ المدینہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:”کاغذ سے استنجا کرنا مکروہ وممنوع وسنّتِ نصارٰی ہے کاغذ کی تعظیم کا حکم ہے اگرچہ سادہ ہو، اور لکھا ہوا ہو تو بدرجہ اولٰی۔

(فتاوی رضویہ،جلد 4،صفحہ 120،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

رد المحتار میں ہے:”و کذا ورق الکتابۃ لہ احترام لصقالتہ و تقومہ ولہ احترام ایضا لکونہ اٰلۃ لکتابۃ العلم ولذا عللہ فی التاترخانیۃ بان تعظیمہ من ادب الدین۔۔۔۔۔ و اذا کانت العلۃ فی الابیض کونہ اٰلۃ للکتابتہ یوخذ منھا عدم الکراھۃ فیما لایصلح لھا اذاکان قالعا للنجاسۃ غیر متقوم”ترجمہ:اسی طرح کتابت کے کاغذ(سے بھی استنجا ممنوع ہے) اس لئے کہ یہ قابل عزت ہے اس کے صاف اور قیمتی ہونے کی وجہ سے اور اس کا احترام ہے کیونکہ یہ کتابت علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آداب دین سے ہے۔۔۔۔۔ اور جب اس کی علت یہ ہوکہ وہ آلہ کتابت ہے تو اس کانتیجہ یہ ہوا کہ اگر کاغذ تحریر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور نجاست کو زائل کرنے والا ہو اور قیمتی بھی نہ ہو تو اسکے استعمال میں کوئی کراہت نہیں۔

(رد المحتار،جلد 1،کتاب الطہارۃ،فصل الاستنجاء،صفحہ 607،دار المعرفہ)

فتاوی یورپ میں ہے:”عام کتب فقہ میں کاغذ سے نجاست صاف کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ یہ تعلیم و تعلم کا ذریعہ ہے،ٹویلٹ پیپر بھی اگرچہ کاغذ ہی کی قسموں میں سے ایک ہے لیکن اس کے بنانے والوں سے اسے تعلیم و تعلم کے لئے نہیں بلکہ خاص اسی کام کے لئے بنایا ہے اسی لئے وہ کھردار اور جاذب ہے،پھر وہ یورپی ممالک میں مٹی کے ڈھیلوں سے زیادہ سستا اور سہل الحصول ہے،پھر ڈھیلوں کے استعمال کے بعد ہفتہ عشرہ میں بیریل کی صفائی پر جس قدر صرفہ ہوتا ہے اسی قدر صرفہ سے اتنا زیادہ ٹویلیٹ پیپر خریدا جا سکتا ہے جو سالوں سال کام آسکے،ان دونوں باتوں کے پیش نظر بالکل واضح ہے کہ ٹویلٹ پیپر کے استعمال میں نہ تو ذریعہ تعلیم و تعلم کی توہین ہے اور نہ ہی تضییع مال بلکہ پاکیزگی و نظافت حاصل کرنے کا آسان اور کم قیمت ذریعہ ہے لہذا اس کے استعمال میں کوئی حرج و کراہت نہیں ہونی چاہیے۔

(فتاوی یورپ،کتاب الطہارہ،صفحہ 110،مکتبہ جام نور، دہلی)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 6 ستمبر 2021 بمطابق 28 محرم الحرام 1443ھ بروز پیر )