شب ولادت کی شب قدر پر فضیلت

شب ولادت کی شب قدر پر فضیلت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کہا جاتا ہے کہ شب میلاد شب قدر سے افضل ہے، کیا یہ درست ہے؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شب میلاد شب قدر سے افضل ہے ۔اس کے متعلق علمائے کرام نے باقاعدہ کئی وجوہات لکھی ہیں:

سب سے پہلی یہ ہے کہ شب میلاد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائیں جبکہ شب قدر آپ کو عطا کی گئی۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ شب قدر میں ملائکہ کا نزول ہوتا ہے جبکہ شب میلاد میں سب سے افضل حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ فرما ہوئے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ شب قدر کے باعث امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فضیلت بخشی گئی جبکہ شب میلاد میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جمیع مخلوقات کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔

لہذا اس رات کو غفلت میں گزارنے کے بجائے عبادات میں صرف کرناچاہیے اور آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں درود سلام کے نذرانے پیش کیے جائیں اور محفل میلاد منعقد کریں، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت بیان کریں کہ یہ رات انوار و تجلیات و رحمت باری تعالیٰ کے نزول کی رات ہے۔

الانوار المحمدیۃ من المواہب اللدنیۃ میں امام نبہانی رحمۃ اللہ علیہ میں لکھتے ہیں

”وليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من ليلة القدر“

ترجمہ:شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ قدر سے افضل ہے۔(الانوار المحمدیۃ من المواہب اللدنیۃ ، صفحہ 28 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

شرف اللیلتین میں ہے

”قال الامام حافظ الفقیه أبو عبد الله محمد بن احمد مرزوق التلمسانی وشرف لیلة مولده صلوات الله وسلامہ علیه غیر خفی انها شرفت بولادة خیر الْخلائق وأکرمها، وأزکی الْبریة واشرفها، وخاتم الْأنبیاء وید الرسل وسر الْوجود ومعناه ووسیلة الْانبیاء والمرسلین وامام الملائکة والنبیین ورحمة الله العالمین وأفضل الْخلائق أجمعین صلوات الله علیه وعلی آله الاکرمین وصحبه المنتخبتین وسلم علیه وعلیهم“

ترجمہ:امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن مرزوق تلمسانی کہتے ہیں: شبِ میلادِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت پوشیدہ نہیں ہے اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ رات تمام مخلوقات میں سے بہترین اور معزز، اور تمام مخلوق سے زیادہ پاکیزہ اور شرف والے، انبیاء کے خاتم، رسولوں کے سردار اور کائنات کے راز کی ولادت کی وجہ سے فضیلت والی ہوئی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء اور رسولوں کے وسیلہ، ملائکہ اور انبیاء کے امام، تمام جہانوں کے لیے رحمت اور تمام مخلوق سے افضل و اَعلی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی مکرّم آل پر اور آپ کے صحابہ کرام رضوان الله علیهم اجمعین پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔( شرف اللیلتین، صفحہ 183، مطبوعہ بیروت)

المواهب اللدنية بالمنح المحمدية میں عظیم محدث امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

” إذا قلنا بأنه عليه الصلاة والسلام ولد ليلاً، فأيما أفضل : ليلة القدر أو ليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم ؟ أجيب : بأن ليلة مولده عليه الصلاة والسلام أفضل من ليلة القدر من وجوه ثلاثة :

أحدها : أن ليلة المولد ليلة ظهوره صلي الله عليه وآله وسلم ، وليلة القدر معطاة له، وما شرف بظهور ذات المشرف من أجله أشرف مما شرف بسبب ما أعطيه، ولا نزاع في ذلک، فکانت ليلة المولد. بهذا الاعتبار. أفضل.

الثاني : أن ليلة القدر شرفت بنزول الملائکة فيها، و ليلة المولد شرفت بظهوره صلي الله عليه وآله وسلم فيها. وممن شرفت به ليلة المولد أفضل ممن شرفت به ليلة القدر، علي الأصح المرتضي (أي عند جمهور أهل السنة) فتکون ليلة المولد أفضل.

الثالث : ليلة القدر وقع التفضل فيها علي أمة محمد صلي الله عليه وآله وسلم ، وليلة المولد الشريف وقع التفضل فيها علي سائر الموجودات، فهو الذي بعثه اﷲ تعالٰي رحمة للعالمين، فعمّت به النعمة علي جميع الخلائق، فکانت ليلة المولد أعم نفعاً، فکانت أفضل من ليلة القدر بهذا الاعتبار“

ترجمہ : جب ہم یہ کہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت پیدا ہوئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل ہے یا لیلۃ القدر؟ میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میلاد کی رات تین وجوہ کی بناء پر شبِ قدر سے اَفضل ہے :

1۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور شبِ میلاد میں ہوا جب کہ لیلۃ القدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی گئی، لہٰذا وہ رات جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کا شرف ملا اُس رات سے زیادہ شرف والی ہوگی جسے اِس رات میں تشریف لانے والی ہستی کے سبب سے شرف ملا، اور اِس میں کوئی نزاع نہیں۔ لہٰذا اِس اِعتبار سے شبِ میلاد شبِ قدر سے افضل ہوئی۔

2۔اگر لیلۃ القدر کی عظمت اِس بناء پر ہے کہ اِس میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے تو شبِ ولادت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کائنات میں جلوہ فرما ہوئے۔ جمہور اہلِ سنت کے قول کے مطابق شبِ میلاد کو جس ہستی (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے شرف بخشا وہ شبِ قدر کو شرف بخشنے والی ہستیوں(یعنی فرشتوں) سے کہیں زیادہ بلند و برتر اور عظمت والی ہے۔ لہٰذا شبِ ولادت ہی افضل ہے۔

3۔شبِ قدر کے باعث اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فضیلت بخشی گئی اور شبِ میلاد کے ذریعے جمیع موجودات کو فضیلت سے نوازا گیا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃً للعالمین بنا کر بھیجا، اور اِس طرح نعمتِ رحمت جمیع کائنات کے لیے عام کر دی گئی۔ لہٰذا شبِ ولادت نفع رسانی میں کہیں زیادہ ہے، اور اِس اعتبار سے بھی یہ لیلۃ القدر سے افضل ٹھہری۔(قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، ج1 :ص 145، موسسہ الرسالہ بیروت٭عبد الحق، ما ثَبَت مِن السُّنّة في أيّام السَّنَة : ص59، 60، مطبوعہ ھند٭زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، ج1 :ص 255، 256، دار الکتب العلمیہ بیروت٭نبهاني، جواهر البحار في فضائل النبي المختار صلي الله عليه وآله وسلم ، ج 3 :ص 424، دار الکتب العلمیہ بیروت)

رد المحتار علي در المختار علي تنوير الأبصار، شرواني اور نبهاني میں ہے :

”أن أفضل الليالي ليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم ، ثم ليلة القدر، ثم ليلة الإسراء والمعراج، ثم ليلة عرفة، ثم ليلة الجمعة، ثم ليلة النصف من شعبان، ثم ليلة العيد“

ترجمہ:راتوں میں سے افضل ترین شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، پھر شبِ قدر، پھر شبِ اِسراء و معراج، پھر شبِ عرفہ، پھر شبِ جمعہ، پھر شعبان کی پندرہویں شب اور پھر شبِ عید ہے۔(رد المحتار علي در المختار علي تنوير الأبصار، جلد 2 ،صفحہ 511، مطبوعہ دار الفکر بیروت٭شرواني، حاشية علي تحفة المحتاج بشرح المنهاج،ج 2 ، ص 405، مطبوعہ بیروت٭نبهاني، جواهر البحار في فضائل النبي المختار صلي الله عليه وآله وسلم ،ج 3 ،ص 426، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

ارشاد باری تعالیٰ ہے

”قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ“

ترجمہ:عیسیٰ بن مریم نے عرض کی: اے اللہ ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔(سورۃ المائدہ ، آیت 114، پارہ6)

تفسیر خزائن العرفان میں صدر الافاضل علامہ سیّد نعیم الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔“ ( تفسیر خزائن العرفان ،سورة المائدہ ، آیت 114 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

شرف اللیلتین میں ہے

”قد قیل ان المشتغل فِي هذه اللیلة بالصلاة علی النبی صلی ﷲ علیہ وسلم والقیام باحیاہ سنته ومعوْنة اله ومساهمتهم وتعظیم حرمتھم والْاستکثار من الصدقة واعمال البر واغاثة الملھوف، وفک العاني، ونصر المظلوم ھو أفضل مما سوی ذلک مما احدث اذ لا یخلو من مزاحم في النیة، او مفسد للعمل او دخول الشهرة. وطریق الحق والسلامة معروف والافضل في ھذه اللیلة مما ذکرناه من اعمال البر، والاستکثار من الصلاة علی النبی صلی ﷲ علیہ وسلم لیحظی المستکثر منْها ببعض ما ورد فی فضلھا“

ترجمہ:یہ کہا گیا ہے کہ اِس رات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے، آپ کی سنت کا احیاء کرنے، آپ کی آل کی مدد کرنے، ان کی حرمت کی تعظیم کرنے، صدقہ اور نیک اعمال کی کثرت کرنے، مفلوک الحال کی مدد کرنے اور قیدی کو آزاد کروانے اور مظلوم کی مدد کرنے میں مشغول ہونے والا، ان لوگوں سے افضل ہے جنہوں نے اس رات میں بدعات(میوزک والی نعتیں ،قوالیاں وغیرہ) کو فروغ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بھی نیت میں خلل، یا عمل میں فساد، اور شہرت کی چاہت سے خالی نہیں ہوتا اور حق اور سلامتی کا راستہ معروف ہے۔ اِس رات میں نیک اَعمال کرنا، کثرت کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنا اور دیگر اعمال جن کا ہم نے ذکر کیا ہے وہی افضل ہیں تاکہ کثرت کے ساتھ عمل کرنے والے کو (اِس رات)کے متعلق جو فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اُن میں سے حصہ مل سکے۔( شرف اللیلتین، ص211، مطبوعہ بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

10ربیع الاول 1446ھ14ستمبر 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں