قسطوں کا کاروبار اور جرمانے کی شرعی حیثیت

قسطوں کا کاروبار اور جرمانے کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ قسطوں پرگاڑی لینا کیسا ہے؟ اگر کوئی شخص گاڑی کی قسط وقت پر ادا نہ کرسکا تو اس پر جرمانہ دینے اور لینے کی کیا حیثیت ہے؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق قسطوں کا کاروبار جائز ہے کہ شریعت میں فروخت کرنے والے کو یہ اجازت ہے کہ نقد میں قیمت اور رکھے اور ادھار کی قیمت اور رکھے جبکہ اس میں مدت اور قیمت متعین ہو اور قسطیں مقرر کرنا بھی مدت متعین کرنے کی صورت ہے ۔البتہ قسط کی ادائیگی میں تاخیر پر مالی جرمانہ لینااور دینا جائز نہیں کہ یہ سود ہے ۔اگر معاہدہ میں جرمانے کی شرط مذکور ہو تو ایسا عقد کرنا ہی جائز نہیں اگرچہ بندہ قسط لیٹ نہ ہونے دے۔

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:

”البیع مع تاجیل الثمن وتقسیطہ صحیح ، یلزم ان تکون المدۃ معلومۃ فی البیع بالتاجیل والتقسیط“

یعنی ثمن ادھار ہونے اور قسطیں مقرر کرنے کے ساتھ بیع صحیح ہے اور ادھار یا قسطوں میں بیچنے کی صورت میں مدت معلوم ہونا ضروری ہے۔ (مجلۃ الاحکام العدلیۃ، صفحہ50، مطبوعہ کراچی)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

” أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح “

ترجمہ:بیع کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مبیع معلوم ہواور ثمن(قیمت) معلوم ہو اس طور پر کہ جھگڑا پیدا نہ ہو لہٰذا ایسی مجہول چیز کی بیع صحیح نہیں جس سے جھگڑا پیدا ہو ۔(فتاوی عالمگیری،جلد03،صفحہ03،مطبوعہ بیروت)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”التاجیل جائز کما حققنا کل ذلک وما التنجیم الا نوع من التاجیل۔یعنی(بیع میں) مدت مقرر کرنا ، جائز ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے اور قسطیں مقرر کرنا بھی مدت مقرر کرنے ہی کی ایک قسم ہے۔“ (فتاوی رضویہ ، جلد 17، صفحہ 493، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

احکام القرآن للجصاص میں ہے

”حظر أن یؤخذ للأجل عوض ۔۔۔ولا خلاف انہ لو کان علیہ الف درھم حالۃ فقال لہ اجلنی و ازیدک فیھا مائۃ درھم لا یجوز لان المائۃ عوض من الاجل “

ترجمہ:مدت کے بدلے میں عوض لینے کی ممانعت ہے ۔۔۔اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کسی پر ہزار درہم دَین ہو اور وہ دائن سے کہے کہ مجھے اور مہلت دے دو تو میں سو درہم زیادہ دوں گا، یہ جائز نہیں کیونکہ یہاں سو درہم مدت کے عوض میں ہیں ۔(اورمدت کا عوض لینا جائز نہیں ہے۔)(احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 186، مطبوعہ بیروت)

المبسوط میں ہے

”مقابلة الأ جل بالدراهم ربا، ألا ترى أن في الدين الحال لو زاده في المال ليؤجله لم يجز“

ترجمہ:مدت کے مقابلے میں (قیمت کے علاوہ)دراہم لینا سود ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ دَینِ حال میں اگر مدیون نے مال میں زیادتی کردی تاکہ دائن اسے مزید مدت دے تویہ جائز نہیں ہے۔(المبسوط،جلد13،صفحہ126 ،

مطبوعہ بیروت)

النتف فی الفتاوی میں ہے

” ان يبيع رجلا متاعا بالنسيئة فلما حل الاجل طالبه رب الدين فقال المديون زدني في الاجل ازدك في الدراهم ففعل فان ذلك ربا“

ترجمہ:ایک شخص نے ادھار سامان بیچا جب ادھار کی مدت پوری ہوگئی اور دائن نے مدیون سے دَین کا مطالبہ کیا تو مدیون نے کہا کہ مجھے مزید مہلت دے دو میں دراہم کی تعداد بڑھا دوں گا پھر دائن نے اس کو قبول کر لیا تو یہ زیادتی سود ہے۔(النتف فی الفتاوی ،صفحہ 485،مؤسسۃ الرسالہ ،بیروت)

مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشادفرماتے ہیں : ”فروخت کرنے والے کو شریعت نے یہ اختیار دیا ہے کہ نقد کی قیمت اور رکھے اور ادھار کی قیمت اور مقرر کرے مگر شرط یہ ہے کہ ادھار کی مدت متعین کر دی جائے ۔۔۔ جتنی مدت زیادہ ہو ، اتنی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے ۔ مگر سوال میں جو صورت بعد میں لکھی ہے کہ اگر وہ لیٹ کریں ، تو دو فصد یا چار فیصد جرمانہ لیا جائے گا ، یہ ناجائز ہے ۔ شریعت میں مال پر جرمانہ جائز ہی نہیں ہے ۔ “(وقار الفتاوی ،جلد3 ، ص264 ، بزم وقار الدین ، کراچی)

دعوت اسلامی دارالافتاء اہلسنت کے شعبہ مرکزالاقتصادالاسلامی کے فتویٰ میں ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:

” ڈیل کے شرعا درست ہونے کے لیےیہ بھی ضروری ہے کہ ڈیل میں قسط کی تاخیر سے ادائیگی پر مالی جرمانہ کی شرط نہ ہوکیونکہ قسط لیٹ ادا کرنے کی وجہ سے مالی جرمانہ لینا سود ہے جو کہ حرام ہے۔“

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

04صفر المضفر 1446ھ10 اگست 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمدانس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں