غیر مسلم لیڈی ڈاکٹر سے مسلم عورت کا علاج کروانا

غیر مسلم لیڈی ڈاکٹر سے مسلم عورت کا علاج کروانا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ آجکل ہسپتال میں غیر مسلم لیڈی ڈاکٹر ہوتی ہے ان سے علاج کروانا کیسا اور باہر ممالک میں بھی اگر لیڈی ڈاکٹر تلاش کی جائے تو وہ بھی غیر مسلم ہوتی ہے ان سے علاج کروانا کیسا؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

غیر مسلم عورت سے علاج کرواسکتے ہیں ،لیکن اعضاء ستر اس کے سامنے کھولنے کی اجازت نہیں کیونکہ مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے پردہ کرنا اسی طرح واجب ہے جس طرح اجنبی مرد سے پردہ کرنا واجب ہے۔کوشش کریں کہ مسلمان لیڈی ڈاکٹر سے ہی علاج کروایا جائے اور اگر مسلمان لیڈی ڈاکٹر موجود نہ ہو تو اب مجبوری کی صورت میں جس طرح مرد سے علاج کروانے کی اجازت ان شرائط کے ساتھ ہےکہ صرف وہی اعضاء کھولے جائیں جن کا علاج کروانا ہے باقی پر کپڑا ڈال دیا جائے،تو انہی شرائط کے ساتھ غیر مسلم لیڈی ڈاکٹر سے بھی علاج کروانے کی اجازت ہے۔

تفسیر خزائن العرفان میں ہے:

”مسلمہ عورت کو کافِرہ عورت کے سامنے اپنا بدن کھولنا جائز نہیں ۔“(تفسیر خزائن العرفان، صفحہ656، مکتبۃ المدینہ)

مزید تفسیر خزائن العرفان میں ہے:

”امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا تھا کہ کفار اہل کتاب کی عورَتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمّام میں داخل ہونے سے منع کریں۔“( تفسیر خزائن العرفان ، سورة نور ، آیت 31 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

”ولا ينبغي للمرأة الصالحة أن تنظر إليها المرأة الفاجرة؛ لأنها تصفها عند الرجال۔۔۔۔، ولا يحل أيضا لامرأة مؤمنة أن تكشف عورتها عند أمة مشركة أو كتابية إلا أن تكون أمة لها، كذا في السراج الوهاج“

ترجمہ: صالحہ عورت کو چاہیے کہ اپنے کو بدکار عورت کے دیکھنے سے بچائے، کیونکہ وہ اسے دیکھ کر مردوں کے سامنے اس کی شکل و صورت کا ذکر کرے گی۔ مسلمان عورت کو یہ بھی حلال نہیں کہ مشرکہ یا کتابیہ کے سامنے اپنا ستر کھولے مگر یہ کہ اس کی باندی ہو، ایسا ہی السراج الوہاج میں ہے۔(الفتاوی الھندیۃ، جلد5، صفحہ327، دارالفکر، بیروت)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

” شریعت کاتو یہ حکم ہے کہ کافِرہ عورت سے مسلمان عورت کو ایسا پردہ واجِب ہے جیسا انہیں مَرد سے۔ یعنی سر کے بالوں کا کوئی حصّہ یا بازو یا کلائی یا گلے سے پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصّہ مسلمان عورت کا کافِرہ عورت کے سامنے کُھلا ہونا جائز نہیں۔“(فتاوٰی رضویہ، جلد23، صفحہ692، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

”عورت صالحہ کو یہ چاہیے کہ اپنے کو بدکار عورت کے دیکھنے سے بچائے، یعنی اس کے سامنے دوپٹا وغیرہ نہ اتارے کیونکہ وہ اسے دیکھ کر مردوں کے سامنے اس کی شکل و صورت کا ذکر کرے گی، مسلمان عورت کو یہ بھی حلال نہیں کہ کافرہ کے سامنے اپنا ستر کھولے۔گھروں میں کافرہ عورتیں آتی ہیں اور بیبیاں ان کے سامنے اسی طرح مواضع ستر کھولے ہوئے ہوتی ہیں جس طرح مسلمہ کے سامنے رہتی ہیں ان کو اس سے اجتناب لازم ہے۔ اکثر جگہ دائیاں کافرہ ہوتی ہیں اور وہ بچہ جنانے کی خدمت انجام دیتی ہیں، اگر مسلمان دائیاں مل سکیں تو کافرہ سے ہر گز یہ کام نہ کرایا جائے کہ کافرہ کے سامنے ان اعضا کے کھولنے کی اجازت نہیں۔“(بہار شریعت، جلد3، حصہ 16، صفحہ443، مکتبۃ المدینہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

”ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجيۃ۔۔۔۔امرأة أصابتها قرحة في موضع لايحل للرجل أن ينظر إليه لايحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع “

ترجمہ: ختنہ کرنے والے، دائیہ اور ڈاکٹر کے لیے جائز ہے کہ وہ اس  کا علاج کرتے وقت شرمگاہ کی جانب دیکھے، اور وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی نظروں کو نیچا رکھے، ایسا ہی سراجیہ میں ہے۔ عورت کو ایسی جگہ پر زخم ہو کہ اس جگہ مرد کو دیکھنا جائز نہ ہو تو مرد کو وہاں دیکھنا جائز نہیں، ایسی صورت میں اس عورت سے دوائی لے جو یہ کام جانتی ہو، لیکن اگر وہ کسی عورت کو اس کا علاج کرنے کے لیے نہ پائے اور نہ ہی کوئی ایسی عورت ہو جس سے وہ سیکھے جبکہ وہ جانتی ہو اور اس کو کسی مصیبت، درد یا موت کا خوف ہے، تو اس کامکمل بدن چھپایا جائے گا سوائے اس زخم والی جگہ کے، پھر مرد اس کا علاج کرے گا اور وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی نگاہیں نیچی کرے گا سوائے اس جگہ (کے جس پر زخم ہے۔)(الفتاوی الھندیۃ، جلد5، صفحہ330، دارالفکر، بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

”اجنبیہ عورت کی طرف نظر کرنے میں ضرورت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عورت بیمار ہے اس کے علاج میں بعض اعضا کی طرف نظر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے بلکہ اس کے جسم کو چھونا پڑتا ہے۔ مثلاً نبض دیکھنے میں ہاتھ چھونا ہوتا ہے یا پیٹ میں ورم کا خیال ہو تو ٹٹول کر دیکھنا ہوتا ہے یا کسی جگہ پھوڑا ہو تو اسے دیکھنا ہوتا ہے بلکہ بعض مرتبہ ٹٹولنا بھی پڑتا ہے اس صورت میں موضعِ مرض کی طرف نظر کرنا یا اس ضرورت سے بقدرِ ضرورت اس جگہ کو چھونا، جائز ہے ۔۔۔ علاج کی ضرورت سے نظر کرنے میں بھی یہ احتیاط ضروری ہے کہ صرف اتنا ہی حصۂ بدن کھولا جائے جس کے دیکھنے کی ضرورت ہے باقی حصۂ بدن کو اچھی طرح چھپا دیا جائے کہ اس پر نظر نہ پڑے۔“(بہارِ شریعت، جلد3، صفحہ 447،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

23صفر المضفر 1446ھ29 اگست 2024ء

نظر ثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں