رکوع کرنا بھول جائیں

رکوع کرنا بھول جائیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی نمازی رکوع کرنا بھول گیا اور سجدے میں چلا گیا تو آیا اس کی نماز ہوگئی یا نہیں۔ (اویس ،کینیڈا )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

اگر کوئی نمازی رکوع کرنا بھول گیا اور قیام کے بعد سیدھا سجدے میں چلا گیا تو اب اگر اسے سجدے میں یاد آیا تو فورا واپس لوٹے ،رکوع کرے ،پھر سجدہ کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے تو نماز ہوجائے گی۔اگر رکوع کیا ہی نہیں تو اب نماز فاسد ہوگئی ،دوبارہ پڑھنی پڑے گی ۔کیونکہ ترتیب رہ جانے کی صورت میں تو اس کا ازالہ سجدہ سہو سے کیا جاسکتا ہے لیکن فرض رہ جائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

”الاصل في هذا ان المتروك ثلاثة انواع فرض وسنة وواجب ففي الاول امكنه التدارك بالقضاء يقضي والا فسدت صلاته وفي الثاني لا تفسد لان قيامها باركانها وقد وجدت ولا يجبر بسجدتي السهو وفي الثالث ان ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وان ترك عامدا لا، كذا التتارخانية۔اذا سجد في موضع الركوع او ركع في موضع السجود او كرر ركنا او قدم الركن او اخره ففي هذه الفصول كلها يجب سجود“

یعنی اس مسئلے کی اصل یہ ہے کہ چھوڑے جانے والے افعال تین قسم کے ہوتے ہیں: فرض، سنت، اور واجب۔ اگر فرض کو چھوڑا اور اس کی قضا ممکن ہو تو قضا کر لی جائے، ورنہ نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ دوسری قسم یعنی سنت کے ترک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ نماز کے ارکان قائم ہوتے ہیں اور سنت ترک ہونے کی وجہ سے سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوتا۔ اور تیسری قسم یعنی واجب کو اگر بھول کر چھوڑا جائے تو سجدہ سہو سے اس کی تلافی ہو جاتی ہے، لیکن اگر جان بوجھ کر چھوڑا جائے تو تلافی نہیں ہوتی۔ اسی طرح تاتارخانیہ میں بیان کیا گیا ہے۔اگر کسی نے رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع کیا، یا کسی رکن کو دہرایا، یا رکن کو پہلے یا بعد میں ادا کیا، تو ان تمام صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔۔(فتاوی عالمگیری،الباب الثانی عشر فی سجدة السہو،جلد اول ،صفحہ نمبر 126/127 ،التراث )

بہار شریعت میں ہے:

”تعدیل ارکان بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔“(بہار شریعت،سجدہ سہو کا بیان،جلد دوم صفحہ نمبر 711،مکتبة المدینہ ،کراچی)۔

ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وسلم بالصواب۔

کتبہ

مبین مدنی

۱۹اگست۲۰۲۴ بمطابق ۱۵ صفر المظفر ۱۴۴۶ ھ

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں