قومی ترانے کے وقت کھڑا ہونا کیا شرک ہے؟

قومی ترانے کے وقت کھڑا ہونا کیا شرک ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج کل بعض لوگ کہتے ہیں کہ قومی ترانے کے لیے کھڑا ہونا شرک ہے۔ کیا یہ بات شرعا درست ہے؟

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قومی ترانے کے وقت کھڑا ہونا ہرگز شرک نہیں ۔شرعی طور پر کسی عمل کو شرک ثا بت کرنے کے لیے دلیلِ قطعی چاہیے ،مگر افسوس ہمارے یہاں جس عمل پر کوئی دلیل بھی نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ اس فعل کو جائز و مستحب ہونا بھی احادیث سے ثابت ہواس کو شرک و بدعت کہہ دیا جاتا ہے۔ شرک کی تعریف قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے اسلاف نے صدیوں پہلے اپنی کتب میں کی ہے کہ اللہ عزوجل کی ذات و صفات میں کسی کو شریک کرنا شرک ہے جیسے اللہ عزوجل کے لیے معاذ اللہ بیوی یا بیٹے کا نظریہ یا اللہ عزوجل کی طرح حقیقی رازق، مددگار، شفادینے والا وغیرہ کسی کو سمجھنا شرک ہے۔ ہمارے یہاں اتنی جہالت و بے باکی ہے کہ بغیر دلیل ہی مسلمانوں کو چھوٹی سی بات پر مشرک کہہ دیا جاتا ہے۔

مذکورہ مسئلہ میں بھی شدت و جہالت کا مظاہرہ کیا گیا ہے کہ کسی کی تعظیم وادب کے لیے کھڑا ہونا بالکل جائز بلکہ احادیث سے ثابت ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لاتیں تو آپ ان کے لیے کھڑے ہوجاتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوجاتی تھیں۔ یونہی تعظیم کے طور پر کھڑے ہونا صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے کہ آپ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور رخصت کے وقت کھڑے ہو جاتے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حضرت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیا ۔مستند کتب میں کسی عالم و استاد کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا بھی جائز بلکہ مستحب لکھاہے۔

قومی ترانے کے وقت کھڑا ہونا وطن سے محبت اور اس کی تعظیم کی دلیل ہے، جو ہمارے عرف اور رسم بلاد میں شامل ہے جواچھا عمل ہے، بلکہ اگر کوئی کھڑا نہ ہو تو لوگ بدگمانی کریں گے اور یہ فساد کا سبب بنے گا۔

سعودی وہابی مولویوں کے نزدیک بھی وہ عادات و رسم ورواج جو شریعت سے متضاد نہ ہوں وطنی اور قبائلی طور پر رائج ہوں ، لوگوں میں عام ہوں،مخالفت شرع نہ ہوں تو انہیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

لسان العرب میں ہے

”واشراک بالله جعل له شریکا فی ملکه تعالیٰ الله عن ذالک والشرک ان تجعل لله شریکا فی ربوبیته تعالیٰ الله عن الشرکاء والانداد لان الله وحدہ لاشریک له ولا ند له ولاندید“

ترجمہ: جب اُس نے اللہ پاک سے شرک کیا،کہا جائے تو اس کا معنی ہوتا ہے:اُس نے کسی اور کو اللہ پاک کے مُلک میں شریک بنا دیا حالانکہ اللہ کریم اس سے بلند و برتر ہے۔ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ پاک کے رب ہونے میں کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اللہ کریم کی ذات شریکوں اور ہمسروں سے پاک ہےکیونکہ اللہ پاک واحد ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی نظیر ہے اور نہ ہی کوئی مثل۔( لسان العرب، جلد 1 ، صفحہ 2023 ، مطبوعہ بیروت)

شرح عقائد نسفیہ میں ہے

”الاشراک ھو اثبات الشریک فی الالوھیة بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس اور بمعنی استحقاق العبادة کما لعبدة الاصنام“

ترجمہ: مجوسیوں کی طرح کسی کو واجب الوجود جان کر اُلُوہیت میں شریک کرنا یا بُت پرستوں کی طرح کسی کو عبادت کا حقدار سمجھنا شرک کرنا کہلاتا ہے۔(شرح عقائد نسفیہ، ص20، المدینہ العلمیہ کراچی)

جامع ترمذی میں اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنھا فرماتی ہیں:

”ما رأيت أحداً أشبه سمتاً ودلاً وهدياً برسول الله صلی ﷲ علیه وسلم في قيامها وقعودها من فاطمة بنت رسول الله صلی ﷲ علیه وسلم وکانت إذا دخلت علي النّبيّ صلی ﷲ علیه وسلم قام إليها فقبّلها وأجلسها في مجلسه، وکان النّبيّ صلی ﷲ علیه وسلم إذا دخل عليها قامت من مجلسها فقبّلته وأجلسته في مجلسها“

ترجمہ:میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے زیادہ کسی کو طور طریقہ، روش اور نیک خصلتی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ نہیں دیکھا۔ جس وقت وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اَقدس میں حاضر ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی چومتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی نشست سے کھڑی ہو جاتیں، (دستِ اَقدس کا )بوسہ لیتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔(جامع ترمذي، کتاب المناقب، باب فضل فاطمة، صفحہ 345، حدیث 3872، مطبوعہ کراچی)

سنن ابو داؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

”کان رسول الله صلی ﷲ علیه وسلم يجلس معنا في مسجد يحدّثنا، فإذا قام قمنا قيامًا حتي نراه قد دخل بعض بيوت أزواجه“

ترجمہ:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف فرما ہو کر ہمارے ساتھ گفتگو فرمایا کرتے تھے، پھر جب قیام فرماتے تو ہم سب بھی ساتھ ہی کھڑے ہو جاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اَزواجِ مطہرات میں سے کسی کے گھر میں داخل ہوتا نہ دیکھ لیتے۔(سنن ابوداؤد، کتاب الأدب، باب في الحلم وأخلاق النبي صلی ﷲ علیه وسلم، جلد 2، صفحہ 247، حدیث 4775، قدیمی کتب خانہ کراچی)

مشکاة المصابیح میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں

”فأرسل النّبي صلی ﷲ علیه وسلم إلي سعد فأتي علي حمار، فلمّا دني من المسجد قال للأنصار: قوموا إلي سيّدکم، أو خيرکم“

ترجمہ:جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کو بلا بھیجا، تو وہ درازگوش پر سوار ہو کر آئے۔ پس جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اَنصار سے فرمایا: (اے قبیلے والو!) تم اپنے سردار یا اپنے سے بہتر کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔(مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب القیام صفحہ 402، قدیمی کتب خانہ کراچی)

مرقاة المفاتیح میں ہے

”أي لتعظیمہ ویستدلّ بہ علی عدم کراہتہ، فیکون الأمر للإباحة ولبیان الجوز“

یعنی کسی کی تعظیم میں کھڑا ہونے پر کوئی کراہت نہیں ہے پس یہ تو مباح کام ہے اور بیان جواز کے لیے ہے۔(مرقاة المفاتیح، ج8، ص 473، رقم: 4698، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے :

”آنے والے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا جائز بلکہ مندوب ہے، جبکہ ایسے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو جو مستحق تعظیم ہے، مثلاً عالم دین کی تعظیم کو کھڑا ہونا۔ کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہے یا قرآن مجید پڑھ رہا ہے اور ایسا شخص آگیا جس کی تعظیم کرنی چاہیے تو اس حالت میں بھی تعظیم کو کھڑا ہوسکتا ہے۔ جہاں یہ اندیشہ ہو کہ تعظیم کے لیے اگر کھڑا نہ ہوا تو اس کے دل میں بغض وعداوت پیدا ہوگا، خصوصاً ایسی جگہ جہاں قیام کا رواج ہے تو قیام کرنا چاہیے تاکہ ایک مسلم کو بغض و عداوت سے بچایا جائے۔“(بہار شریعت، جلد 3 ،حصہ 16، صفحہ 476 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

” تعظیم و بے تعظیمی میں بڑا دخل عُرف کو ہے۔ محقق علی الاطلاق” فتح القدیر‘‘میں فرماتے ہیں:’’یحال علی المعھود“یہ معاملہ عرف اور رواج کے حوالے کیا جاتاہے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ ،جلد23،صفحہ913،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

” قاعدہ مسلمہ مرعیہ عقلیہ شرعیہ سے معلوم کہ توہین وتعظیم کامدار عُرف و عادت ناس وبلاد پرہے۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ ،جلد70 ،صفحہ315،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

مجموع الفتاوی میں وہابی مولوی عبد العزیز بن باز لکھتا ہے

”الواجب على كل مسلم أن لا يعتمد على العادات ، بل يجب عرضها على الشرع المطهر ، فما أقره منها جاز فعله ، وما لا فلا ، وليس اعتياد الناس للشيء دليلا على حله ، فجميع العادات التي اعتادها الناس في بلادهم أو في قبائلهم يجب عرضها على كتاب الله وسنة رسوله عليه الصلاة والسلام ، فما أباح الله ورسوله فهو مباح ، وما نهى الله عنه وجب تركه وإن كان عادة للناس“

ترجمہ: ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ عادات پر اعتماد نہ کرے بلکہ ان کا شریعت پر پیش کرنا ضروری ہے ۔ اب ان میں سے جن کا شریعت اقرار کرتی ہے ان پر عمل کرنا جائز ہے لیکن جن کا اقرار نہیں کرتی ہے تو نہیں جائز ہے۔ لوگوں کا کسی چیز کا عادی ہوجانا یہ اس کے حلال ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ لہذا لوگوں کے تمام وطنی و قبائلی عادتوں کا قرآن و سنت پر پیش کرنا ضروری ہے ۔ جو اللہ و اس کے رسول نے مباح قرار دیا تو وہ مباح ہے اور جس سے اللہ نے روکا ہے تو اس کو چھوڑنا ضروری ہے اگر چہ وہ لوگوں کی عادت ہی کیوں نہ ہو۔( مجموع الفتاوى، جلد 6 صفحہ، 510 ، مطبوعہ دار القاسم)

وہابی الشیخ صالح بن حمید اپنے خطبہ میں کہتا ہے

”والقاعدة في ذلك أن كل ما تعارَف عليه الناسُ واعتادوه وساروا عليه ولم يكن فيه حكم شرعي مقرَّر فإنه يوزن بميزان المصلحة الشرعية بعيدا عن الأغراض والعصبيات، فإذا كانت العادة أو العرف يحقق للناس مصلحةً راجحةً أو يدفع عنهم مفسدة ظاهرة ولا يُخِلُّ بالمجتمع فهو عُرْف مقبول وعادة نافذة، والإسلام أقر من الأعراف ما كان صالحا نافعًا لا يعارض أحكام الشرع المطهر وأصلح بعض الأعراف وقومها“

ترجمہ: اس سلسلے میں قاعدہ یہ ہے کہ لوگو کے مابین متعارف و رائج عادات و تقالید جن کا کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہے اس کو تعصب و مصلحت سے دور رہ کر شرعی مصلحت کے میزان سے وزن کیا جائے ۔ اب اگر اس عرف یا عادت میں عوام کے لیے کوئی غالب صلاح و فائدہ پایا جاتا ہے یا ان سے کوئی فساد دور کرتا ہے اور سماج میں اس سے کوئی خلل نہیں ہوتا ہے تو وہ قابل قبول عرف اور عمل پیرا عادت ہے۔(الشیخ صالح بن حمید، العادات و التقالید و أثرہا فی المجتمعات، خطبہ جمعہ، حرم مکی)

موسوعة النابلسی میں سعودیہ عربیہ کا عالم شیخ محمد راتب النابلسی کا خطبہ ہے کہ

”لإسلام أقرَّ من الأعراف ما كان صالحاً، وتلاءم مع مقاصده ومبادئه، ورفض من الأعراف ما ليس كذلك، أو أدخل على بعض الأعراف تصحيحات وتعديلات، فالأصل هو الشرع، فما وافق الشرع قبلناه، وما حاد عنه قليلاً صححناه، وما ناقضه رفضناه، ولو كان عرفاً يسري في الأمة جميعها“

ترجمہ: اسلام اعراف میں سے صرف اسی کا اقرار کرتا ہے جواچھا و بہتر اور صالح ہو اور اس کے مقاصد و اصول کے موافق ہو اور ان اعراف کو رد کردیتا ہے جو اس طرح نہ ہوں یا کچھ اعراف میں تبدیلی لا دیتا ہے ۔ لہذا اصل ہماری شریعت ہے جو اس کے موافق ہوگا ہم اس کو قبول کریں گے اور جو اس سے تھوڑا بہت ہٹا ہوگا ہم اس کو درست کریں گے اور جو اس کے خلاف ہوگا ہم اس کو رد کر دیں گے گرچہ ایسا عرف ہو جس پر پوری امت عمل پیرا ہو۔(موسوعۃ النابلسی، الخطب ،خطبۃ الجمعۃ، 588،الاعراف و التقالید)

مزید موسوعة النابلسی میں سعودیہ عربیہ کا عالم شیخ محمد راتب النابلسی کا خطبہ ہے کہ

”رعاية الأعراف والتقاليد نوع من أنواع رعاية مصالح المسلمين، لأن أحد العلماء يقول: الشريعة مصلحة كلها، رحمة كلها، عدل كلها، فأية قضية خرجت من المصلحة إلى المفسدة، وخرجت من العدل إلى الجور، وخرجت من الرحمة إلى خلافها، فليست من الشريعة ولو أدخلت عليها بألف تأويل وتأويل“

اعراف و عادات کی رعایت کرنا یہ ایک طرح سے مسلمانوں کی مصلحت کی رعایت کرنا ہے کیونکہ ایک عالم کا قول ہے: شریعت مکمل طور سے مصلحت ہے،کلی طور سے رحمت ہے ، کامل طور سے عدل و انصاف ہے ، بنا بریں جو بھی مسئلہ صلاح سے فسادبن جائے، عدل سے جور بن جائے ،رحمت سے زحمت بن جائے تو وہ قطعا شریعت نہیں ہے اگرچہ اس کی ہزار تاویل کی جائے۔(موسوعۃ النابلسی: الخطب ،خطبۃ الجمعۃ، 588 ،الاعراف و التقالید)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

13صفر المضفر 1446ھ19 اگست 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں