ہیکل سلیمانی کا قضیہ، اسرائیل میں سرخ گائے کی قربانی، یہودی نظریات کی حقیقت اور اسلامی نقطہ نظر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہیکل سلیمانی کیا ہے؟ نیز آج کل جو مسجد الاقصی کو ختم کر کے ہیکل سلیمانی بنانے اور اس کے ساتھ سرخ گائے کے متعلق باتیں چل رہی ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے؟ یہ بھی واضح فرمائیں کہ ریڈ ہیفر (Red Heifer) کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر کیا ہے؟ یہودیوں اور مسلمانوں کے نزدیک کیا یہ اہمیت کی حامل ہے؟ کیا یہ قیامت کی نشانی ہے؟ اور کیا اس کے بعد دجال کا ظہور ہو جائے گا؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحيم
الجواب بعون الملك الوهاب اللّٰهم هداية الحق و الصواب
حضرت داؤد نے اس مقام پر کہ جہاں حضرت موسی کلیم اللہ کا خیمہ نصب ہوا تھا ایک مقدس جگہ کی بنیاد رکھی، پھر آپ کے بعد آپ کے شہزادے حضرت سلیمان نے وہاں خدائے یکتا اللہ ﷻ کی عبادت کے لیے ایک معبد تعمیر کروایا، جسے ہم مسلمان بیت المقدس سے موسوم کرتے ہیں جبکہ یہودی اس معبد کو ہیکل سلیمانی کا نام دیتے ہیں۔ یہ مقام یہودیوں کے نزدیک انتہائی معزز تھا مگر یہودی اس کی حفاظت نہ کر پائے، اور ہیکل سلیمانی قریب 587 قبل مسیح میں منہدم کر دیا گیا پھر اس کی جگہ ہیکل ثانی تعمیر کیا گیا وہ بھی قریب 79 سن عیسوی میں نذرِ آتش کر دیا گیا۔ یہودی اس جگہ ہیکل سلمانی کی طرز پر دوبارہ ایک ہیکل تعمیر کرنے کا عزم رکھتے ہیں حالانکہ اس مقام پر مسجد اقصی واقع ہے، بلاشبہہ جس خدائے پاک اللہ ﷻ کی عبادت کے لیے حضرت سلیمان نے بیت المقدس تعمیر فرمایا تھا اسی کی عبادت آج مسجد اقصی میں ہوتی ہے اور وہی بیت المقدس ہے۔ یہودیوں کے لیے ہیکل ثالث کی تعمیر میں جہاں ایک بڑی رکاوٹ مسجد اقصی کا وہاں موجود ہونا ہے، وہیں ایک اور بڑی رکاوٹ “یہودی قوم کی عمومی ناپاکی کا نظریہ” ہے۔ ریڈ ہیفر (Red Heifer) جسے سرخ بچھیا، لال گائے، Red Cow وغیرہ بھی کہا جاتا ہے، یہودیوں کے نظریہ کے مطابق اس کی قربانی کر کے اس کی راکھ کو پانی میں ملا کر استعمال کرنے سے ان کی ناپاکی دور ہوگی اور وہ پاک ہو جائیں گے (اس سب کی تفصیل مع بطلان آگے آ رہا ہے) البتہ بحیثیتِ مسلمان یہ جان لیں کہ قرآن و حدیث سے سرخ گائے کی مخصوص قربانی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس کی قربانی سے پاکی حاصل ہونے کا نظریہ اسلام کے نقطۂ نظر میں محض باطل ہے۔ موجودہ توریت میں اس پر ایک واقعہ تو موجود ہے لیکن بالفرض وہ غیر محرفہ (تحریف سے پاک) ہو تو بھی بلا شبہہ وہ احکامات منسوخ ہو چکے ہیں نیز اس کی بھی تطبیق و تنفیذ میں یہ لوگ فاش غلطی پر ہیں۔ پس یہودیوں کا سرخ بچھیا کی قربانی کرنا نہ ہی قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اور نہ ہی اس سے ظہور دجال ثابت ہوتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس موضوع کو بہت زیر بحث لایا جا رہا ہے، یہ مناسب نہیں۔ اس کے ذریعے عوامِ مسلمین میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی بجائے، اسلامی غزوات کے واقعات اور صالحین کی حکایات بیان کی جائیں تاکہ مسلمانوں کا حوصلہ بلند ہو، اور بزدلی و کاہلی دور ہو۔
اس اجمال کی تفصیل حسب ذیل ہے
اسرائیل (Israel) میں سرخ بچھیا(Red Heifer) کی قربانی کا صیہونی قضیہ سمجھنے کے لیے پہلے یہودیوں کا نظریۂ تعمیر ہیکل اور ان کے نزدیک اس کی اہمیت کو جاننا ضروری ہے۔ پس اس کے لیے درج ذیل موضوعات پر گفتگو ملاحظہ فرمائیں: ٭یہودیوں کا خود کو مقرب ترین سمجھنے کا عقیدہ اور اس کا بطلان ٭یہودیوں کے حوالے سے یروشلم (Jerusalem) کی کچھ تاریخ (حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی بعثت و بادشاہت) ٭ پہلے ہیکل کی تعمیر اور تباہی ٭دوسرے ہیکل کی تعمیر اور تباہی ٭تیسرے ہیکل کی تعمیر کا نظریہ اور اس میں رکاوٹ ٭ سرخ بچھیا کی قربانی کا نظریہ اور اس کا بطلان ٭اسلامی نقطۂ نظر اور مسلمانوں کے لیے رہنمائی ٭ خلاصۂ کلام۔ نیز ضمناً کئی جگہوں پر یہودیوں کی ذلت، ان کے ناپاک عزائم، انہیں کی کتب سے ان کا رد اور ضرورتاً تنبیہات و تفہیمات بھی رقم کی گئی ہیں۔ وما توفيقي الا بالله۔
یہودیوں کا خود کو مقرب ترین سمجھنے کا عقیدہ اور اس کا بطلان
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ یہودی قوم خود کو رب کی برگزیدہ اور بہت مقرب سمجھتی ہے، جیسا کہ کتاب “اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تعارف و تقابلی جائزہ” میں ہے: ”انہوں (یہودیوں) نے دیگر عجیب و غریب عقائد گڑھ لیے، مثلاً یہودی اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین مخلوق ہیں، یہودی اللہ کے بیٹے ہیں، دنیا میں اگر یہودی نہ ہوتے تو زمین کی ساری برکتیں اٹھا لی جاتیں جیسے سورج چھپا لیا جاتا، بارشیں روک لی جاتیں۔ یہود ، غیر یہود سے ایسے فضل ہیں جیسے انسان جانوروں سے افضل ہیں، یہودی پر حرام ہے کہ وہ غیر یہودی پر نرمی و مہربانی کرے، یہودی کے لیے سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ وہ غیر یہودی کے ساتھ بھلائی کرے، دنیا کے سارے خزانے یہودیوں کے لئے پیدا کیے گئے ہیں، یہ ان کا حق ہے لہذا ان کے لیے جیسے ممکن ہو ان پر قبضہ کرنا جائز ہے، اللہ تعالیٰ صرف یہودی کی عبادت قبول کرتا ہے۔“
(اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تعارف و تقابلی جائزہ، صفحہ نمبر 496، مطبوعه: مکتبہ اشاعۃ الاسلام، لاہور)
مذکورہ باتیں یہ اپنے زعم فاسد میں گمان کرتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں اپنے زمانے میں بہت فضیلت دی گئی تھی، اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے افضل کیا گیا، ان پر خاص برکات نازل کی گئیں، ان میں جلیل القدر انبیائے کرام تشریف لائے، انبیائے کرام کے باعث انہیں بہت عروج ملا۔ چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴾ترجمہ:اے یعقوب کی اولاد! یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں اس سارے زمانے پر فضیلت عطا فرمائی۔
(پارہ نمبر 1، سورۃ البقرۃ2، آیت نمبر 47)
لیکن اس قوم نے رب کی سخت نافرمانیاں کیں، اس کے احکامات کو جھٹلایا، کفر و شرک میں مبتلا ہوئے، اللہ پاک کے نبیوں کو قتل کیا، فتنہ و فساد پھیلایا بلکہ آج تک پھیلاتے چلے آ رہے ہیں۔ پس یہ ان کی نافرمانیوں اور بے ادبیوں ہی کا نتیجہ تھا کہ ان پر ذلت مسلط کر دی گئی، جیسا کہ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ ۗوَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ؕذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ﴾ترجمہ: اور ان (یہودیوں) پر ذلت اور غربت مسلط کر دی گئی اور وہ خدا کے غضب کے مستحق ہوگئے۔ یہ ذلت و غربت اس وجہ سے تھی کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے تھے۔ (اور)یہ اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ مسلسل سرکشی کر رہے تھے۔
(پارہ نمبر 1، سورۃ البقرۃ2، آیت نمبر 61)
تاریخ اس بات کی گواہ رہی ہے کہ ہر دور میں یہ سخت ذلت کا شکار ہوتے اور جلا وطنی و قتل عام کے باعث بدترین بربادی میں مبتلا ہوتے چلے آئے ہیں۔ ہیکل کی تعمیر نو کا نظریہ ہی ان کی بارہا شکست و ذلت و خواری کا ثبوت ہے۔
حضرت داؤد کی بعثت و بادشاہت اور یروشلم کا دار الحکومت بننا
یہودیوں میں اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی حضرت داؤد کو مبعوث فرمایا، جو کہ پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے بادشاہ بھی مقرر ہوئے۔ آج بھی یہودی انہیں مانتے اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہودی انہیں “King David” کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔تاریخ و بائبل کے مطابق آپ نے بادشاہ ہونے کی حیثیت سے یروشلم (Jerusalem) کو اپنا دار الحکومت بنایا اور وہاں سے حکمرانی کی۔ چنانچہ حضرت داؤد کے بادشاہ بننے اور یروشلم سے پوری بنی اسرائیل پر حکومت کرنے کے متعلق عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں مذکور ہے:
“The LORD said to Samuel, … I will send you to Jesse the Bethlehemite, for I have provided for myself a king among his sons. … Samuel said to Jesse, “Are all your sons here?” And he said, “There remains yet the youngest, but he is keeping the sheep.” And Samuel said to Jesse, “Send and bring him; for we will not sit down until he comes here.” He sent and brought him in. Now he was ruddy, and had beautiful eyes, and was handsome. The LORD said, “Rise and anoint him; for this is the one.”
ترجمہ: خداوند نے سموئیل سے کہا: میں تجھے بیت اللحم کے باسی یسی کے پاس بھیجوں گا کیونکہ میں نے اس کے بیٹوں میں سے ایک کو بادشاہ بنا دیا ہے۔…سموئیل نے یسی سے کہا: کیا تیرے سب بیٹے یہاں ہیں؟ اس نے کہا: ابھی سب سے چھوٹا بیٹا (داؤد) باقی ہے، لیکن وہ بھیڑوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ اور سموئیل نے یسی سے کہا: کسی کو بھیج کر، اسے لے آؤ، کیونکہ ہم اس وقت تک (کھانے کے لیے) نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ یہاں نہیں آ جاتا۔ اس نے بھیجا اور داؤد کو اندر لے آیا۔ یہ نوجوان سفید ، خوبصورت آنکھوں والا، اور پیاری صورت والا تھا۔ خداوند نے کہا: اٹھو اور اسے مسح کرو، کیونکہ یہ ہی وہ (بادشاہ) ہے۔
(The Bible, 1 Samuel 16, Verses 1, 11 – 12, Page no 574-575, Published in USA)
مزید عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں ہے:
“So all the elders of Israel came to the king at Hebron; … and King David made a covenant with them at Hebron before the LORD, and they anointed David king over Israel. David was thirty years old when he began to reign, and he reigned forty years. At Hebron he reigned over Judah seven years and six months; and at Jerusalem he reigned over all Israel and Judah thirty-three years.”
ترجمہ: اس لئے اسرائیل کے تمام بزرگ بادشاہ داؤد کے پاس حبرون (الخلیل) شہر آئے۔ … اور بادشاہ داؤد نے حبرون میں خداوند کے حضور ان کے ساتھ ایک عہد کیا، اور انہوں نے داؤد کو اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا۔ داؤد تیس سال کا تھا جب اس نے حکومت کرنا شروع کی، اور اس نے چالیس سال حکومت کی۔ حبرون(الخلیل) میں اس نے یہوداہ پر سات سال اور چھ مہینے حکومت کی تھی، اور یروشلم میں اس نے تمام اسرائیل اور یہوداہ پر تئیس سال حکومت کی۔
(The Bible, 2 Samuel 5, Verses 3 – 5, Page no 615, Published in USA)
حضرت داؤد کے یروشلم کو فتح کرنے کا ذکر، عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں یوں ہے:
“The king and his men marched to Jerusalem against the Jebusites, the inhabitants of the land, who said to David, “You will not come in here, even the blind and the lame will turn you back” thinking, “David cannot come in here.” … David occupied the stronghold, and named it the city of David. David built the city all around from the Millo inward. And David became greater and greater, for the LORD, the God of hosts, was with him.”
ترجمہ: بادشاہ داؤد اور اس کے آدمیوں نے یروشلم کی طرف وہاں کے باشندوں یبوسیوں کے خلاف پیش قدمی کی، جنہوں نے داؤد سے کہا: “آپ یہاں نہیں آ پائیں گے، یہاں تک کہ اندھے اور لنگڑے بھی آپ لوگوں کو واپس بھیج دیں گے” یہ سوچتے ہوئے کہ داؤد (شہر میں) داخل نہیں ہو سکتا۔… (چنانچہ یروشلم کو فتح کرنے کے بعد) داؤد نے قلعے پر قبضہ کر لیا اور اسے “شہر داؤدی” کا نام دیا۔ داؤد نے شہر کو میلو کے اندر سے چاروں طرف تعمیر کیا۔ اور تب داؤد بڑے سے بڑا ہو گیا کیونکہ خداوند ، رب الافواج، اس کے ساتھ تھا۔
(The Bible, 2 Samuel 5, Verses 6, 9, Page no 615, Published in USA)
امریکی مؤرخ “Matthew Bunson ” اپنی کتاب “A Dictionary of the Roman Empire ” میں لکھتا ہے:
“Jerusalem was an ancient city, built, it was said, by the Canaanite tribe of the Jebusites. In 1050 в.с., King David captured it and made it his great capital.”
ترجمہ:یروشلم ایک قدیم شہر تھا، کہا جاتا ہے کہ اسے یبوسیوں کے کنعانی قبیلے نے تعمیر کیا تھا۔ 1050قبل مسیح میں بادشاہ داؤد نے اسے فتح کیا اور اسے اپنا عظیم دارالحکومت بنا لیا۔
(A Dictionary of the Roman Empire, Page no 212, By Matthew Bunson)
حضرت سلیمان کی تخت نشینی اور یہودیوں کے عروج کا دور
حضرت داؤد کے وصال کے بعد ان کے جانشین اور یہودیوں کے نئے بادشاہ حضرت سلیمان مقرر ہوئے، اور آپ نے امور سلطنت بہت عمدہ طریقہ پر سر انجام دئیے۔ یہ دور یہودیوں کے عروج کا دور تھا۔ چنانچہ حضرت سلیمان کے بادشاہ بننے کے متعلق عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں ہے:
“Then David slept with his ancestors, and was buried in the city of David. The time that David reigned over Israel was forty years; he reigned seven years in Hebron, and thirty-three years in Jerusalem. So, Solomon sat on the throne of his father David; and his kingdom was firmly established.”
ترجمہ: پھر داؤد وفات پا کر اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ (جا ملا) اور شہر داؤدی میں دفن کیا گیا۔ داؤد کے اسرائیل پر حکومت کرنے کا دورانیہ چالیس سال تھا۔ اس نے حبرون میں سات سال اور یروشلم میں تئیس سال حکومت کی۔ پس سلیمان اپنے باپ داؤد کے تختِ بادشاہی پر بیٹھا، اور اس کی بادشاہی مضبوطی سے قائم ہو گئی۔
(The Bible, 1 King 10, Verse 10, Page no 665, Published in USA)
پہلے ہیکل کی تعمیر
یہودیوں کے نظریے کے مطابق سلیمان ()نے حکومت سنبھالنے کے بعد، داؤد ()کی خواہش کے مطابق سب سے پہلا ہیکل تعمیر کیا جو کہ ٹیمپل ماؤنٹ (Temple Mount)پر بنایا گیا، چنانچہ عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں ہے:
“Solomon sent word to Hiram, saying, “You know that my father David could not build a house for the name of the LORD his God because of the warfare with which his enemies surrounded him, until the LORD put them under the soles of his feet. But now the LORD my God has given me rest on every side; there is neither adversary nor misfortune. So I intend to build a house for the name of the LORD my God, as the LORD said to my father David, ‘Your son, whom I will set on your throne in your place, shall build the house for my name.’ Therefore command that cedars from the Lebanon be cut for me. My servants will join your servants, and I will give you whatever wages you set for your servants.”
ترجمہ: سلیمان نے حیرم کو پیغام بھیجا، یہ کہتے ہوئے کہ تم جانتے ہو کہ میرا باپ داؤد اپنے خداوند کے نام پر اس کا گھر تعمیر نہیں کر سکا، ان دشمنوں کے ساتھ جنگ کی وجہ سے جنہوں نے اسے گھیر رکھا تھا، یہاں تک کہ خدا وندنے انہیں اس کے پیروں کے تلوؤں کے نیچے ڈال دیا۔ لیکن اب خداوند، جو میرا خدا ہے، اس نے مجھے ہر طرف سکون دیا ہے، پس نہ کوئی دشمن ہے اور نہ بدبختی۔ اس لئے میں اپنے رب خداوند کے نام کا ایک گھر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جیسا کہ خداوند نے میرے باپ داؤد سے کہا تھا: “تیرا بیٹا، جسے میں تیری جگہ تیرے تخت پر بٹھاؤں گا، میرے نام کا گھر تعمیر کرے گا۔” لہٰذا (اے حیرام!) حکم دو کہ لبنان سے دیودار کی لکڑیاں میرے لیے کاٹی جائیں۔ میرے خادم تمہارے بندوں میں شامل ہو جائیں گے اور جو کچھ مزدوری تم اپنے بندوں کے لیے مقرر کرو گے، میں تمہیں دے دوں گا۔
(The Bible, 1 King 5, Verses 2 – 6, Page no 671, Published in USA)
مزید اسی میں ہے:
“In the fourth year the foundation of the house of the LORD was laid, in the month of Ziv. In the eleventh year, in the month of Bul, which is the eighth month, the house was finished in all its parts, and according to all its specifications. [It] was seven years in building it.”
ترجمہ: (سلیمان کی طرف سے حکومت کے)چوتھے سال خداوند کے گھر کی بنیاد رکھی گئی، زیب (اپریل، مئی) کے مہینے میں۔ گیارہویں سال میں، بول (اکتوبر، نومبر) کے مہینے میں ، جو کہ آٹھواں مہینہ ہے ، خداوند کے گھر کو اس کے تمام حصوں اور اس کی تمام خصوصیات کے مطابق مکمل کیا گیا ۔ اس کی تعمیر میں کل سات سال لگے تھے۔
(The Bible, 1 King 6, Verses 37-38, Page no 675, Published in USA)
مذکورہ بالا یہ تمام عہد نامہ قدیم (Old Testament) وغیرہ کے حوالہ جات سے تھا، اسے اسلامی تاریخ کے حوالے سے ملخصاً ذیل میں ملاحظہ فرمائیں، چنانچہ کتاب “سیرت انبیا” میں ہے: ”جب طالوت بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے تو انہوں نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ ” جالوت“ سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج لے کر میدان جنگ میں نکلے۔ جب دونوں لشکر میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوئے تو جالوت نے بنی اسرائیل سے مقابلہ کرنے والا طلب کیا، چونکہ جالوت بڑا جابر ، قوی، شہ زور ، عظیم الجثہ اور قد آور تھا، طالوت کے لشکر والے اُس کی قوت و جسامت دیکھ کر گھبر اگئے کیونکہ طالوت نے اپنے لشکر میں اعلان کیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے میں اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دیدوں گا اور آدھا ملک اسے دیدوں گا مگر کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔ طالوت نے حضرت شمویل سے عرض کیا کہ بارگاہ الہی میں دعا کریں۔ آپ نے دعا کی تو بتایا گیا کہ حضرت داؤد جالوت کو قتل کریں گے ۔ حضرت داؤد کے والد ” ایشا “ طالوت کے لشکر میں تھے اور ان کے ساتھ ان کے تمام فرزند بھی تھے ، حضرت داؤد ان میں سب سے چھوٹے تھے اور بیمار تھے ، رنگ زرد تھا اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جب طالوت نے آپ سے عرض کی کہ اگر آپ جالوت کو قتل کریں تو میں اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیدوں گا اور آدھا ملک آپ کو پیش کر دوں گا تو آپ نے اس پیشکش کو قبول فرما لیا اور جالوت کی طرف روانہ ہو گئے۔ لڑائی کی صفیں بندھ گئیں اور حضرت داؤد اپنے دست مبارک میں گو پھن یعنی پتھر پھینکنے والی رسی لے کر جالوت کے سامنے آگئے۔ جالوت کے دل میں آپ کو دیکھ کر دہشت پیدا ہوئی مگر اس نے باتیں بہت متکبرانہ کیں اور آپ کو اپنی قوت سے مرعوب کرنا چاہا، آپ نے اپنی اس رسی میں پتھر رکھ کر مارا وہ اس کی پیشانی توڑ کر پیچھے سے نکل گیا اور جالوت مر کر گر گیا۔ حضرت داؤد نے اسے لاکر طالوت کے سامنے ڈال دیا، تمام بنی اسرائیل بڑے خوش ہوئے اور طالوت نے حضرت داؤد کو حسب وعدہ نصف ملک دیا اور اپنی بیٹی کا آپ کے ساتھ نکاح کر دیا۔ ایک مدت کے بعد طالوت نے وفات پائی تو حضرت داؤد پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے۔ کچھ عرصے بعد حضرت شمویل کا وصال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا۔ حضرت یوسف کے بعد آپ پہلے شخص ہیں جنہیں سلطنت و نبوت، دونوں عہدوں پر فائز کیا گیا اور آپ نے تقریباً ستر سال دونوں ذمہ داریوں کو پورا کیا، پھر آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔ اس واقعہ کا اجمالی بیان سورۂ بقرہ میں اس طرح ہے کہ ﴿وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ﴾ترجمہ : اور قتل کیا داود نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا۔ (پارہ نمبر 2، سورۃ البقرة 2، آیت نمبر 251)…حضرت سلیمان حضرت داؤد کے فرزند ہیں۔ یہ اپنے والد ماجد کے جانشین ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی علم و نبوت سے نوازا اور عظیم الشان سلطنت کا حاکم بنایا۔ آپ تخت سلطنت پر چالیس برس جلوہ گر رہے۔ جن و انسان ، شیاطین ، پرندوں وغیرہا سب پر آپ کی حکومت تھی اور سب کی زبانوں کا آپ کو علم عطا کیا گیا تھا۔ آپ کے زمانے میں عجیب و غریب صنعتوں کا ظہور ہوا۔ …حضرت سلیمان کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص عطا قرار دیا اور آپ علم ، نبوت، حکمت اور سلطنت میں حضرت داؤد کے جانشین بنے۔ ارشاد باری تعالی ہے :﴿وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ﴾ترجمہ : اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا فرمایا۔(پارہ نمبر 22، سورۃ ص 38، آیت نمبر 30) اور ارشاد فرمایا:﴿ وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ﴾ترجمہ : اور سلیمان داؤد کے جانشین بنے۔(پارہ نمبر 19، سورۃ النمل 27، آیت نمبر 16)… مروی ہے کہ حضرت داؤد نے بیت المقدس کی بنیاد اس مقام پر رکھی تھی جہاں حضرت موسیٰ کا خیمہ نصب کیا گیا تھا۔ اس عمارت کے پورا ہونے سے پہلے حضرت داؤد کی وفات کا وقت آگیا تو آپ نے اپنے فرزند ارجمند حضرت سلیمان کو اس کی تکمیل کی وصیت فرمائی، چنانچہ آپ نے جنات کو اس کی تکمیل کا حکم دیا۔…حضرت سلیمان کی عمر شریف 53 سال کی ہوئی، تیرہ سال کی عمر شریف میں آپ سلطنت کے تخت پر براجماں ہوئے اور چالیس سال تک حکمرانی فرمائی۔ “
(سیرت انبیاء، صفحہ نمبر 679-680، 692 – 693، 717-718، مطبوعه: مکتبة المدينة، کراچی)
“اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تعارف و تقابلی جائزہ” میں ہے: ”حضرت داؤد اور حضرت سلیمان آل اسرائیل کے بادشاہ اور پیغمبر بنے۔ اسرائیل کے پرچم پر جو ستارہ ہے اسے وہ داؤد کا ستارہ Star of David کہتے ہیں۔ گیارہویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے پہلی بار یروشلم کو دارا حکومت بنایا۔ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت سلیمان نے بیت المقدس میں پہلا ہیکل Temple تعمیر کیا۔ یہ بنی اسرائیل کے عروج کا زمانہ تھا۔ پھر زوال کی داستان بڑی ہی طویل اور عبرت ناک ہے۔ ان کے اپنے اعمال اور خصائل بد ان کی تباہی کا باعث ہے۔“
(اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تعارف و تقابلی جائزہ، صفحہ نمبر 484، مطبوعه: مکتبہ اشاعۃ الاسلام، لاہور)
ہیکل سلیمانی کی تباہی
حضرت سلیمان کے تعمیر کردہ ہیکل کو ہیکلِ سلیمانی اور ہیکل اول بھی کہا جاتا ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق یہ اسی جگہ واقع تھا جہاں اس وقت ہم مسلمانوں کا تیسرا سب سے مقدس مقام ”مسجد اقصیٰ“ واقع ہے یعنی ٹیمپل ماؤنٹ (Temple Mount) پر۔ چونکہ یہودی قوم پر ان کے کفر و شرک اور بد اعمالیوں کے باعث ذلت و رسوائی مسلط ہو ئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر دور میں انہیں سخت نقصان پہنچانے والے ان پر آئے اور انہیں تہہ و بالا کرتے رہے۔ یہ ہیکل سلیمانی کی بھی حفاظت نہ کر سکے اور 587 قبل مسیح میں بابلیوں کے ہاتھوں سخت شکست سے دوچار ہونے کے بعد جلا وطن ہو گئے، تب شہر یروشلم کو بری طرح تباہ کر دیا گیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی جلا دیا گیا۔چنانچہ عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں ہے:
“And in the ninth year of his reign, in the tenth month, on the tenth day of the month, King Nebuchadnezzar of Babylon came with all his army against Jerusalem, and laid siege to it; they built siegeworks against it all around. So, the city was besieged until the eleventh year of King Zedekiah. On the ninth day of the fourth month the famine became so severe in the city that there was no food for the people of the land. … In the fifth month, on the seventh day of the month — which was the nineteenth year of King Nebuchadnezzar, king of Babylon — Nebuzaradan, the captain of the bodyguard, a servant of the king of Babylon, came to Jerusalem. He burned the house of the LORD, the king’s house, and all the houses of Jerusalem; every great house he burned down. All the army of the Chaldeans who were with the captain of the guard broke down the walls around Jerusalem.”
ترجمہ: اور اس (صدقیاہ) کی حکومت کے نویں سال میں، دسویں مہینے کے دسویں دن (یعنی 15 جنوری)، بابل کا بادشاہ نبوکدنضر اپنی ساری فوج کے ساتھ یروشلم کے خلاف آیا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔ انہوں نے اس کے خلاف چاروں طرف محاصرے بنائے۔ پس بادشاہ صدقیاہ کے گیارہویں سال تک شہر قائم رہا۔ چوتھے مہینے کے نویں دن (18 جولائی) شہر میں قحط اس قدر شدید ہو گیا کہ وہاں کے لوگوں کے لیے کھانا بھی نہیں بچا۔ … پانچویں مہینے کے ساتویں دن (14 اگست) – جو بابل کے بادشاہ نبوکدخضر کی بادشاہت کا انیسواں سال تھا – بابل کے بادشاہ کا خاص خادم، شاہی محافظوں کا جرنیل نبوزراداں یروشلم پہنچا۔ اس نے خداوند کے گھر، بادشاہ سلیمان کے گھر اور یروشلم کے تمام گھروں کو جلا دیا۔ اس نے ہر بڑے گھر کو نذر آتش کر دیا۔ محافظت کے جرنیل کے ساتھ موجود کلدیوں کی تمام فوجوں نے یروشلم کے ارد گرد کی دیواروں (فصیل) کو توڑ دیا۔
(The Bible, 2 Kings 25, Verses 1-3 , 8-10, Page no 310, Published in USA)
“اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تعارف و تقابلی جائزہ” میں ہے: ”حضرت سلیمان کے وصال کے ساتھ ہی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی، ایک سلطنت کا دار الخلافہ سامرہ ( نابلس) اور ایک کا دارالخلافہ بیت المقدس (یروشلم) مقرر کیا گیا، کئی سو سال اسی طرح رہنے کے بعد شمال کی طرف سے آشوریوں نے سامریوں میں سے ہزاروں کو قتل کر کے مغلوب کر دیا اور وہاں پر قابض ہو گئے، ادھر سے کلدانیوں کے بادشاہ اور آشوریوں کے سابق گورنر نے دوسری مملکت کو تہس نہس کر دیا، مسجد اقصیٰ کو جلا کر گرا دیا، ہزاروں یہودیوں کو قتل کیا اور بقیہ کو ان کے بادشاہ صدیقیہ سمیت قیدی بنا کر بابل (عراق) لایا۔“
(اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تعارف و تقابلی جائزہ، صفحہ نمبر 484، مطبوعه: مکتبہ اشاعۃ الاسلام، لاہور)
“میزان الادیان بالاسلام” میں ہے: ”حضرت سلیمان کے وصال کے بعد سلطنت بنی اسرائیل دو حصوں میں تقسیم ہوگئی: (1)اسرائیل؛ جو دس قبائل پر مشتمل تھی جن کا دار الخلافہ سامرہ (نابلس) مقرر کیا گیا۔ (2) یہودا؛ جو بنی اسرائیل کے دو قبائل بنو یہودا اور بنیامین پر مشتمل تھی ان کا دار الخلافہ بیت المقدس مقرر کیا گیا۔ ان دونوں میں شدید قسم کی عداوت و دشمنی تھی۔ پہلے اسرائیل میں شرک و بت پرستی عام ہوئی اور وہ اس معاملے میں اتنے جری ہو گئے کہ انہوں نے اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت الیاس اور حضرت یسع کی بات کو بھی نہ سنا بلکہ حضرت الیاس کو جلا وطن بھی کر دیا۔ ان حالات میں آشوری حملے متواتر شروع ہوئے، اسی دوران بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت عاموس اور حضرت یوشع کو بھی جھٹلایا گیا، بالآخر آشوری حملوں کی وجہ سے پہلی حکومت یعنی اسرائیل 721 قبل مسیح میں اپنا وجود کھو بیٹھی، بنی اسرائیل کی شمالی حکومت یعنی اسرائیل کے دس قبائل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جلا وطن کر دئیے گئے اور آج تک ان کو کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس وادی میں کھو گئے یا زمین کے کس حصے نے ان کو نگل لیا؟ یہی دس قبائل بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑ “Lost sheep of Bani Israel” کہلاتے ہیں۔ پھر دوسری حکومت یعنی یہودا میں بھی شرک و بت پرستی پھیلی۔ آشوریوں نے حملے تو بہت کیے مگر یہ سلطنت کچھ دیر پا ثابت ہوئی۔ آخر کار 598 قبل مسیح میں بخت نصر نے بیت المقدس سمیت ساری یہودی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ یہودیہ نے کچھ عرصہ تو بغاوت کی مگر بالآخر بخت نصر نے اس بغاوت کو مکمل طور پر ختم کر کے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور کئی یہودیوں کو غلام اور قیدی بنا کر عراق (بابل) لے گیا۔ ہیکل سلیمانی کو بھی تباہ کر دیا اور توریت کے نسخے کو بھی جلا دیا۔ یہ دور 606 قبل مسیح سے 536 قبل مسیح تک پھیلا ہوا ہے یعنی ستر سال۔ یہی وہ دور ہے کہ جس میں یہودی جلا وطن رہے۔“
(میزان الادیان بالاسلام، صفحہ نمبر 67-68 ، مطبوعه: مکتبة المدینه کراچی)
ہیکل ثانی کی تعمیر
یہودیوں کی اس جلا وطنی کے کئی سال بعد جب خسرو/سائرس (ایران کے بادشاہ) نے شہر بابل کو فتح کیا تو انہیں یروشلم (Jerusalem) کی طرف واپسی نصیب ہوئی۔ پھر منہدم شدہ ہیکل سلیمانی کی جگہ پر دوبارہ ہیکل تعمیر کیا گیا، جسے ہیکل ثانی، ہیکل دوم، Herod’s Temple اور بیت ہمقدش ہاشینی بھی کہتے ہیں۔ تاریخ کے مطابق اس ہیکل کی تعمیر 516 قبل مسیح کے بعد وقوع پذیر ہوئی۔
ہیکل دوم کی تعمیر کے متعلق عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں مذکور ہے:
“Thus, says King Cyrus of Persia: The LORD, the God of heaven, has given me all the kingdoms of the earth, and he has charged me to build him a house at Jerusalem in Judah. Any of those among you who are of his people — may their God be with them! — are now permitted to go up to Jerusalem in Judah, and rebuild the house of the LORD, the God of Israel.”
ترجمہ: فارس کا بادشاہ خورس (سائرس) کہتا ہے: خداوند جو کہ آسمان کا خدا ہے، اس نے مجھے زمین کی تمام بادشاہتیں دی ہیں اور اس نے مجھے یہوداہ کے شہر یروشلم میں اس کا ایک گھر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔ تم میں سے جو کوئی اس (اسرائیل) کی قوم میں سے ہے – ان کا خدا ان کے ساتھ ہو- اب انہیں یہوداہ میں یروشلم جانے کی اور خداوند جو کہ اسرائیل کا خدا ہے، اس کے گھر کی تعمیر نو کرنے کی اجازت ہے۔
(The Bible, Ezra 1, Verses 2-3, Page no 895, Published in USA)
اسی میں ایک دوسرے مقام پر ہے:
“In the second year after their arrival at the house of God at Jerusalem, in the second month, Zerubbabel son of Shealtiel and Jeshua son of Jozadak made a beginning, together with the rest of their people, the priests and the Levites and all who had come to Jerusalem from the captivity. They appointed the Levites, from twenty years old and upward, to have the oversight of the work on the house of the LORD.”
ترجمہ: یروشلم میں خدا کے گھر پہنچنے کے دوسرے سال کے دوسرے مہینے میں، زرُبابل بن سیالتی ایل، یشوع بن یوصدق نے اپنے باقی لوگوں، کاہنوں اور لاویوں اور ان تمام قید سے واپس آنے والے اسرائیلیوں کے ساتھ مل کر اس کام کا آغاز کیا ۔ انہوں نے بیس سال اور اس سے اوپر کی عمر کے لاویوں کو خداوند کے گھر کے کام کی نگرانی کے لئے مقرر کیا۔
(The Bible, Ezra 3, Verse 8, Page no 989, Published in USA)
“میزان الادیان بالاسلام” میں ہے: ”539 قبل مسیح میں ایرانی بادشاہ سائرس نے بابل فتح کیا تو اہل فارس کا اقتدار فارس سے لے کر فلسطین تک پھیل گیا اور یہود اہل فارس کے زیر اقتدار آ گئے۔ اہل فارس کی رواداری کی وجہ سے بنی اسرائیل کو غلامی سے آزادی ملی اور انہیں بیت المقدس کی واپسی بھی نصیب ہوئی۔ 522 قبل مسیح میں حضرت زکریا کی زیر نگرانی بیت المقدس کو تعمیر کیا گیا۔“
(میزان الادیان بالاسلام، صفحہ نمبر 68، مطبوعه: مکتبة المدینه کراچی)
کتاب “بیت المقدس” میں ہے: ”جب بنی اسرائیل اپنے اعمال کی کافی سزا بھگت چکے اور ۵۳۹ ق م میں ایران کے پہلے کسریٰ خسرو (جسے بائبل خورس کے نام سے یاد کرتی ہے) نے بابل کو فتح کیا تو اس نے اپنی تمام مملکت میں منادی کے ذریعے یہودیوں کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی، چنانچہ یہودیوں کے قافلے فلسطین کی طرف جانے لگے۔ لیکن سارے یہودی واپس نہیں گئے۔ … ان (یہودیوں) کی فلسطین میں آمد کے سات ماہ بعد … ہیکل کی از سر نو تعمیر کا کام شروع ہو گیا، لیکن معماروں میں جذبے کے فقدان کی بنا پر کام بیس سال جاری رہا اور ہیکل کی تعمیر ۵۱۶ ق م میں مکمل ہوئی۔ … ہیکل ۵۱۶ ق م میں مکمل ہو چکا تھا، لیکن فصیل اور شہر بھی ملبہ کا ڈھیر تھا، اور نحمیاہ کے دور تک انہیں دربارِ ایرانی میں اتنا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہو سکا تھا کہ شہر کی مضبوطی کے لیے تعمیرات کی اجازت ملتی۔“
(بیت المقدس، صفحہ نمبر 23، مطبوعه: قطب مدینہ پبلشرز، کراچی)
ہیکل ثانی کی تباہی اور یہودیوں کی بے دخلی و رسوائی
فلسطین واپس آنے کے بعد بھی یہودی قوم اپنی فطرت سے باز نہ آئے، بد اعمالیوں میں مبتلا رہے بلکہ اس دوران تو ان لوگوں نے اللہ پاک کے دو پیغمبروں “حضرت زکریا” اور “حضرت یحیی” کو قتل کر کے گناہ عظیم کیا۔ نیز عجیب و غریب عقائد میں شدت اختیار کر گئے جیسے کہ یروشلم (Jerusalem) کو صرف یہودی سرزمین سمجھنا ، کسی غیر نسلی یہودی کو ہیکل کے قریب نہ آنے دینا، نت نئے تہوار وغیرہ۔ اب کی بار ان پر رومی جنگجو ٹائٹس، جس کا پورا نام Titus Flāvius Caesar Vespasiānus Augustus ہے، اسے اردو میں طیطیس اور تیتوس کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ بعد میں رومی سلطنت کا بادشاہ بنا، اس کی صورت میں شدید عقوبت آئی۔ ٹائٹس نے 70 سن عیسوی سے 79 سن عیسوی کے دوران یہودیوں کا سخت قتل عام کیا، یروشلم کے قدیم شہر کو تباہ کیا، ہیکل دوم (Herod’s Temple) کو نذر آتش کر دیا اور اس شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ پھر اس کے بعد بادشاہ ہیڈریان Hadrian نے وہاں ایک رومی کالونی ایلیا کیپیتولینا Aelia Capitolina کی بنیاد رکھی۔ اس وقت ہیکل دوم کے مقام پر ایک رومی مذہب (جیوپیٹر ،Jupiter ،Jove) کا معبد تعمیر کر دیا گیا۔ جو کچھ یہودی وہاں بچے تھے ، انہوں نے بغاوت کی، اس سے تیسری رومی یہودی جنگ ہوئی۔ جس کے نتیجے میں یہودیوں کو وہاں سے بالکل بے دخل کر دیا گیا، بہت ہی بری طرح ان کا بائیکاٹ کیا گیا اور بالآخر 135 سن عیسوی میں رومیوں نے یہودیوں کے یروشلم میں رہنے، آباد ہونے یا اپنی کسی قسم کی سرگرمی سر انجام دینے پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ پھر یہ یہودی جلاوطنی، دھتکاری اور ذلت کی زندگی گزارنے لگے۔ اسی جلا وطنی کے دور ہی میں انہوں نے اپنے لیے نئے احکام گھڑ ڈالے، جس میں مختلف عبادات، کنیسہ (synagogue) کا تصور، نئی معاشرت وغیرہ کے نظریات شامل تھے۔ اس سب میں انہوں نے رومیوں کے مخالفت میں یہ نظریہ بھی گھڑا کہ خدا نے ان کے لیے سرزمین قدس کو ان کا وطن مقرر کر دیا ہے اور وہاں ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کرنی ان پر لازم ہے۔ اس نظریہ کو یہودی راہبوں نے اتنا عام کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ان کے دین کا حصہ بن گیا اور ہر یہودی اسے اپنا سب سے بڑا فریضہ تصور کرنے لگا۔
یروشلم کی دوبارہ تباہی ، ہیکل دوم کی آتش زدگی اور یہودیوں کی بد ترین جلا وطنی کے متعلق امریکی مؤرخ “Matthew Bunson ” اپنی کتاب “A Dictionary of the Roman Empire ” میں لکھتا ہے:
“Vespasian became emperor in late 69 and in spring of 70, his son TITUS assumed control over the Palestinian legions. Jerusalem soon fell under attack, and the first of the city’s three great walls fell to Rome siegemas ters by the end of May. In June, the Romans relentlessly drove on, smashing into the Tower of Antonia and moving against the Great TEMPLE. According to Josephus, Titus was firm against the destruction of the Temple, but he had no control over the disaster. On August 30, 70 A.D. (9 Ab on the Jewish calendar, the date of Nebuchadnezzar’s burning of the earlier Temple), soldiers of Titus’ legions engaged in a struggle with the in surgents just outside of the Temple. One of the Romans, caught up in the fray, threw a firebrand into the building, and a fire broke out; quite probably Titus had ordered the burning. The following day, anyone caught within the boundaries was killed, and the treasury, gates and porticos were also set on fire. All the valuables salvaged from the blaze were confiscated to be displayed in Rome for Titus’ triumph. … Titus allowed his troops to sack and demolish the Lower City, and on September 8 launched his final assault. By the 26th, all of Jerusalem was on fire. Titus entered the ruined city a short time later, marveled at the magnificent towers and ordered that everything except the forts be demolished. The wrath of Rome was thus appeased, and the ancient city of Jerusalem was no more. … The absence of the Temple had a profound effect upon the nature of Judaism. The Jews never forgot the Temple and never forgave the Romans for destroying it. Thus, in 132, conspiracies were formed when a rumor was circulated that Hadrian intended to build a pagan city on the ruins of the ancient capital and Temple. The Jews were willing to pay their Temple tax of two drachmas to Jupiter Capitolinus, but they would not tolerate a Roman building defiling the capital. Simon Bar Cochba led an unsuccessful war from 132 to 135 and was crushed by Julius Severus, Hadrian’s legate. The city was renamed Colonia Aelia Capitolina as a result of this revolt. A temple to Jupiter Capitolinus was erected on the site of the old Temple, and all Jews were forbidden entry into its perimeters. Is stood in place for two centuries, while around it the Roman Empire changed.”
ترجمہ: 69ء کے اواخر میں ویسپاسیان بادشاہ بن گیا اور 70 ء کے موسم بہار میں ، اس کے بیٹے ٹائٹس نے فلسطینی افواج پر تسلط پا لیا۔ یروشلم جلد ہی حملے کی زد میں آ گیا ، اور شہر کی تین بڑی دیواروں میں سے پہلی دیوار مئی کے آخر تک روم کے محاصرے میں چلی گئی۔ جون میں ، رومیوں نے مسلسل آگے بڑھنا شروع کیا ، اناتونیا کے مینار کو منہدم کیا اور عظیم ہیکل کی طرف پیش قدمی کی۔ مؤرخ جوزفس کے مطابق ، ٹائٹس ہیکل کی تباہی کے خلاف تھا، لیکن اس ہولناک واقعے پر اس کا اپنا قابو بھی نہ رہا۔ 30 اگست، 70 عیسوی (یہودی کیلنڈر کے مطابق 9 اب، نبوکدنضر کی جانب سے پہلے ہیکل کو نذر آتش کرنے کی تاریخ ) پر ٹائٹس کے لشکر وں کے سپاہی ہیکل کے بالکل باہر جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں مصروف تھے۔ رومیوں میں سے ایک، جو میدان میں جا پھنسا تھا، اس نے عمارت میں ایک آتش خو پھینکا، (جس سے ہیکل میں) آگ بھڑک اٹھی۔ ممکن ہے ٹائٹس نے خود آتش زدگی کا حکم دیا ہو۔ اگلے دن، حدود کے اندر پکڑا جانے والا ہر شخص مارا جاتا، اور خزانے، دروازوں اور پیش گاہوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ آگ سے بچائے گئے تمام قیمتی سامان کو ضبط کر لیا گیا تاکہ ٹائٹس کی فتح کے جشن پر روم میں ان کی نمائش کی جا سکے۔ … ٹائٹس نے اپنے فوجیوں کو یروشلم کے پستی حصہ کو تباہ اور مسمار کرنے کی اجازت دے دی ، اور 8 ستمبر کو اپنے آخری حملہ کا آغاز کیا۔ پس 26 تاریخ تک پورے یروشلم میں آگ لگ چکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ٹائٹس تباہ شدہ شہر میں داخل ہوا، شاندار میناروں کو دیکھ کر متحیر ہوا اور حکم دیا کہ قلعوں کے علاوہ ہر چیز کو مسمار کر دیا جائے۔ اس طرح اس کا رومی غضب ٹھنڈا ہو گیا اور یروشلم کے قدیم شہر کا کچھ نہ بچا۔ …ہیکل کی غیر موجودگی نے فطرتِ یہودیت پر گہرا اثر ڈالا۔ یہودی ہیکل کو کبھی نہیں بھولے اور اسے تباہ کرنے پر رومیوں کو کبھی معاف نہیں کیا۔ چنانچہ 132ء میں اس وقت سازشیں شروع ہوگئیں جب ایک افواہ پھیلی کہ بادشاہ ہیڈرین قدیم دارالحکومت اور ہیکل کے کھنڈرات پر ایک مشرکانہ شہر تعمیر کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ یہودی جیوپیٹر کیپیٹلنس (قدیم یونانی مذہب) کو اپنے ہیکل کا دو یونانی سکوں کا ٹیکس ادا کرنے کے لئے تیار تھے ، لیکن وہ دارالحکومت کو بدنام کرنے والی رومی عمارت کو برداشت نہیں کریں گے۔ سائمن بار کوچبا نے 132ء سے 135ء تک ایک ناکام جنگ کی قیادت کی اور اسے ہیڈرین کے نائب جولیس سیورس نے کچل دیا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں شہر کا نام تبدیل کرکے کولونیا ایلیا کیپیتولینا رکھ دیا گیا۔ پرانے ہیکل کی جگہ پر جیوپیٹر کیپیٹلنس کا ایک معبد تعمیر کر دیا گیا ، اور تمام یہودیوں کو اس کے احاطے میں داخل ہونے سے منع کر دیا گیا۔ یہ دو صدیوں تک قائم رہا ، جبکہ اس کے ارد گرد کی رومی سلطنت بدل گئی۔
(A Dictionary of the Roman Empire, Page no 212-213, By Matthew Bunson)
آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا کے مضمون “Siege of Jerusalem (70 CE)” میں” The Great Revolt of Jews against Romans”، “Judaism in a Time of Crisis” ، “Encyclopedia of Judaism”، ” A History of the Jewish War” وغیرہ سے اخذ کرتے ہوئے مذکور ہے:
“The siege had a major toll on human life, with many people being killed and enslaved, and large parts of the city destroyed. … The destruction of Jerusalem and the Second Temple marked a major turning point in Jewish history. The loss of mother-city and temple necessitated a reshaping of Jewish culture to ensure its survival. Judaism’s Temple-based sects, including the priesthood and the Sadducees, diminished in importance. A new form of Judaism that became known as Rabbinic Judaism developed out of Pharisaic school and eventually became the mainstream form of the religion.”
ترجمہ: (یروشلم کے) اس محاصرے نے انسانی زندگی پر ایک بڑا اثر ڈالا ، بہت سے لوگ مارے گئے اور غلام بنائے گئے ، اور شہر کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ … یروشلم اور ہیکل دوم کی تباہی یہودی تاریخ کے ایک اہم موڑ کی نشانی تھی۔ شہر مادری اور ہیکل کے (تباہ ہونے اور چھننے کے) نقصان نے یہودی ثقافت کی تشکیل نو کی ضرورت پیش کی، اس کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے۔ یہودیت کے ہیکل پر مبنی فرقے ، بشمول کاہنی اور صدوقی کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی۔ یہودیت کی ایک نئی صورت جو ربانی یہودیت کے نام سے مشہور ہوئی، وہ فاریسی مکتبۂ فکر سے نکل کر بالآخر مذہب کی مرکزی شکل بن گئی۔
(Wikipedia, Article: Siege of Jerusalem)
امریکی مؤرخ Lester L. Grabbe کی کتاب “An Introduction to Second Temple Judaism ” کے حوالے سے مذکور ہے:
“At the end of the Bar Kokhba revolt in 135 CE, many of the Jewish communities were massacred and Jews were banned from living inside Jerusalem. A pagan Roman temple was set up on the former site of Herod’s Temple.”
ترجمہ: 135 عیسوی میں بار کوخبا بغاوت کے اختتام پر ، بہت سے یہودی برادریوں کا قتل عام کیا گیا اور یہودیوں کے یروشلم کے اندر رہنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ ہیکل ثانی کے سابقہ مقام پر ایک مشرکانہ رومی گرجہ قائم کر دیا گیا۔
(Wikipedia, Article: Second Temple, Destruction)
کتاب “بیت المقدس” میں ہے:”اس (قیصرِ روم) نے مشہور رومی جرنیل اور شاہ سپین کے بیٹے طیطس (Titus) کو یروشلم پر بھیجا۔ طیطس نے شہر کا محاصرہ کر لیا، جو ایک ماہ تک جاری رہا۔ یہودی بڑی بے جگری سے لڑے لیکن کامیابی طیطس کے قدموں میں لوٹ رہی تھی۔ ۱۹ اگست ۷۰ء کو وہ شہر میں داخل ہو گیا اور جب رومی سپاہی، یہودیوں کا تعاقب کرتے ہوئے ہیکل کے اندرونی صحن میں داخل ہوئے، تو ایک یہودی نے جلتی ہوئی مشعل ہیکل کے اندر پھینک دی جس سے ہیکل میں آگ بھڑک اٹھی جو طیطس رومی کی کوششوں کے باوجود بجھ نہ سکی اور ہیکل جل کر راکھ ہو گیا۔ اتفاق سے دیکھیے کہ یہ وہی دن تھا جس روز چھ سو سال پہلے بابل نے ہیکل سلیمانی کو برباد کر دیا تھا لیکن اس دفعہ بربادی خود یہودیوں کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ جب ہیکل جل رہا تھا سپاہی برابر کشت و خون میں مشغول رہے اس کے پاس لاشوں کا ڈھیر لگ گیا اور خون دریا کی طرح بہہ نکلا۔ ایک عجیب قسم کی شورش اور غلغلہ تھا۔ فاتحین کے نعروں اور مفتوحین کی چیخوں کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ رومیوں نے جب ہیکل کو راکھ ہوتے دیکھا تو انہوں نے باقی حصۂ عمارت کو بھی آگ لگا دی۔ ہیکل کا خزانہ جس میں بے شمار زر و سیم، لباس اور زیورات بلکہ قوم یہود کا تمام مال و دولت جمع تھا، جل کر خاک ہو گیا۔ اب صرف بیرونی حصے کے حجرے باقی تھے، جن میں چھ ہزار سے زیادہ عورتیں اور بچے تھے اور مرد حفاظت کے خیال سے جمع تھے لیکن بیشتر اس کے کہ طیطس کوئی حکم دے سپاہیوں نے ان کو بھی نذر آتش کر دیا۔ اور وہ سب کے سب وہیں جل مرے۔ جو سیفن لکھتا ہے کہ ہیکل کو آگ لگنے کے بعد اکثر لوگ بالائی شہر میں پناہ گزیں ہو گئے اور انہوں نے وہاں مقابلے کی ٹھان لی۔ طیطس نے ساتویں ستمبر کو بالائی حصے پر حملہ کر دیا۔ رومی شہر میں داخل ہو گئے قتل عام شروع ہوا اور شام تک جاری رہا۔ تمام گلی کوچے، کشتوں اور بھوک سے مرے ہوئے لوگوں کی لاشوں سے پر نظر آتے تھے، صبح ہوتے ہی شہر جل کر راکھ ہو گیا، جو لوگ قتل سے بچے رہے وہ غلامی میں فروخت ہوئے جن کی تعداد ۹۷ ہزار تھی۔ اس کے بعد شہر طیطس کے حکم سے بالکل زمین کے برابر کر دیا گیا۔
(بیت المقدس، صفحہ نمبر 28-29، مطبوعه: قطب مدینہ پبلشرز، کراچی)
“اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تعارف و تقابلی جائزہ” میں ہے: ” (بابل کی غلامی سے نکل کر یروشلم میں آنے والے یہودیوں) پر یونان نے پے در پے حملے جاری رکھے، یہاں تک کہ رومیوں نے آخری حملہ کر کے انہیں غلام بنایا، رومیوں نے یہاں کے ایک یہودی کو گورنر بنایا، اس کے مرنے کے بعد اس کے تین بیٹوں نے مقبوضہ علاقے کے تین صوبے بنائے، اس زمانے میں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ کو قتل کیا گیا اور حضرت عیسیٰ تشریف لائے۔ رومیوں نے کچھ سالوں بعد پھر حملہ کیا، اس حملے میں رومیوں نے ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا( گویا ہٹلر نے ہی یہودیوں کا قتل عام نہیں کیا، بلکہ یہ ایک عذاب کی صورت میں ان کے ساتھ با رہا ہوا ) اور ہزاروں کو قیدی بنایا، کچھ ادھر اُدھر جا کر نکل گئے۔…خدائے ذوالجلال نے اسرائیلیوں کو گناہوں سے توبہ کا ایک اور موقعہ دیا اور انہیں حضرت عیسیٰ جیسا پیغمبر عطا کیا مگر اسرائیلیوں نے حضرت عیسیٰ کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ زمین و آسمان کانپ اٹھے۔ انہوں نے رومیوں کے ہاتھوں حضرت عیسیٰ کو گرفتار اور انہیں صلیب پر مصلوب کرنے کی کوشش کی۔135ء میں شاہ ہیڈرن نے یروشلم پر قبضہ کیا اور بچے کھچے یہودیوں کو فلسطین سے نکال کر کرہ ارض پر بکھیر دیا۔ یہودی جس ملک میں بھی گئے ان کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی۔ ان کے دلوں میں انسان کی محبت کا نام و نشان نہ تھا یہودی صرف نفرت اور فتنہ پردازی کے دلدادہ تھے۔ وہ کسی دوسری قوم کے دل میں اپنی محبت پیدا کر ہی نہیں سکتے تھے۔ وہ نفرت کے پیکر تھے۔ وہ اللہ عز و جل کے دھتکارے ہوئے تھے اس لیے وہ جہاں بھی گئے انہیں نفرت ملی۔ وہ 135ء میں کرہ ارض پر بکھر تو گئے لیکن انہوں نے اس عقیدے کو سینے سے لگائے رکھا کہ خدائے یہودہ نے فلسطین کو ہی ان کا وطن مقرر کیا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ مستحکم ہوتا چلا گیا کہ کوئی انہیں سو بار شکست دے، کوئی طاقت خدائے یہودہ کا لکھا نہیں مٹا سکتی اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر ان کا مقدس فریضہ ہے جو بہر حال یروشلم میں ہی ادا ہو گا۔ یہ عقیدہ ان کے مذہب کا جزو بن گیا جس نے ایک مذہبی رسم کی صورت اختیار کرلی۔ اس رسم کی ادائیگی کے لیے دور دراز ملکوں کے یہودی ہر سال یروشلم جمع ہوتے تھے۔ اسے وہ صیہونیت Zionism کہتے تھے۔ وہاں وہ یہ الفاظ دہراتے تھے : “آئندہ سال یروشلم میں”۔ فلسطین میں ایک پہاڑی ہے جس کا نام صیہونZionہے۔ اسے یہودی مقدس سمجھتے ہیں۔ اس کے نام پر انہوں نے صیہونیت کی تحریک کی ابتدا کی تھی۔ “
(اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تعارف و تقابلی جائزہ، صفحہ نمبر 484-485، مطبوعه: مکتبہ اشاعۃ الاسلام، لاہور)
ہیکل ثالث کی تعمیر کا نظریہ اور یہودیوں کے ناپاک عزائم
آج کے یہودی بھی اسی نظریہ کو بنیاد بنائے سرگرم ہیں کہ ارض مقدس کا مکمل قبضہ ان کے ہاتھ آ جائے، سب خطے پر انہیں کی حکومت ہو اور خاص طور پر یہ کہ مسجد اقصی کو منہدم کر کے وہاں یہودی ہیکل جسے یہ ہیکل ثالث، Third Temple کا نام دیتے ہیں، تعمیر کیا جائے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے صہیونیت کی تحریک کا آغاز کیا اور اس وقت اس کے نتائج واضح نظر آ رہے ہیں۔ یہودیوں کے نزدیک ہیکل ایک انتہائی اہم مقام حاصل کر چکا ہے، بلکہ یہودی تعلیمات کے مطابق دین موسوی کے 613 احکامات میں سے 200 احکام ایسے ہیں جو کہ ہیکل کے بغیر سرانجام نہیں پا سکتے۔ جب سے ہیکل ثانی نذر آتش ہوا ہے، یہودی اس چیز پر یقین رکھتے آئے ہیں کہ ہیکل ثالث اس کی جگہ لے گا اور اسی کے مقام پر یروشلم میں تعمیر ہو کر رہے گا۔ یہی ہے یہودیوں کے ہیکل کی تاریخ اور ہیکل کی تعمیر نو کا بنیادی نظریہ۔
آزاد دائرۃ المعارف کے مضمون “Second Temple” میں مذکور ہے:
“Jewish eschatology includes a belief that the Second Temple will be replaced by a future Third Temple in Jerusalem.”
ترجمہ:یہودیت کے قربِ قیامت کے نظریات میں یہ عقیدہ بھی شامل ہے کہ یروشلم (کی سرزمین) پر زمانۂ مستقبل میں ہیکل ثانی کی جگہ ہیکل ثالث بنائی جائے گی۔
(Wikipedia, Article: Second Temple, Destruction)
ہیکل ثالث کی تعمیر میں اختلافات
یہاں ایک بات قابل توجہ ہے کہ یہودیوں میں ایک فرقہ اب بھی ایسا موجود ہے جو کہ ہیکل کی دوبارہ تعمیر کا قائل نہیں، بلکہ وہ اس کی سراسر مخالفت کرتا ہے، اسے دین موسوی کا حصہ قرار نہیں دیتا۔ پھر جو یہودی فرقے ہیکل کی تعمیر نو(Reconstruction) کے قائل ہیں ان کے مابین بھی کئی اختلافات ہیں۔ یہودیوں کی ایک بڑی تعداد جو کہ تعمیر نو کی قائل ہے لیکن وہ یہ مانتی ہے کہ ہیکل ثالث تب ہی بن سکتا ہے جب ان کا مسیحا آ جائے، اس سے پہلے کسی صورت ہیکل نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ ہیکل اول و دوم کی اصل (Exact) جگہ کا علم کسی کو نہیں، نیز اس کے اصل درست نقشے وغیرہ پر بھی بغیر خدائی مدد کے معلومات نہیں پائی جا سکتی، یہ سب تب ہی ممکن ہے کہ مسیحا آئے اور خدائی طاقت کے ذریعے ان سب کا انکشاف کرے پھر ہی ہیکل ثالث بن پائے گا اور وہ مسیحا وہاں سے تمام دنیا پر حکومت کرے گا۔ البتہ ایک یہودی گروہ ہیکل کی تعمیر نو کے لیے مسیحا کے انتظار کا قائل نہیں، اس کا یہ ماننا ہے کہ مسیحا کے بغیر ہیکل کی تعمیر ممکن ہے بلکہ بلا تاخیر ہیکل ثالث کی تعمیر ہو جانی چاہیے تاکہ قربِ قیامت کے خدائی وعدے جلد پورے ہو سکیں۔
یہودی راہب “Warshal, Rabbi Bruce ” نے اپنے آرٹیکل ” Let’s rethink the Temple and the Temple Mount ” میں بیان کیا:
“Reform Judaism does not believe in the rebuilding of a central Temple or a restoration of Temple sacrifices or worship. It regards the Temple and sacrificial era as a period of a more primitive form of ritual from which Judaism has evolved and should not return.”
ترجمہ: ریفارم یہودیت مرکزی ہیکل کی تعمیر نو یا ہیکل کی (خاص) قربانیوں یا عبادت کی بحالی پر یقین نہیں رکھتی ہے۔ یہ ہیکل اور قربانی کے دور کو رسم و رواج کی ایک بہت قدیم صورت کا دور سمجھتے ہیں، جس سے یہودیت نے ارتقا حاصل کر لیا ہے اور اسے واپس نہیں آنا چاہیے۔
(Wikipedia, Article: Third Temple, Reform Judaism)
امریکی جرنلسٹ “Ben Sale” نے اپنے آرٹیکل “Laying the groundwork for a Third Temple in Jerusalem” میں بیان کیا:
“Following the Second Temple’s destruction in 70 C.E., most rabbis adopted the position that Jewish law prohibits reconstructing the Holy Temple prior to the age of messianic redemption, or that the law is too ambiguous and that the messiah must come first.”
ترجمہ:70 عیسوی میں ہیکل دوم کی تباہی کے بعد ، زیادہ تر ربیوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہودی قانون مسیحا کے دور خلاصی سے پہلے مقدس ہیکل کی تعمیر نو کی ممانعت کرتا ہے ، یا یہ کہ (تعمیر ہیکل کا) قانون بہت ابہام والا ہے اور اس لیے مسیح کو لازما پہلے آنا ہوگا۔
(The Times of Israel, Article by Ben Sale, Published on 16 July 2013)
ہیکل ثالث کی تعمیر مسیحا کے آنے پر موقوف ہونے کا بیان کرتے ہوئے، آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا کے مضمون “Third Temple ” میں مذکور ہے:
“In mainstream Orthodox Judaism the rebuilding of the Temple is generally left to the coming of the Jewish Messiah and to divine providence. A few organizations, representing a small minority of Orthodox Jews, want to realize construction of a Third Temple in present times. The Temple Institute, the self-proclaimed “Temple Mount Administration” and the Temple Mount and Eretz Yisrael Faithful Movement each state that its goal is to build the Third Temple on the Temple Mount (Mount Moriah).”
ترجمہ: مرکزی صورت میں آرتھوڈوکس یہودیت میں، ہیکل کی تعمیر نو عام طور پر یہودی مسیحا کی آمد اور خدا کی رضا پر چھوڑے (رکھنے کا عقیدہ) ہے۔ آرتھوڈوکس یہودیوں کی ایک چھوٹی سی اقلیت کی نمائندگی کرنے والی چند تنظیمیں موجودہ دور میں ہیکل ثالث کی تعمیر کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہیں۔ “ٹیمپل انسٹیٹیوٹ” جو کہ خود ساختہ ٹیمپل ماؤنٹ ایڈمنسٹریشن ہے اور “ٹیمپل ماؤنٹ اینڈ ایریٹز یسرائیل فیئتھ فل موومنٹ” (ان میں سے)ہر ایک کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ٹیمپل ماؤنٹ (ماؤنٹ موریاہ) پر ہیکل ثالث تعمیر کرنا ہے۔
(Wikipedia, Article: Third Temple, Modern rebuilding efforts)
آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا پر ہے:
“A number of vocal Jewish groups now advocate building the Third Temple without delay in order to bring to pass God’s end-time prophetic plans for Israel and the entire world.”
ترجمہ: ملفوظ یہودی گروہوں کی ایک تعداد اب بغیر کسی تاخیر کے تیسری ہیکل کی تعمیر کی وکالت کرتے ہیں تاکہ اسرائیل اور پوری دنیا کے لئے خدا کے آخری وقت کے الہامی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
(Wikipedia, Article: Temple Mount, Third Temple)
ہیکل ثالث کی تعمیر میں رکاوٹ
جو یہودی فی الفور تعمیر ہیکل کے خواہاں ہیں ان کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کی دو وجوہات ہیں۔ وہ بڑی رکاوٹ “ہیکل کاٹیمپل ماؤنٹ پر تعمیر کرنا” ہے۔ ٹیمپل ماؤنٹ (Temple Mount) وہ پہاڑ ہے جسے ماؤنٹ موریا (Mount Moriah) ، جبل ہیکل وغیرہ بھی کہا جاتا ہے، یہودیوں کے مطابق یہ وہی جگہ ہے جہاں ہیکل اول یعنی ہیکل سلیمانی اور ہیکل دوم بنائی گئی تھی۔
اس رکاوٹ کی دو وجوہات میں سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ وہاں ہم مسلمانوں کی عظیم مسجد اور تیسرا سب سے مقدس مقام ”مسجد الاقصی“ واقع ہے، جس کی حفاظت ہم مسلمان ہر حال میں کریں گے۔ جبکہ اس ہیکل کو بنانے کے لیے یہودیوں کو مسجد اقصی کا انہدام عمل میں لانا ہوگا، جس میں یہ ہرگز یہ کامیاب نہیں ہو پائیں گے، ان شاء اللہ عزوجل۔ موجودہ مسلم حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ مسجد اقصی کے تقدس کی خاطر ہر طرح کا ممکن قدم اٹھائیں اور اس کی بے حرمتی سے غیر مسلموں کو روکیں۔ اللہ پاک مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمائے اور مسجد اقصی کی بہترین حفاظت و خدمت کرنا مقدر فرمائے۔ آمین۔
اس رکاوٹ کی دوسری وجہ اس پہاڑ پر یہودیوں کے نظریے کے مطابق قدس الاقداس (Holy of Holies) واقع ہونا اور یہودی قوم کا ناپاک ہونے کا تصور ہے۔ ناپاکی کی حالت میں یہودی قدس الاقداس کے احاطے میں نہیں جا سکتے۔ اسی چیز کے پیش نظر یہودی راہب مسجد اقصی کے اندر عبادات نہیں کرتے کہ کہیں ان کا قدم قدس الاقداس کے احاطے پر نہ پڑ جائے کہ یہ ان کی عظیم ترین ہلاکت کا سبب ہوگا۔ دراصل انہیں قدس الاقداس کے اصل متعین (Exact) مقام کا علم نہیں ہے، وہ ٹیمپل ماؤنٹ کے کسی بھی حصہ میں ہو سکتا ہے۔
اس مقام کا مقدس ترین ہونا بیان کرتے ہوئے، عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں مرقوم ہے:
“He built twenty cubits of the rear of the house with boards of cedar from the floor to the rafters, and he built this within as an inner sanctuary, as the most holy place.”
ترجمہ: اس (سلیمان بادشاہ) نے گھر کے عقبی حصے میں دیودار کے تختوں سے فرش سے لے کر چھت تک بیس ہاتھ کی (دیوار) تعمیر کی، اور اس نے اسے اس گھر میں ایک اندرونی حرم کے طور پر تعمیر کیا، جو کہ سب سے مقدس جگہ ہے۔
(The Bible, Kings 6, Verse 16, Page no 673, Published in USA)
تالمود جو کہ یہودیوں کے ہاں مقدس ترین کتاب ہے جسے یہ توریت پر بھی مقدم رکھتے ہیں، اس میں اس پہاڑ اور قدس الاقداس کی حرمت کا بیان یوں مذکور ہے: ”هناك عشرة درجات من القدسية أرض إسرائيل أكثر قداسة من بقية الأراضي،… إن المنطقة الواقعة قرب جدار القدس أكثر قدسية، … إن جبل الهيكل مقدس لذلك لا يمكن دخوله من قبل صاب أو صابه أو الحائض أو حتى المرأة التي ولدت توا. المتراس له قدسية أكثر، لذلك لا يستطيع الوثني أو صاحب الجثة النجسة دخولها. إن ساحة اليهود مقدسة، لذلك فإن المرء الذي لم يُنجز بعد القرابين الواجبة عليه يُمنع من دخولها وإذا دخل هذه الحرمة فإنه يسبب الخطيئة على نفسه. إن ساحة الأحبار مقدسة لذا لا يمكن لأي إسرائيلي دخولها الا إذا طلب منه ذلك في مد الأيدي، الذبح، أو التلويح. … [الهيكل مقدس] لذلك لايستطيع أي رجل إن لم يغسل قدميه أو يديه قبل دخوله، لذلك فإن القس الأكبر في يوم الكفارة أثناء الخدمة في المعبديُسمح له بدخوله.“ترجمہ: مقدسات کے دس درجات ہیں: اسرائیل کی سرزمین باقی زمین سے زیادہ مقدس ہے… قدس کی دیوار کے قریب کا علاقہ زیادہ مقدس ہے… ہیکل کا پہاڑ مقدس ہے، اس لیے اس میں صاب یا صابہ یا حائضہ، یہاں تک کہ وہ عورت جس نے بچہ جنا ہو داخل نہیں ہو سکتے۔ (یہاں کی) ناکا بندی زیادہ مقدس ہے، اس لیے کوئی کافر یا ناپاک لاش کو چھونے والا اس میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہودیوں کا صحن مقدس ہے، اس لیے جس شخص نے ابھی تک واجب قربانیاں ادا نہیں کیں اس کا اس میں داخل ہونا ممنوع ہے، اور اگر وہ اس حرمت میں داخل ہو جائے تو یہ اس کا اپنے اوپر گناہ لینا ہو گا۔ راہبوں کا مقام مقدس ہے، اس لیے کوئی بھی اسرائیلی اس میں داخل نہیں ہو سکتا سوائے یہ کہ ہاتھ بڑھا کر یا ذبح کرنے (کا حکم دے کر) یا لہرا کر ایسا کرنے کو نہ کہا جائے۔ …ہیکل مقدس ہے لہذا کوئی بھی آدمی اس کی طاقت نہیں رکھتا، جب تک کہ وہ اس میں داخل ہونے سے پہلے اپنے پاؤں یا ہاتھ نہ دھو لے، کیونکہ صرف کفارہ کے دن بزرگ راہب کو ہی دوران خدمت معبد (قدس الاقداس) میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔
(التلمود البابلی، طهوروت، جلد نمبر 18، صفحہ نمبر12-13، مشنا 6-9 ملتقطاً، مطبوعه: مکتبة المهدين الاسلامية)
یہودیوں کا پاکی حاصل کرنے کا نظریہ
موجودہ یہودی نظریات کے مطابق ہیکل کو تعمیر کرنے اور اس کی خدمت سر انجام دینے کے لیے انہیں اپنی عمومی ناپاکی دور کرنی ہوگی، جس کے لیے انہیں” روایتی پاکیزگی” حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جسے Ritual purification کہتے ہیں ۔ دراصل یہودیوں کے ہاں پاکی ناپاکی کے مختلف نظریات و احکام موجود ہے، جس میں مختلف قسم کی ناپاکیوں اور ان سے پاکی کے انداز بیان کیے جاتے ہیں، جیسے ندہ، نفاس، احتلام وغیرہ۔ چنانچہ یہودیوں کے نزدیک سب سے بڑی ناپاکی ” موت کی نجاست” ہے، جسے Corpse uncleanness کہتے ہیں؛ اس سے مراد مردہ انسانی کی ناپاکی ہے یعنی جب بھی کوئی انسان مرتا ہے تو وہ غلیظ ترین ہو جاتا ہے، تالمود کے مطابق یہ “Father of fathers of all uncleanness”ہے۔ نیز اس مردہ لاش کو جو چھو لے وہ بھی سخت ناپاک ہو جاتا ہے، اور اس کی ناپاکی “Father of uncleanness” ہے۔ یہودیوں کے نزدیک اس ناپاکی کو دور کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ وہ مخصوص سرخ بچھیا (Red Heifer) جو گناہ دور کرنے کے لیے جلائی گئی ہو اس کی راکھ کو پانی میں ملا کر، اس پانی کا چھڑکاؤ ناپاک شخص پر اور جو چیزیں اس نے چھوئیں ان پر کیا جائے یوں وہ ناپاک شخص اور وہ تمام چیزیں پاک ہو جائیں گی۔ یہ سرخ بچھیا کی قربانی ہیکل کے روبرو دی جاتی ہے تو چونکہ تقریبا دو ہزار سال سے ہیکل ہی موجود نہیں اس لیے ان سرخ بچھیوں کی قربانی کا سلسلہ بھی کئی صدیوں سے موقوف ہے۔ جس کے نتیجے میں ہر یہودی ناپاکی میں ملوث قرار پاتا ہے۔ لہذا یہودی ایسی ناپاکی کی حالت میں ہیکل میں داخل نہیں ہو سکتے ، ہیکل نہ ہو تو اس کی متوقع جگہ کے احاطے میں بھی داخل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی اس حالت میں ہیکل کی کوئی خدمت سر انجام دے سکتے ہیں۔
نوٹ! یہودیوں کی ناپاکی کی ایک وجہ تو اوپر مذکور ہوئی، اس کے علاوہ عہد نامہ قدیم (Old Testament) کےبعض پرانے نسخوں میں یہودیوں کے بالکلیہ ناپاک ہو جانے کا بھی بیان ہے جس کے مطابق سب کے سب یہودی ناپاکی میں ملوث ہیں۔ جیسا کہ کتاب زبور کے ایک نسخے میں ہے:
“Every one of them is unclean, they are together become impure; There is none that doeth good, no, not one.”
ترجمہ: ان میں سے ہر ایک ناپاک ہے، وہ ایک ساتھ ہو کر سب ناپاک ہو گئے ہیں۔ نیکی کرنے والا کوئی نہیں، کوئی ایک بھی نہیں۔
(The Bible, JPS Tanakh, Psalm 53, Verses 3, Published by Jewish Publication Society, 1917)
عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں مردار کو چھونے والے کی ناپاکی کا یوں بیان ہے:
“Those who touch the dead body of any human being shall be unclean seven days. They shall purify themselves with the water on the third day and on the seventh day, and so be clean; but if they do not purify themselves on the third day and on the seventh day, they will not become clean. All who touch a corpse, the body of a human being who has died, and do not purify themselves, defile the tabernacle of the LORD; such persons shall be cut off from Israel. Since water for cleansing was not dashed on them, they remain unclean; their uncleanness is still on them.”
ترجمہ: جو کسی انسان کی لاش کو چھوئیں وہ سات دن تک ناپاک رہیں گے۔ وہ تیسرے دن اور ساتویں دن پانی سے اپنے آپ کو پاک کریں گے اور اس طرح وہ پاک ہو جائیں گے۔ لیکن اگر وہ تیسرے دن اور ساتویں دن اپنے آپ کو پاک نہ کریں تو وہ پاک نہیں ہوں گے۔ جو لوگ کسی لاش کو چھوتے ہیں، یعنی مرے ہوئے انسان کے جسم کو چھوتے ہیں اور اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ خداوند کے خیمے کو ناپاک کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اسرائیل سے مٹا دیا جائے گا۔ چونکہ ان پر پاکی کے لیے پانی نہیں ڈالا گیا ، اس لیے وہ ناپاک رہتے ہیں، ان کی ناپاکی بدستور ان پر ہے۔
(The Bible, Numbers 19, Verses 11-13, Page no 310, Published in USA)
تالمود میں ہے:” الإنسان الذي يلامس الجثة فإنهاتتنجس بنجاسة السبعة ايام والذي يلامسه يتنجس بنجاسة التي تستمر حتى المساء“ترجمہ: جو شخص میت کو چھوتا ہے وہ سات دن کی نجاست کے ساتھ نجس ہوجاتا ہے اور جو اسے چھوتا ہے وہ شام تک رہنے والی نجاست کے ساتھ نجس ہوجاتا ہے۔
(التلمود البابلی، طهوروت، جلد نمبر 18، صفحہ نمبر 83، مشنا 1، مطبوعه: مکتبة المهدين الاسلامية)
آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا کے مضمون “Ritual purification ” میں ہے:
“Tumat met (“the impurity of death”), coming into contact with a human corpse, is considered the ultimate impurity. It cannot be purified through mikveh immersion alone, but also requires sprinkling with the ashes of the red heifer. Since the red heifer no longer exists, this form of impurity cannot be removed. Currently, all individuals are assumed to possess the impurity of death. This has a few practical implications: it prohibits Jews from entering the site of the Temple, and prohibits eating certain foods (such as terumah) which may only be eaten when pure.”
ترجمہ: تُمتْمیٹ (موت کی نجاست) ، انسانی لاش کے ساتھ تعلق میں آنے کو خالص نجاست سمجھا جاتا ہے۔ اسے صرف میکوِہ (مخصوص غسل) غوطہ لگانے کے ذریعے پاک نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ اس کے لئے سرخ بچھیا کی راکھ کے ساتھ (ملے ہوئے پانی کے) چھڑکاؤ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ سرخ بچھڑے (کی قربانی) اب مزید نہیں پائی جاتی ، لہذا نجاست کی اس صورت کو دور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ (جس کی وجہ سے)اس وقت تمام افراد کو موت کی نجاست کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے کچھ عملی مضمرات ہیں: یہ نجاست یہودیوں کو ہیکل کے مقام پر داخل ہونے سے مانع ہے، اور کچھ مخصوس کھانے (جیسے تروما) کھانے سے مانع ہے جو صرف پاکی کی حالت ہی میں کھایا جا سکتا ہے۔
(Wikipedia, Article: Ritual purification, Judaism)
یہودی راہب “Rabbi Chaim Richman” اپنی کتاب “The Mystery of the Red Heifer: Divine Promise of Purity” میں رقم طراز ہے:
“In our own times, the commandment of the red heifer takes on more and more significance. For without it, the Divine service of the Holy Temple cannot be resumed. There is a spiritual renaissance today in Israel; after almost 2,000 years, Israel is clearly moving towards the time when the Holy Temple on Mount Moriah – the prophesied Third Temple – will be rebuilt.”
ترجمہ: ہمارے اس زمانے میں سرخ بچھیا (کی قربانی) کا حکم زیادہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر ہیکل مقدس کی خدائی خدمت دوبارہ شروع نہیں کی جا سکتی۔ آج اسرائیل میں ایک روحانی احیاء ہے۔ تقریبا دو ہزار سال بعد اسرائیل واضح طور پر اس وقت کی طرف بڑھ رہا ہے جب موریاہ پہاڑ پر مقدس ہیکل – وہ ہیکل ثالث جس کی پیشن گوئی کی گئی ہے – دوبارہ تعمیر کی جائے گا۔
(The Mystery of the Red Heifer: Divine Promise of Purity, Introduction, Source: Temple institute)
سرخ بچھیا کی قربانی کا قضیہ
یہ ہے وہ سرخ بچھیا (Red Heifer) کی قربانی کا نظریہ جس کے متعلق آج کل سوشل میڈیا پر شور مچا ہے۔ سرخ بچھیا کی قربانی کی رسم سے مراد ایک ایسی سرخ بچھیا جو جوان ہو، نہ وہ کبھی حاملہ ہوئی ہو اور نہ ہی اس کا کبھی دودھ دھویا گیا ہو، یوں ہی کبھی اس پر ہل رکھ کر جویا نہ گیا ہو۔ اس کو گناہ کی قربانی یا یہودیوں کی ناپاکی دور کرنے کے لیے مخصوص انداز میں قربان کرنا اور قربانی کے بعد اسے جلا ڈالنا، پھر اس کی راکھ کو صاف پانی میں بعض دیگر اجزا کے ساتھ ملا کر ناپاک لوگوں کی ناپاکی کو دور کرنے کے لیے مخصوص انداز میں استعمال کرنا۔ یہودی نظریات کے مطابق اس قربان کی جانے والی سرخ بچھیا میں ان مذکورہ صفات کے علاوہ دیگر بہت سی چیزوں کا پایا جانا اور کئی چیزوں سے محفوظ ہونا ضروری ہے ورنہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوگی، جیسے کہ اس کے کچھ بالوں کا رنگ مختلف ہونا اسے قابل قربانی نہیں رہنے دیتا وغیرہ وغیرہ ۔ اس کی بہت زیادہ تفصیل ہے، بلکہ تالمود میں ایک پورا باب اس کے متعلق انہوں نے قائم کیا ہے۔
آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا پر ہے:
“The red heifer a heifer which is never pregnant, milked, or yoked, also known as the red cow, is a heifer sacrificed by the priests as a sacrifice to God. … Its ashes after being sacrificed and burned were used for the ritual purification of corpse uncleanness caused by an Israelite coming into contact with a human corpse, a human bone, or a human grave.”
ترجمہ: سرخ بچھیا جو نہ کبھی حاملہ ہوئی ہو، نہ اس سے دودھ نکالا گیا ہو، اور نہ ہی اس پر ہل رکھا گیا ہو، اسے سرخ گائے بھی کہا جاتا ہے، یہ ایک ایسی بچھیا ہوتی ہے جسے خدا کے لیے قربانی کے طور پر ذبح کیا جاتا تھا۔ قربان ہو جانے اور جلا دئیے جانے کے بعد اس کی راکھ کو لاش کی نجاست کی رسمی پاکی کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، جو ناپاکی کسی اسرائیلی کے انسانی لاش ، انسانی ہڈی یا انسانی قبر کے تعلق میں آنے کی وجہ سے ہوئی ہو۔
(Wikipedia, Article: Red heifer)
توریت میں سرخ بچھیا کی قربانی کا واقعہ
جو یہودی فی الفور ہیکل کی تعمیر کا نظریہ رکھتے ہیں ان کے زعم میں سرخ بچھیا کی قربانی کرنے سے وہ پاک ہو جائیں گے اور ہیکل کی خدمت سر انجام دے پائیں گے۔ اگر بنظر حقیقت دیکھا جائے تو اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں، توریت کی جن آیات کو وہ اس کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ان سے استدلال محض باطل ہے۔ ذیل میں اولاً عہد نامہ قدیم (توریت) کی وہ آیات بمع ترجمہ پیش کی جاتی ہیں، پھر ان آیات سے کیے جانے والے استدلال کا رد و بطلان عہد نامہ قدیم ہی سے پیش خدمت ہے، اس کے بعد اسلامی نقطۂ نظر سے اس پر گفتگو ہوگی۔
چنانچہ موجودہ محرفہ توریت کی کتاب الاعداد (Book of Numbers) میں یہ واقعہ مذکور ہے:
“The LORD spoke to Moses and Aaron, saying: This is a statute of the law that the LORD has commanded: Tell the Israelites to bring you a red heifer without defect, in which there is no blemish and on which no yoke has been laid. You shall give it to the priest Eleazar, and it shall be taken outside the camp and slaughtered in his presence. The priest Eleazar shall take some of its blood with his finger and sprinkle it seven times towards the front of the tent of meeting. Then the heifer shall be burned in his sight; its skin, its flesh, and its blood, with its dung, shall be burned. The priest shall take cedarwood, hyssop, and crimson material, and throw them into the fire in which the heifer is burning. Then the priest shall wash his clothes and bathe his body in water, and afterwards he may come into the camp; but the priest shall remain unclean until evening.”
ترجمہ: رب نے موسی اور ہارون سے کہا: یہ اُس شریعت کا آئین ہے جس کا حکم خداوند نے دیا ہے، اسرائیلیوں سے کہہ دو کہ وہ تمہارے پاس سرخ رنگ کی بے عیب جوان بچھیا لے کر آئیں۔ اس میں کوئی داغ نہ ہو اور اس پر کبھی جوا نہ رکھا گیا ہو(یعنی اس سے ہل نہ چلایا گیا ہو)۔ تم اسے الیعزر راہب کو دینا، اسے خیمے کے باہر لے جایا جائے۔ وہاں اسے اس (راہب) کی موجودگی میں ذبح کر دیا جائے۔ پھر الیعزر راہب اپنی انگلی سے اس کے خون سے کچھ لے کر ملاقات کے خیمے کے سامنے کی طرف چھڑکے۔ پھر اس کے سامنے اس بچھیا کو جلایا جائے؛ اس کی کھال اور خون اس کے گوبر کے ساتھ جلا دیا جائے۔ پھر وہ راہب دیودار کی لکڑی، زوفا اور قرمزی کی چیز لے کر انہیں اس آگ میں پھینک دے جس میں بچھیا جل رہی ہے۔ اس کے بعد وہ راہب اپنے کپڑوں کو دھوئے اور پانی میں اپنے بدن کو نہلائے۔ اور پھر وہ خیمہ گاہ میں آ سکتا ہے لیکن وہ راہب شام تک ناپاک رہے گا۔
(The Bible, Numbers 19, Verses 1 – 7, Page no 310, Published in USA)
اگر اس واقعہ کو بالفرض غیر محرفہ بھی مانا جائے تب بھی اس سے استدلال محض باطل ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ حکم اس وقت کے اسرائیلوں کو تھا جو کہ الیعزر راہب کے ساتھ خاص تھا، جس پر کہ عمل درآمد ہوچکا، اب اسے ہر دور کے لیے یا ہیکل کے خدمت کے لیے اہم سمجھنا اور دہرانا بداہۃً فضول ہے۔ دوسری بات یہ کہ توریت میں کہیں سرخ بچھیا کی قربانی کو آخرت کے ساتھ، مسیحا کے آنے کے ساتھ یا ہیکل کی خدمت کے ساتھ خاص قرار نہیں دیا گیا۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ خود عہد نامہ قدیم کے مطابق اب یہودیوں کی کوئی قربانی قبول نہیں، یہ قوم رب کی بارگاہ سے دھتکاری گئی ہے، ان کی عبادات و نیک کام سب فضول ہیں۔
چنانچہ عہد نامہ قدیم (Old Testament) کی کتاب سلاطین دوم میں یہودیوں کی قربانیوں کے فضول ہونے کا بیان یوں مرقوم ہے:
“Hear, O heavens, and listen, O earth; for the LORD has spoken: I reared children and brought them up, but they have rebelled against me. The ox knows its owner, and the donkey its master’s crib; but Israel does not know, my people do not understand. Ah, sinful nation, people laden with iniquity, offspring who do evil, children who deal corruptly, who have forsaken the LORD, who have despised the Holy One of Israel, who are utterly estranged! … Hear the word of the LORD, you rulers of Sodom! Listen to the teaching of our God, you people of Gomorrah! What to me is the multitude of your sacrifices? says the LORD; I have had enough of burnt offerings of rams and the fat of fed beasts; I do not delight in the blood of bulls, or of lambs, or of goats. When you come to appear before me, who asked this from your hand? Trample my courts no more; bringing offerings is futile; incense is an abomination to me. New moon and sabbath and calling of convocation — I cannot endure solemn assemblies with iniquity. Your new moons and your appointed festivals my soul hates; they have become a burden to me, I am weary of bearing them. When you stretch out your hands, I will hide my eyes from you; even though you make many prayers, I will not listen; your hands are full of blood.”
ترجمہ: اے آسمان سن! اور سن اے زمین! کیونکہ خداوند نے فرمایا ہے کہ میں نے ان بچوں کی پرورش کی اور انہیں فضیلت دی مگر انہوں نے مجھ سے بغاوت کی۔ بیل اپنے مالک کو جانتا ہے اور گدھا اپنے مالک کے پالنے کو جانتا ہے، لیکن اسرائیل اتنا نہیں جانتا، میری قوم سمجھتی نہیں۔ اے گنہگار قوم! سنگین قصور میں پھنسے ہوئے لوگو! برے کام کرنے والو! بدعنوانی کرنے والو! جنہوں نے خداوند کو ترک کر دیا، اسرائیل کے تقدس کو پامال کیا اور سراسر اعراض کیا (تم پر افسوس)۔ … اے سدوم کے حاکمو! خداوند کا کلام سنو! ہمارے خدا کی تعلیمات سنو، اے عمورہ کے لوگو! خداوند کہتا ہے: تمہاری قربانیوں کی کثرت سے مجھے کیا ؟ میں جلے ہوئے مینڈھوں کے اور موٹے تازے جانوروں کی چربی کے نذرانوں سے بیزار ہوں۔ بیلوں، بھیڑوں یا بکریوں کا خون (جو مجھے پیش کرتے ہو وہ) مجھے پسند نہیں۔ میرے حضور پیش ہوتے وقت کس نے تم سے ان کا تقاضہ کیا؟میری بارگاہوں کو مزید نہ روندو۔ (رک جاؤ!) یہ قربانیاں پیش کرنا فضول ہے۔ تمہارے بخور مجھے ناپسند ہیں۔ نئے چاند کی عید اور سبت کا دن اور کانووکیشن کی دعوت (مت مناؤ!) میں تمہارے بے دین اجتماعات کو برداشت نہیں کر سکتا۔ تم لوگوں کی نئے چاند کی عید اور تمہارے مقرر کردہ تہواروں سے میری روح نفرت کرتی ہے۔ یہ سب میرے لئے بوجھ بن گئے ہیں، میں انہیں برداشت کرتے ہوئے تنگ آ گیا ہوں۔ جب تم اپنے ہاتھ دعا کے لیے پھیلاؤ گے تو میں تم پر دھیان نہیں دوں گا، اگرچہ تم بہت نمازیں پڑھو، میں تمہاری نہیں سنوں گا، کیونکہ تمہارے ہاتھ خون سے بھرے ہوئے ہیں۔
(The Bible, Isaiah 1, Verses 1-4, 10-15, Page no 1339 – 1341, Published in USA)
موجودہ بائبل / عہد نامہ قدیم میں بھی اس قدر صریح دھتکاری کی عبارت کے بعد مقال کی کیا گنجائش، ان کا پانچ سرخ بچھیاں (Five red heifers) قربان کرنا یا ہزار سرخ بچھیاں قربان کرنا انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچائے گا، بلکہ دیکھا جائے تو کس منہ سے یہ لوگ ہیکل کی تعمیر کی بات کرتے ہیں؟ کس منہ سے یہ بیت المقدس یعنی شہر یروشلم میں رہنے کے بات کرتے ہیں؟ حالانکہ ان ہی کی کتاب کے مطابق خود خدا وندنے انہیں اس شہر سے بے دخل کیا۔ چنانچہ عہد نامہ قدیم (Old Testament) کی کتاب سلاطین دوم ہی میں مذکور ہے:
“Indeed, Jerusalem and Judah so angered the LORD that he expelled them from his presence.”
ترجمہ: بے شک یروشلم اور یہوداہ کے باشندوں نے خداوند کو اتنا ناراض کیا کہ اس نے انہیں اپنے حضور سے نکال دیا۔
(The Bible, 2 Kings 24, Verse 20, Page no 770, Published in USA)
یہاں تک تو انہیں کی کتاب سے ان کے نظریات کا بطلان ظاہر ہوا، اب ملاحظہ فرمائیں کہ ایک مسلمان کو ان سب معاملات میں کیا رہنمائی ہے۔
اسلام کا نقطۂ نظر
چنانچہ اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق یہودیوں کے ہاتھوں میں پائی جانے والی موجودہ توریت، انہیں کی لکھی ہوئی ہے، جس میں ان کی طرف سے بے شمار لفظی و معنوی تحریفات کی گئیں، ان تحریفات کے ثبوت کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ موجودہ دور میں بھی توریت کے کئی نسخے ملتے ہیں جو کہ یکساں نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسرے سےکافی مختلف ہوتے ہیں، کہیں آیات میں فرق، کہیں الفاظ میں فرق، کہیں احکامات میں فرق۔ ان ہی تحریفات کی وجہ سے مسلمانوں کا یہ نظریہ ہے کہ اصل توریت جو حضرت موسیٰ پر نازل کی گئی وہ حق تھی، مگر موجودہ توریت یکسر بدل دی گئی ہے اس لیے اس میں موجود باتوں کا کچھ اعتبار نہیں، کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کلام یا آیت میں کتنی تحریف ہے اور کتنی نہیں۔ یہودیوں کی ان تحریفات پر قرآن کریم شاہد ہے، متعدد مقامات پر ان کے توریت میں تحریف کرنے اور اپنے من پسند احکام لکھ ڈالنے کا بیان کرتا ہے۔
چنانچہ قرآن حکیم میں ہے: ﴿وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴾ترجمہ: اور ان (یہودیوں) میں ایک گروہ وہ تھا کہ وہ اللہ کا کلام سنتے تھے اور پھر اسے سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر بدل دیتے تھے۔
(پارہ نمبر 1، سورۃ البقرة 2، آیت نمبر 75)
ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ﴿مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا﴾ترجمہ: یہودیوں میں کچھ وہ ہیں جو کلمات کو ان کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں :ہم نے سنا اور مانا نہیں۔
(پارہ نمبر 5، سورۃ النساء 4، آیت نمبر 46)
مسلمانوں کے لیے واضح رہنمائی
جب نص قرآنی سے ثابت ہوگیا کہ ان لوگوں نے توریت میں تحریف کی ہے تو ہر مسلمان پر اس کا اعتقاد رکھنا ضرروی ہے۔ نیز اب اگر کوئی توریت کی آیات ہمارے سامنے پڑھے یا اس کے احکام بیان کرے تو اس حوالے سے ہم کیا کریں، اس کے متعلق بھی احادیث طیبہ میں ہماری کامل رہنمائی کی گئی ہے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے، حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا: ”كان أهل الكتاب يقرؤون التوراة بالعبرانية، ويفسرونها بالعربية لأهل الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تصدقوا أهل الكتاب ولا تكذبوهم، وقولوا:
“آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا”الاية“ترجمہ: اہل کتاب (یہودی) عبرانی زبان میں توریت پڑھا کرتے تھے اور مسلمانوں کے لیے اس کی عربی میں تفسیر کیا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اہل کتاب کی تصدیق نہ کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو، اور یہ کہہ دیا کرو: ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا۔ (صحيح البخاري، جلد نمبر 4، صفحه نمبر 1230، حدیث نمبر 4215، مطبوعه: دار ابن كثير، دمشق) اس حدیث پاک میں نہایت واضح تربیت کر دی گئی، لہذا اب اگر یہودی ریڈ ہیفر(Red Heifer) کی قربانی یا کسی قسم کا اپنا کوئی قول توریت کی روشنی میں لائیں بھی تو ہم دیکھیں گے اگر وہ قرآن کریم کے مطابق (According) ہے تو ہم اس کی تصدیق کریں گے، اگر وہ قرآن کریم کے مخالف (Opposite) ہو تو اسے ان کی تحریف جانیں گے، اور اگر نہ مطابق ہونے کا علم ہو نہ مخالف ہونے کا علم ہو تو ہم نہ اس بات کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی اس کی تکذیب کریں گے ، بلکہ یوں کہہ دیں گے کہ ”اللہ پاک پر، اس کے تمام نبیوں اور رسولوں پر اور جو کچھ اس نے ان پر نازل کیا یعنی اس کی نازل کردہ تمام کتابوں پر، ہمارا ایمان ہے“۔ مرقاۃ المفاتیح میں مذکورہ حدیث مبارکہ کے تحت ہے: ”فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “لا تصدقوا” أي: فيما لم يتبين لكم صدقه لاحتمال أن يكون كذبا وهو الظاهر من أحوالهم “أهل الكتاب” أي: اليهود والنصارى لأنهم حرفوا كتابهم “ولا تكذبوهم” أي: فيما حدثوا من التوراة والإنجيل، ولم يتبين لكم كذبه لاحتمال أن يكون صدقا وإن كان نادرا لأن الكذوب قد يصدق“ ترجمہ: پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تصدیق نہ کرو” یعنی ان باتوں کی جس کا سچ ہونا تم پر ظاہر نہیں، اس بات کے جھوٹا ہونے کے احتمال کی وجہ سے، جو کہ ان کے حالات سے ظاہر ہے۔ “اہل کتاب کی” یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی، اس لیے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں تحریف کر ڈالی۔ ” اور ان کی تکذیب نہ کرو” یعنی ان باتوں کی جو وہ تورات اور انجیل سے بیان کرتے ہیں، اور ان کا جھوٹا ہونا تم پر ظاہر نہیں، اس کے سچا ہونے کے احتمال کی وجہ سے ، اگرچہ یہ چیز بہت نادر ہے کیونکہ جھوٹا بھی کبھی سچ بول لیتا ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابیح، جلد نمبر 1، صفحه نمبر 240، مطبوعه: دار الفكر، بيروت) نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے: ”اہل کتاب کی تصدیق اور تکذیب دونوں سے اس لیے منع فرمایا کہ متیقن ہے کہ تورات میں تحریف ہے اور یہودی جو کچھ بیان کریں گے اس کے بارے میں دو احتمال ہیں؛ محرف ہے یا نہیں ۔ بہ صورت اول اس کی تصدیق حرام ہے، اور اس کا بھی احتمال ہے کہ وہ “ما انزل اللہ” ہو تو اس کی تکذیب حرام، اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ نہ تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ موجودہ توریت و انجیل میں جو کچھ ہے اس کی تین قسمیں ہیں: ایک تو وہ جو ہماری شریعت کے مطابق ہیں، ان کی تصدیق کی جائے گی ۔ دوسرے وہ جو ہماری شریعت کے خلاف ہیں، ان کی تکذیب واجب ہے ۔ تیسرے وہ جو ہماری شریعت کے مطابق ہیں نہ مخالف، ان میں سکوت واجب ہے ۔ یہی اس حدیث کا مفاد ہے۔“ (نزہة القاری، جلد نمبر 5، صفحه نمبر 56، مطبوعه: فرید بک سٹال، لاہور) بہار شریعت میں ہے: ”سب آسمانی کتابیں اور صحیفے حق ہیں اور سب کلام اللہ ہیں، اُن میں جو کچھ ارشاد ہوا سب پر ایمان ضروری ہے، مگر یہ بات البتہ ہوئی کہ اگلی (سابقہ) کتابوں کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے امت کے سپرد کی تھی، اُن سے اُس کا حفظ نہ ہوسکا، کلامِ الٰہی جیسا اُترا تھا اُن کے ہاتھوں میں ویسا باقی نہ رہا، بلکہ اُن کے شریروں نے تو یہ کیا کہ اُن میں تحریفیں کر دیں، یعنی اپنی خواہش کے مطابق گھٹا بڑھا دیا۔ لہٰذا جب کوئی بات اُن کتابوں کی ہمارے سامنے پیش ہو تو اگر وہ ہماری کتاب کے مطابق ہے، ہم اُس کی تصدیق کریں گے اور اگر مخالف ہے تو یقین جانیں گے کہ یہ اُن کی تحر یفات سے ہے اور اگر موافقت، مخالفت کچھ معلوم نہیں تو حکم ہے کہ ہم اس بات کی نہ تصدیق کریں نہ تکذیب، بلکہ یوں کہیں کہ:”اٰمَنْتُ بِاللہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ” اﷲ اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں پر ہمارا ایمان ہے۔“ (بہار شریعت، جلد نمبر 1، حصه اول، صفحه نمبر 30-31، مطبوعه: مکتبة المدينه کراچی) یہودی تعلیمات کو پروموٹ کرنا یا ان سے اَخبار لینا جب ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے قرآن و حدیث موجود ہیں، تو یہودی تعلیمات کی بنیاد پر اس ریڈ ہیفر کے نظریہ کو پروموٹ کرنا یا اس کو قیامت کی نشانی قرار دینا یا دجال کے آنے کی علامت قرار دینا کیونکر روا ہوگا حالانکہ قرآن و حدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ آخر سوشل میڈیا پر بیٹھ کر توریت کی آیات پڑھتے ہوئے مسلمانوں کو یہ باور کروانا کہ یہ کوئی بہت بڑی چیز ہونے جا رہی ہے، گویا کہ یہ واقعہ وقوع پذیر ہوا اور بس قیامت آئی، یہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟ حالانکہ یہودیوں کی اخبار کو لینے اور ان سے کسی قسم کی بات پوچھنے سے منع کیا گیا ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف ہی میں ہے، حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: ” يا معشر المسلمين، كيف تسألون أهل الكتاب، وكتابكم الذي أنزل على نبيه صلى الله عليه وسلم أحدث الأخبار بالله، تقرؤونه لم يشب، وقد حدثكم الله أن أهل الكتاب بدلوا ما كتب الله وغيروا بأيديهم الكتاب، فقالوا: هو من عند الله ليشتروا به ثمنا قليلا، أفلا ينهاكم ما جاءكم من العلم عن مساءلتهم، ولا والله ما رأينا منهم رجلا قط يسألكم عن الذي أنزل عليكم“ ترجمہ: اے مسلمانوں کی جماعت ! تم اہل کتاب سے کیونکر (کسی چیز کے متعلق) پوچھتے ہو، حالانکہ تمہاری کتاب جو نبی برحق ﷺ پر نازل ہوئی، وہ اللہ پاک کی سب سے بعد والی کتاب ہے، جس کی تم تلاوت کرتے ہو، جس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی۔ اور بلاشبہہ اللہ پاک نے تم لوگوں سے بیان کر دیا کہ اہل کتاب نے بدل دیا اسے جو اللہ پاک نے ان پر مقرر کیا، انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب میں تبدیلیاں کر ڈالنے کے بعد کہا: یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے عوض وہ کچھ قیمت وصول کر لیں۔ پس تمہارے پاس جو علم (قرآن) آ چکا ہے، کیا وہ تمہیں ان لوگوں سے سوال کرنے سے منع نہیں کرتا۔ اور اللہ کی قسم! ہم نے ان لوگوں میں سے کبھی کسی کو نہیں دیکھا کہ تم سے ان چیزوں کے متعلق سوال کرتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا۔ (صحيح البخاري، جلد نمبر 2، صفحه نمبر 953-954، حدیث نمبر 2539، مطبوعه: دار ابن كثير، دمشق) فتاوی رضویہ میں ہے: ”امام احمد نے مسند میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ ”حضرت عمرفاروق سروردوجہاں ﷺ کی خدمت میں حاضرہوکر عرض گزار ہوئے کہ “انا نسمع احادیث من یہود تعجبنا افتری ان نکتب بعضھا” ہم یہودیوں سے کئی ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں کیا ہمیں اجازت ہے کہ ہم ان میں سے کچھ باتیں لکھ لیاکریں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : “امتھوکون انتم کماتھوکت الیھود والنصارٰی” کیا تم دین اسلام کے مکمل اور کافی ہونے میں متحیر ہوکہ دوسروں کی باتوں کی طرف توجہ دیتے ہو جیسے کہ یہودی اور عیسائی اپنے مذہب میں متحیر ہوگئے، اور اﷲ تعالی کے دیے ہوئے پراکتفا نہ کرکے اِدھر اُدھر مصروف ہوگئے” لقد جئتکم بھا بیضاء نقیۃ” میں تمہارے پاس یہ واضح اور پاکیزہ شریعت لایا ہوں کہ اس میں نہ تو شک وشبہہ کی گنجائش ہے اور نہ کسی اور چیز کی ضرورت “ولوکان موسٰی حیا ما وسعہ الا اتباعی” اگرموسٰی دنیا میں ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔“ ظاہر ہے کہ جو باتیں عمر فاروق جیسی شخصیت کو پسند آتی ہوں وہ ہرگز شریعت کے مخالف نہ ہوں گی، اس کے باوجود حضور نے منع فرمایا اور بتا دیا کہ شریعت مطہرہ کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد نمبر 24، صفحہ نمبر 442، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاہور) افسوس! ایسا لگتا ہے کہ یہودیوں نے جان بوجھ کر یہ سنسنی پھیلانا چاہی اور ہمارے کئی حضرات دانستہ یا غیر دانستہ اس سنسنی پھیلانے میں ان کے ممد و مددگار ہوگئے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ تاریخ شاہد ہے یہودی اپنے گندے شیطانی ہتھ کنڈوں سے باز آنے والے نہیں، یہ وقتاً فوقتاً ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں جس سے ان کا احیاء ہوتا رہے، لہذا یہودیوں کی باتوں کا کچھ اعتبار نہیں کہ یہ سخت ملعون و مغضوب قوم ہے۔ ہم سب کے مالک، پرودگار ﷻ نے ان پر لعنت فرمائی، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہوا: ﴿فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً ۚیُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙوَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ﴾ترجمہ:تو ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردئیے ۔ وہ اللہ کی باتوں کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور انہوں نے ان نصیحتوں کا بڑا حصہ بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں۔ (پارہ نمبر 6، سورۃ المائدۃ 5، آیت نمبر 13) قرآن کریم کے مطابق یہودی وہ قوم ہے جن پر اللہ پاک کا غضب ہوا۔ چنانچہ سورۃ الفاتحہ میں ہے: ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ﴾ترجمہ: نہ کہ ان کا راستہ جن پر غضب ہوا۔ (پارہ نمبر 1، سورۃ الفاتحة 1، آیت نمبر 7) جامع ترمذی کی حدیث مبارکہ میں ہے، نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اليهود مغضوب عليهم“ ترجمہ: جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ یہودی ہیں۔ (جامع ترمذي، جلد نمبر 5، صفحه نمبر 71، حدیث نمبر2954، مطبوعه: دار الغرب الإسلامي بيروت) بلا شبہہ یہ جتنی چالیں چل لیں یہ ذلت و خواری ہی میں رہیں گے، اگر وقتی طور پر کسی کی مدد سے یا کسی کے دنیاوی سہارے سے یہ طاقت میں آ بھی جائیں یا انہیں کچھ دنیاوی عروج مل بھی جائے پھر بھی ان سے ذلت، محتاجی و دھتکاری ختم نہ ہوگی کیونکہ وہ ان پر مسلط ہو چکی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ؕذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ ؕذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۱۱۲)﴾ ترجمہ:یہ جہاں بھی پائے جائیں ان پر ذلت مسلط کر دی گئی سوائے اس کے کہ انہیں اللہ کی طرف سے سہارا مل جائے یا لوگوں کی طرف سے سہارا مل جائے۔ یہ اللہ کے غضب کے مستحق ہیں اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق شہید کرتے تھے، اور اس لیے کہ وہ نافرمان اور سرکش تھے۔ (پارہ نمبر 4، سورۃ آل عمران 3، آیت نمبر 112) خلاصہ کلام خلاصۂ کلام یہ کہ یہودیوں کا ریڈ ہیفر کی قربانی کا نظریہ، ہیکل کی تعمیر نو کے نظریے کی طرح محض باطل ہے، نہ یہ دجال کے آنے کا پیش خیمہ ہے اور نہ ہی قیامت کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی۔ مسلمانوں کو یہودیوں کی تعلیمات بیان کرنے کی بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات بیان کی جائیں اور یہودیوں کے اثرو رسوخ میں آنے سے بچایا جائے۔ البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ یہودی اگر ریڈ ہیفر کی قربانی کرتے اور اپنے باطل نظریے کے مطابق پاکی حاصل کرتے ہیں تو ضرور مسجد اقصیٰ کے انہدام کی کوشش تیز کریں گے، ایسی صورت میں ہر بااختیار مسلمان کا فرض ہے کہ ان کو اس ناپاک ارادے سے باز رکھنے کی بھرپور تدبیر کرے اور انہیں اس غلیظ کاروائی سے دور رکھے۔ و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم احمد رضا قادری 22شوال المکرم 1445ھ / 1 مئی 2024ء