غیر مسلم کی گروی چیز سے نفع اٹھانا

غیر مسلم کی گروی چیز سے نفع اٹھانا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا کافر کی زمین یا کوئی مال کے جو رہن کے طور پر ہے اس سے نفع اٹھانا کیسا ہے ؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کافر حربی اور مسلمان کے درمیان زیادتی سود نہیں ہے جبکہ وہ دھوکا دہی اور جھوٹ کے بغیر حاصل ہو اور کافر کا مال عقد فاسد کے ذریعے لینا جبکہ اس سے مسلمان کو اذیت اور بے عزتی کا خوف نہ ہو تو یہ مال مباح ہے۔ اسی طرح کافر کی زمین یا کوئی اور مال اگر بطور رہن اس کے پاس ہے تو اس سے نفع اٹھانا مسلمان کے لیے جائز ہوگا کہ یہ نفع اٹھانا سود نہیں ہے اور اگر اس صورت میں لوگ لاعلمی کی سبب سے اس پر طعن کرے گے تو اب اس سے بچنا بہتر ہے۔

ہدایہ میں ہے :

”ولنا : قوله عليه السلام : «لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب ، ولأن مالهم مباح في دارهم فبأي طريق أخذه المسلم أخذ مالا مباحاً إذا لم يكن فيه غدر“

یعنی ، ہماری دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلم و کافر حربی کے درمیان دارالحرب میں کوئی سود نہیں ہے ، نیز اسلئے کہ ان کے ملک ان کا مال مباح ہے تو جس طرح سے بھی مسلمان اسے لےگا مباح مال ہی لےگا بشرطیکہ اس میں دھوکہ نہ ہو ۔(الھدایۃ ، کتاب البیوع ، باب الربا ، جلد 5، صفحہ 202 ، مطبوعہ کراچی)

فتح القدیر میں ہے :

”إطلاق النصوص فی المال المحظور وانما یحرم علی المسلم اذاکان بطریق الغدر فاذالم یاخذ غدر فبأي طریق اخذہ حل بعد کونه برضا، بخلاف المستامن “

ترجمہ:نصوص کااطلاق ممنوع مال میں ہے حربی کا مال مسلمان پر صرف اس صورت میں حرام ہوتا ہے جب وہ دھوکے سے لے، چنانچہ جب اس نے دھوکہ کے بغیر لیا چاہے جس طریقے سے لیا ہو تو اس کےلئے حلال ہے بشرطیکہ اس حربی کی رضامندی سے لیا ہو بخلاف حربی مستأمن کے۔( فتح القدیر ، باب الربا، جلد 6 ، صفحہ 178، مکتبہ نوریہ رضویہ)

” الدرروالغرر “میں علامہ محمد بن فراموز المعروف بملا خسرو حنفی (متوفی 885ھ) لکھتے ہیں :

” فان مالهم مباح وبعقد الامان لم يصر معصوما لكنه التزم ان لا يغدرهم ولا يتعرض لما فى ايديهم بلارضاهم فاذا اخذه برضاهم اخذ مالا مباحا بلا غدر“

یعنی ان کا مال مباح ہے عقد امان کی وجہ سے معصوم نہیں ہوجائےگا ، البتہ یہ لازم ہے کہ انہیں دھوکہ نہ دے اور جو مال ان کی ملکیت میں ہے بلا رضامندی اس سے تعرض نہ کرے ، اور جب ان کی رضامندی سے لے تو مال مباح بلاغدر لےگا۔(الدرروالغرر ، کتاب البیوع ، باب الربا ، جلد 2 ،صفحہ 189 ،میرمحمد کتب خانہ کراچی)

ردالمحتار میں ہے :

” لا بأس بأن يأخذ منهم أموالهم بطيب أنفسهم بأي وجه كان؛ لأنه إنما أخذ المباح على وجه عري عن الغدر“

یعنی ان کی خوشدلی سے ان کا مال لینے میں حرج نہیں چاہے جس طرح سے بھی ہو ، اسلئے کہ مال مباح لیا ہے جو دھوکہ سے خالی ہے۔( ردالمحتار ،کتاب البیوع ، باب الربا ، جلد 4 ، صفحہ 189،داراحیاء التراث العربی بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فتاوٰی رضویہ میں لکھتے ہیں:

”ہاں جو مال غیر مسلم سے کہ نہ ذمی ہو نہ مستامن بغیر اپنی طرف سے کسی غدر اور بد عہدی کے ملے اگر چہ عقود فاسدہ کے نام سے اسے اس نیت سے نہ بہ نیت ربا وغیرہ محرمات سے لینا جائز ہے اگر چہ وہ دینے والا کچھ کہے یا سمجھے کہ اسکے لئے اس کی نیت بہتر ہے نہ کہ دوسرے کی ۔“(فتاویٰ رضویہ،جلد17، صفحہ325،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

فتاوٰی رضویہ میں ہے :

” اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جبکہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔“(فتاویٰ رضویہ،جلد17، صفحہ327،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

فتاویٰ رضویہ میں ایک دوسرے مقام پر ہے :

”سود لینا نہ مسلمان سے جائز نہ ہندو سے ، لإطلاق قوله تعالى “وَحَرَّمَ الرَّبوا ،” أما ما يؤخذ من الحربي في دار الحرب فمال مباح ليس بربا ۔ ترجمہ: اس ارشاد باری تعالی کے اطلاق کی وجہ سے کہ ” اور اللہ تعالی نے سود کو حرام کر دیا لیکن جو کچھ دار الحرب میں حربی سے لیا جائے تو وہ مباح مال ہے سود نہیں۔“(فتاویٰ رضویہ،جلد17، صفحہ308،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

بہار شریعت میں ہے :

”عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یااُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرناجائز ہے۔“(بہارشریعت جلد2 ، حصہ 11 صفحہ 870، مکتبة المدینة کراچی)

فتاویٰ بحر العلوم میں ہے :

” ہندوستان دارالاسلام ہے یہاں کے کافر حربی ہیں اپنی خوشی سے اگر اپنی کوئی رقم یامال ومتاع ایسے معاملے کے ذریعہ جو مسلمانوں میں ناجائز ہو دیں تو عقود فاسدہ کے ذریعہ یہاں کے غیر مسلموں کا مال لیا جاسکتا ہے ایسے طریقے سے نہیں لیا جاسکتا جس سے مسلمان کی اذیت اور بے عزتی کا خطرہ ہو یا غیرقوم کودھوکہ دیاگیا ہو ۔ھدایہ میں ہے: لان مالھم مباح فی دراھم فبای طریق اخذہ عنھم اخذ مالا مباحا اذالم یکن فیه غدرا“(فتاوی بحرالعلوم ،کتاب البیوع ،جلد 4 ،صفحہ 99، شبیر برادرز لاہور)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

’’ہندو کی حقیت رہن دخلی لینا اوراس سے منافع حاصل کرنا کوئی حرج نہیں مگرشرط یہ ہے کہ اپنے قرض پرنفع لینے یاسود کی نیت نہ کرے بلکہ یہ کہ ہندوکی رضامندی سے اس کے مال پرقبضہ جائزہے اوراس مباح سے نفع حاصل کیاجاتاہے، ’’فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی‘‘( بے شک عملوں کادارومدار نیتوں پرہوتاہے اورہرشخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ )

(فتاوی شریف ،جلد25،صفحہ254،رضافاؤنڈیشن ،لاہور)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”البتہ ان سب صورتوں میں یہ لحاظ رہے کہ ذی عزت متقی آدمی جسے جاہل عوام اپنی نافہمی کے سبب ایسی صورتوں میں معاذاﷲ سود خور مشہور کریں اسے احتراز مناسب ہے کہ جیسے برے کام سے بچنا ہے یونہی برے نام سے بچنا چاہئے ۔“(فتاوی رضویہ،ج 17،ص 349،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

فتاویٰ فیض الرسول میں ہے:

”جائز نہیں اس لیے کہ قرض دے کر نفع حاصل کرنا سود ہے حرام ہے البتہ غیر مسلم حربی کافر کا کھیت اس طرح سکتا ہے اس لیے کہ عقود فاسدہ کے ذریعہ ان کا مال لینا جائز ہے۔“(فتاویٰ فیض الرسول ، کتاب الربا، جلد 2 ، صفحہ 422، شبیر برادرز لاہور)

فتاویٰ فیض الرسول میں ہے :

”یہ صورت ناجائز ہے اس لیے کہ قرض دے کر نفع حاصل کرنا سود ہے حرام ہے البتہ یہاں کہ کافروں سے اس قسم کا معاملہ کرنا جائز ہے اس لیے کہ یہاں کہ کفار حربی ہیں اور مسلمان اور کافر حربی کے درمیان سود نہیں بشرطیکہ مسلمان اور کافر حربی کے درمیان جو عقد ہو وہ مسلم کے لیے مفید ہو یعنی کافر کا کھیت اس طرح لینا جائز ہے۔“(فتاویٰ فیض الرسول ، کتاب الربا، جلد 2 ، صفحہ 401، شبیر برادرز لاہور)

فتاویٰ امجدیہ میں ہے :

السوال ۔کسی ہندو یا عیسائی کا مکان رہن رکھ کر مرتہن کا اس سے انتفاع جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب

جائز ہے جبکہ انھیں تک رکھے اگر خدانخواستہ اسکی عادت پڑھ جائے کہ مسلمانوں سے بھی اسی طرح کا معاملہ کرنے لگے تو ناجائز وحرام ہے۔

(فتاوی امجدیہ ، کتاب الرہن ، جلد 3 ، صفحہ 344، مکتبہ رضویہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

Arqf – 2023 – 01

17 محرم الحرام 1446ھ 23 جولائی 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں