پرانی قبر میں دوسری میت دفن کرنا

پرانی قبر میں دوسری میت دفن کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کس صورت میں پرانی قبر کھود کر اس میں نیا مردہ ڈالنے کی اجازت ہوگی؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پرانی قبر کھود کر اس میں نیا مردہ دفن کرنا جائز نہیں ہے کہ اس میں میت کی بے حرمتی ہے جو ناجائز و گناہ ہے ۔ اگر شدید ضرورت ہو کہ شہر میں کہیں دوسری جگہ میسر نہ ہو تو اس صورت میں پہلی قبر کو کھود کر اس میں میت کو اس طرح دفنا جائے گا کہ جب پہلی میت خاک ہوچکی ہو اور اس کی ہڈیاں بھی باقی نہ ہوں اور اگر پہلی میت کی ہڈیاں موجودہوں تو ان دونوں کے درمیان مٹی سے آڑ کردی جائے گی اور اس میں بھی بہتر یہی ہے کہ حتی المقدور قبر کشائی سے بچا جائے۔

تاتارخانیہ میں ہے

” واذا صار المیت ترابا فی القبر یکرہ دفن غیرہ لان الحرمۃ باقیۃ “

تر جمہ:میت قبر میں مٹی ہی کیوں نہ ہو جائے تب بھی(بلاضرورت) اس میں دوسری میت کو دفن کرنا مکروہ ہے، کیونکہ پہلی میت کی حرمت اب بھی باقی ہے ۔(فتاوی تاتارخانیہ، جلد2،صفحہ130، مطبوعہ کراچی)

ردالمختار میں ہے

”وما يفعله جهلة الحفارين من نبش القبور التي لم تبل أربابها، وإدخال أجانب عليهم فهو من المنكر الظاهر، وليس من الضرورة المبيحة لجمع ميتين فأكثر ابتداء في قبر واحد قصد دفن الرجل مع قريبه أو ضيق المحل في تلك المقبرة مع وجود غيرها، وإن كانت مما يتبرك بالدفن فيها فضلا عن كون ذلك ونحوه مبيحا للنبش، وإدخال البعض على البعض قبل البلاء مع ما فيه من هتك حرمة الميت الاول وتفريق أجزائه، فالحذر من ذلك“

ترجمہ :او ر وہ جو جاہل گورکنوں کا کام ہے یعنی جن قبروں کےلوگ(مردے)فنا نہیں ہوئے اس کو کھودنا اور ان قبروں میں اجانب (دوسرے مردے)داخل کرنا،یہ صریح معصیت ہےاور قریبی رشتہ دار کے ساتھ کسی کو دفن کرنے کا ارادہ یادوسرے قبرستان میں جگہ ہونے کے باوجود پرانے قبرستان میں تنگی کی وجہ سے ایک ہی قبر میں دوسرے کی تدفین ،اگرچہ کسی تبرک کی نیت کی وجہ سے ہو، تبرک تو دور کی بات یہ کام تو ہرگز مباح نہیں ۔لہذا یہ ایسی ضرورتیں نہیں ہیں جو دو یا دو سے زائد میتوں کو ایک قبر میں ابتداءًجمع کرنے کو مباح قرار دینے والی ہوں۔(جب ان وجوہ کی بِنا پر ابتداءً ایک قبر میں ایک سے زائد مردے دفن کرنے کی اجازت نہیں ) تو ان یا ان جیسی وجوہات کی بنا پر پرانی قبر کھودنا اور دوسرےمُردے کو پہلے کے خاک ہونے سے پہلے قبر میں داخل کرنا ،کیسے حلال ہوسکتا ہے؟ حالانکہ اس میں پہلی میّت کی حُرمت کی پامالی اور اس کے اعضاء کو متفرق کرنا ہے ۔ تو خبردار اس حرکت سے بچو۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار ، جلد3، صفحہ138، مطبوعہ ملتان)

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاه امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا:

’’جس گورستان کی بوجہ کمی زمین وکثرتِ دفنِ مُردگان سے یہ حالت ہو گئی کہ نئی قبریں کھودنے پر کثرت سے مردوں کی ہڈیاں نکلتی ہوں اور بصورت موجود رہنے دوسرے گورستان متصل اس کے جو کہ ان سب شکایتوں سے پاک و صاف ہو اس کو چھوڑ کر خواہ مخواہ صرف بخیال مدفن ہونے آباء واجداد اپنے ایسے گورستان میں دوسرے مردوں کی ہڈیاں اکھاڑکر مردہ دفن کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟‘‘

آپ جوابا ًارشاد فرماتے ہیں:”صورتِ مذکورہ محض ناجائز وحرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد9،صفحہ385، رضافاؤنڈیشن ،لاھور)

آگے لکھتے ہیں :

”میت اگرچہ خاک ہوگیا ہو، بلا ضرورت شدیدہ اس کی قبر کھود کر دوسرے کادفن کرنا، جائز نہیں ۔“(فتاوی رضویہ، جلد9،صفحہ390، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

ردالمختار میں ہے

”لا يدفن اثنان في قبر إلا لضرورة،ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب“

یعنی دو میتوں کو ایک قبر میں دفن نہیں کریں گےمگر ضرورتاً اور نہ دوسری میت کی تدفین کے لئے قبر کو کھودا جائے گا مگر یہ کہ میت اول خاک ہوچکی ہواور اسکی ہڈیاں بھی باقی نہ ہوں اور اگر پہلی میت کی ہڈیاں موجود ہوں تو ان دونوں کے درمیان مٹی سے آڑ کردی جائے۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار ، جلد3، صفحہ139، مطبوعہ ملتان)

فتویٰ رضویہ میں ہے:

”فتاوی رضویہ میں ہے: “بوقت ضرورت قبر کھودنا جائز ہے جبکہ اس کے بغیر دوسری جگہ میسر نہ ہو۔“(فتاوی رضویہ، جلد9،صفحہ 439، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

وقار الفتاوی میں ہے:

”قبر کو کھود کر دوسری میت اس میں دفن کرنا٬اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک پہلی میت کی ہڈیاں مٹی میں مل کرختم نہ ہو جائیں. جان بوجھ کر کسی مسلمان کی قبر کھولنا جائز نہیں ہے اگر کھودنے کے بعد پتا چلا کہ یہاں قبر تھی اوراس کی ہڈیاں وغیرہ نکلیں اور وہاں دوسری جگہ قبر کےلئے خالی نہیں ہے تو ان ہڈیوں کو اسی قبر میں ایک طرف دفن کرکے دوسری میت کو دفن کردیں۔

لیکن جب دوسرا قبرستان موجود ہے اور اُس میں جگہ بھی ہو اگرچہ دور ہو تو وہیں دفن کیا جائے گا۔“(وقار الفتاوی ،کتاب الجنائز ،ج2 ،ص 375،مطبوعہ بزم وقارالدین )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبرفقہ کورس

23محرم الحرام 1446ھ30 جولائی 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضاقادری

اپنا تبصرہ بھیجیں