مقیم مسافر کےپیچھے مسافر کی نماز فاسد ہوجائے تو مسافر کتنے پڑھے گا؟

مقیم مسافر کےپیچھے مسافر کی نماز فاسد ہوجائے تو مسافر کتنے پڑھے گا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ مسافر نے چار رکعت والی نماز میں مقیم امام کی اقتداء کی پھر نماز فاسد ہوگئ تو آیا اب مسافر پر چار پڑھنا ضروری ہیں یا دو رکعت پڑھے گا؟ (محمد عرفان،یوکے)

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق وا لصواب

اگر مسافر نے چار رکعت فرض نماز مقیم کی اقتداء میں شروع کی پھر نماز کو فاسد کردیا تو اب مسافر اگر اکیلا پڑھتا ہے تو دو پڑھنی واجب ہیں اور اگر پھر مقیم امام کی اقتداء کرتا ہے تو چار پڑھے گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے

”وَإِنْ اقْتَدَى مُسَافِرٌ بِمُقِيمٍ أَتَمَّ أَرْبَعًا وَإِنْ أَفْسَدَهُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ“

یعنی اگر کوئی مسافر مقیم کی اقتداء کرے تو چار رکعتیں پوری کرے اور اگر (نماز) توڑ دے تو دو رکعتیں پڑھے گا (فتاوی عالمگیری،کتاب الصلوٰۃ،جلد اول،صفحہ 142، التراث )

بہار شریعت میں ہے:

”مسافر نے مقیم کے پیچھے نماز شروع کرکے فاسد کردی تو اب دو ہی پڑھے گا یعنی جبکہ تنہا پڑھے یاکسی مسافر کی اقتداء کرے اور اگر پھر مقیم کی اقتداء کی تو چار پڑھے۔“ (بہار شریعت،نماز مسافر کا بیان،حصہ چہارم،مکتبة المدینہ،کراچی)

ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بالصواب

کتبہ،

محمد مبین مدنی

۷ جولائی ۲۰۲۴ بمطابق ۲محرم الحرام ۱۴۴۶ھ

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں