کربلا میں ذوالجناح کی حقیقت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کربلا میں ذوالجناح کی کیا حقیقت ہے ؟ یہ گھوڑا کیا وہاں موجود تھا اور اس کی اتنی کرامات ثابت بھی ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق والصواب
کربلاء اور اہل بیت اطہار علیہم الرضوان کی شان میں واقعات گھڑنا روافض کا شیوہ ہے اسی طرح ذو الجناح گھوڑے والا واقعہ بھی من گھڑت ہے کہ کتب تاریخ اور کتب روافض میں یہ صراحت موجود ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ کے راستے میں جب شاعر فرزدق سے ملاقات کی تو آپ اونٹ پر سوار تھے ،پھر محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب آپ کی سواری کی لگام پکڑی تب بھی آپ اونٹ پر ہی سوار تھے۔ جب آپ کربلاء پہنچے تب بھی آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارے اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور جب آپ شہادت سے پہلے کوفیوں کو خطبہ دے رہے تھے تو تب بھی آپ اونٹ پر ہی سوار تھے ۔ان تمام واقعات میں کسی بھی کسی گھوڑے کا تذکرہ موجود نہیں ہے ،یہاں تک کہ شیعہ ذاکر لکھتا ہے کہ ذوالجناح کا واقعہ کسی معتبر کتاب میں موجود نہیں ہے حتی کہ حدیث ، اخبار اور تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں اس کا نام تک موجود نہیں ہے ۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتی سواری میں ایک اونٹ تھا جس کا نام مسناة اور ایک گھوڑا جس کا نام مرتجز تھا،ذوالجناح نام کا گھوڑا کبھی آپ کی سواری رہا ہی نہیں۔
ہاں ایک خچر ”دُلدل“ نام کا تھا جو حضور علیہ السلام کا تھا اور بعد میں اس پر کئی صحابہ سمیت حسنین کریمین نے بھی سواری کی تھی لیکن کربلا میں اس خچر کا ہونا بھی ثابت نہیں۔
تاریخ طبری میں ہے
” ثم حرک الحسین راحلته فقال السلام علیک ثم افترقا “
(امام حسین نےکوفہ جاتے ہوئے راستے میں چند لمحے فرزدق سے ملاقات کی اور کوفیوں کاحال پوچھا) اورپھراپنی اونٹنی کوحرکت دی اور السلام علیک کہہ کر چل دیے ۔ (تاریخ طبری، جلد 6 ص218، مطبوعہ بیروت)
الکامل میں ابن اثیر الجذری لکھتے ہیں
”ثم رکب الحسین راحلته وتقدم الی الناس ونادی بصوت عال یسمعه کل الناس“
ترجمہ:امام حسین رضی اللہ عنہ اونٹنی پر سوار ہوکر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اوربلند آواز سے لوگوں کو خطبہ دیا جسے سب لوگ سن رہے تھے ۔ (الکامل،لابن اثیرالجذری، جلد 4 صفحہ 61 ، دار الفکر بیروت)
بحار الانوار میں شیعہ ذاکر محمد باقر المجلسی لکھتا ہے
”ارتحل الحسین علیه السلام فبلغ ذلك ابن الحنفیة فاتاء فاخذ بزمام ناقته“
ترجمہ:حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر موجود تھے پس آپ پہنچے تو ابن حنفیہ آئے اور آپ کے اونٹنی کی نکیل پکڑی۔(بحار الانوار ، جلد 44 ، صفحہ 364، دار احیاء التراث العربی بیروت)
کشف الغمہ میں شیعہ مورخ علی بن عیسی اربلی لکھتا ہے
”فقال علیہ السلام ھذا کربلا موضع کرب وبلاء ھذا مناخ رکابنا ومحط رحالنا ومقتل رجالنا “
ترجمہ:امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کربلا ہے جو دکھوں کی جگہ ہے یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے مردوں کی شہادت گاہ ہے ۔ (کشف الغمہ،ص347 ، الشرکه
مکتبة الافین)
بحار الانوار میں شیعہ ذاکر محمد باقر المجلسی لکھتا ہے
”ثم قال اھذہ کربلاء؟ فقالوا نعم یا ابن رسول الله فقال ھذا موضع کرب و بلاء ھہنا مناخ رکابنا ، ومحط رحالنا ، ومقتل رجالنا ،ومسغك دمائنا“
ترجمہ:پھر فرمایا کیا یہ کربلاء ہے ؟ تو کہا گیا کہ جی ابن رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا یہ کرب و بلاء ہے یہ ہمارے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے یہ ہمارے مردوں کی شہادت کی جگہ ہے اور یہ ہمارے خون بہانے کی جگہ ہے۔(بحار الانوار ، جلد 44 ، صفحہ 383، دار احیاء التراث العربی بیروت)
مناقب ال ابی طالب میں شیعہ ذاکر ابو جعفر محمد بن علی اشھر اشوب لکھتا ہے
”ثم نزل قال ھذا موضع کرب و بلاء ھہنا مناخ رکابنا ، ومحط رحالنا ، ومقتل رجالنا ،ومسفك دمائنا“
ترجمہ:یہ کرب و بلاء ہے یہ ہمارے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے یہ ہمارے مردوں کی شہادت کی جگہ ہے اور یہ ہمارے خون بہانے کی جگہ ہے۔(مناقب ال ابی طالب ، جلد 4 ، صفحہ 105 ، دار الاضواء)
آگے لکھاہے
”ثم استوی علی راحلته وقال انا ابن علی الخیر من آل ھاشم ثم حمل علی الیمنة ….ثم حمل علی المیسرة وقال انا الحسین بن علی“
ترجمہ:پھر آپ اونٹ پر بیٹھے اور فرمایا میں ابن علی الخیر ہو میں اہل ہاشم سے ہو پھر آپ لشکر کے دائیں جانب سوار ہوئے۔۔۔۔پھر بائیں جانب اور فرمایا کہ میں حسین ابن علی ہو۔(مناقب ال ابی طالب ، جلد 4 ، صفحہ 119 ، دار الاضواء)
ناسخ التواریخ میں شیعہ عالم محمد مرزا تقی لسان الملک لکھتا ہے :
” سید الشہداء راکہ ور کتب معتبرہ را بنام نوشتہ انداز افزوں از دو مال سواری نیست یکے اسپ رسول خدا کہ مرتجز نام داشت و دیگرے شترے کہ مسّناة می نا مید ندو اسپ کہ ذوالجناح نام داشتہ باشد در ہیچک از کتب احادیث و اخبار و تواریخ معتبرہ من بندہ ندیدہ ام و ذوالجناح لقب شمر پسر لہیعہ حمیر یست واسپ ہیچ کس را بدیں نام نہ شیندہ ام – واگر اسپ چند کس راجناح نام بودہ بعد مربوط بہ ذوالجناح و منسوب بحسین نخواہد بودو اگر اسپ ہائے پیغمبر صلی الله علیہ وسلم راجناح نامید ند باز نشاید ذوالجناح گفت درہر حال بدیں نام اسپ نام دار نہ بوده“
ترجمہ : سید الشہداء (حسین رضی الله عنہ) کی سواری معتبر کتابوں میں دو نام سے مذکور ہے : ایک گھوڑا نبی صلی الله علیہ وسلم کا تھا جس کا نام مرتجز تھا ۔ دوسری سواری اونٹ تھی : جس کو مسّناة کہتے تھے ۔ گھوڑا کہ جسے ذوالجناح کا نام دیا گیا ہے ، حدیث ، اخبار اور تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں میں نے اس کا نام نہیں دیکھا۔ اور ذوالجناح ایک شخص شمر بن لھیعہ کا لقب تھا اور کسی کے گھوڑے کا یہ نام میں نے نہیں سنا ۔ اگر چند گھوڑوں کے نام ذوالجناح ہوں اور اس کے ساتھ “ذو” کا لفظ جوڑ کر ذوالجناح بنایا جائے ، تو بھی یہ گھوڑا حسین کا نہیں ہو سکتا ۔ اگر پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے گھوڑوں کا جناح رکھیں ، پھر بھی ذوالجناح کہنا غلط ہے ۔ بہرحال اس نام کا گھوڑا کوئی نہ تھا۔(ناسخ التواریخ ، جز 2 ، جلد 6 ، در احوال حضرت سید الشہداء ، صفحہ 366، شمارہ مرکب ہائے حسین ، مطبوعہ تہران)
روح البیان کے حوالےسے عجائب القرآن میں شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفٰی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
” خچر: یہ بھی ایک مبارک سواری ہے۔ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں چھ خچر تھے۔ ان میں سے ایک سفید رنگ کا تھا جو مقوقس والئ مصر نے بطور ہدیہ آپ کی خدمتمبارکہ میں پیش کیا تھا جس کا نام ”دلدل” تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اندرون شہر مدینہ اور اپنے باہر کے سفروں میں اس پر سواری فرمایا کرتے تھے۔ اس کی عمر بہت زیادہ ہوئی یہاں تک کہ اس کے سب دانت ٹوٹ گئے اور اس کی خوراک کے لئے جو کوٹ کر دَلیا بنایا جاتا تھا۔ یہ حضور کی وفات کے بعد مدتوں زندہ رہا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی خلافت کے دوران اس پر سوار ہوئے۔ اور آپ کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی جنگ ِ خوارج کے موقع پر اسی خچر پر سوار ہو کر جنگ کے لئے نکلے۔ پھر آپ کے بعد آپ کے صاحبزادگان حضرت امام حسن و حضرت امام حسین و حضرت محمد بن الحنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی اس کی سواری کا شرف پایا۔“(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ327،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
04 محرم الحرام 1446ھ10 جولائی 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری