انبیاء علیہم السلام سے اجازت لے کر روح قبض کی جاتی ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ انتقال سے قبل رب تعالی کا کسی انبیاء کو دنیا و آخرت اور اپنی ملاقات کے مابین اختیار دینا اور فرشتوں کاان سےاجازت طلب کرنا ثابت ہے یا نہیں ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
اللہ تبارک و تعالی نے ہر نبی کو ان کی وفات سے قبل دنیا میں مزید زندگی گزارنے اور آخرت کے سفر کے درمیان اختیار عطا فرمایا ہے انبیاء علیہم السلام کی شان یہ ہے کہ ملک الموت علیہ السلام ان کی اجازت سے روح قبض کرتے ہیں ۔یہ بات احادیث اور علمائے کرام سے ثابت ہے۔
صحیح بخاری میں ہے:
”عن أبي سعيد الخدري، قال: خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده فاختار ما عند الله، فبكى أبو بكر الصديق رضي الله عنه، فقلت في نفسي ما يبكي هذا الشيخ؟ إن يكن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده، فاختار ما عند الله، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو العبد، وكان أبو بكر أعلمنا “
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا (کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرے) ،بندے نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے (یعنی آخرت)یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر اللہ نے اپنے کسی بندے کو دنیا اور آخرت میں سے کسی کو اختیار کرنے کو کہا اور اس بندے نے آخرت پسند کر لی تو اس میں ان بزرگ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ لیکن یہ بات تھی کہ بندے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔(صحیح البخاری، باب الخوخة والممرِ في المسجد،جلد۱،صفحہ۴۶۶،مطبوعہ دارطوق النجاۃ)
مزید ایک اور روایت میں ہے:
”عن عائشة عن صلى الله عليه وسلم، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو صحيح: «إنه لم يقبض نبي قط حتى يرى مقعده من الجنة، ثم يخير» فلما نزل به ورأسه على فخذي غشي عليه ساعة، ثم أفاق فأشخص بصره إلى السقف، ثم قال: «اللهم الرفيق الأعلى» قلت: إذا لا يختارنا، وعرفت أنه الحديث الذي كان يحدثنا به“
ترجمہ:” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبیﷺ نے حالت صحت میں ارشاد فرمایا: کسی بھی نبی کی دنیا میں اس وقت تک روح قبض نہیں کی جاتی جب تک جنت میں اس کے رہنے کی جگہ اسے دکھا نہ دی جاتی ہو، اور پھر اسے (دنیا وآخرت کے لیے) اختیار دیا جاتا ہے، پھر جب نبیﷺ بیمار ہوئے اور آنحضرت ﷺ کا سر مبارک میری ران پر تھا تو آپ پر تھوڑی دیر کے لئے غشی چھاگئی، پھر جب ہوش آیا تو آپ چھت کی طرف دیکھنے لگے، پھر فرمایا:
”اللھم الرفیق الاعلی“
میں نے کہا کہ آپﷺ ہمیں ترجیح نہیں دے سکتے اور میں سمجھ گئی کہ یہ وہی حدیث ہے جو حضور نے ایک مرتبہ ارشاد فرمائی تھی۔(صحیح البخاری، بَابُ مَنْ انْتَظَرَ حَتَّى تُدْفَنَ،صفحہ۶۵۰۹،مطبوعہ دار طوق النجاۃ)
صحیح بخاری میں ہے:
”أخبرنا محمدبن رافع، عن عبد الرزاق، قال: حدثنا معمر، عن ابن طاوس، عن أبيه، عن أبي هريرةقال: أرسل ملك الْمَوت إلى موسى عليه السلام، فلما جاءه صكه، ففقأَعينه، فرجع إلى ربه، فقال: أرسلتني إلى عبدلا يريدالموت، فرداللہ عز وجل إليه عينه، وقال: ارجع إليه، فقل له يضع يدهُ عَلى متن ثور، فله بكل ماغطت يده بكل شعرةسنة، قال: أی رب، ثم ماذا قال:ثم الموت، قال: فالْآن، فسأل اللہ عزوجل أن يدنيهُ من الأرض المقدسةرميةبحجر، قال رسول اللہ صلى الله عليهِ وسلم: فلوكنت ثم، لأريتكم قبره إلى جانب الطريق تحت الكثيب الأحمر“
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موت کے فرشتے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف (انسانی صورت میں) بھیجا گیا۔ جب وہ فرشتہ آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب تعالیٰ کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: اے اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ درست فرما دی اور فرمایا: ان کے پاس دوبارہ جا اور انہیں کہہ کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھیں، انہیں ہر بال کے عوض، جو ان کے ہاتھ کے نیچے آئے گا، ایک سال زندگی ملے گی۔ (اس سار ے معاملےکے بعد) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: (پھر) موت! انہوں نے کہا: پھر ابھی ٹھیک ہے، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ مجھے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے تک مقدس سرزمین کے قریب کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی ایک جانب سرخ رنگ کے ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا۔(صحیح بخاری ،حدیث ۱۳۳۹،و صحیح مسلم،حدیث ۲۳۷۲)
مسند احمد کی روایت میں ہے :
”عن أبي مويهبة، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم من جوف الليل … يا أبا مويهبة، إني قد أوتيت مفاتيح خزائن الدنيا، والخلد فيها، ثم الجنة، وخيرت بين ذلك، وبين لقاء ربي عز وجل والجنة. قال (الراوي): قلت: بأبي وأمي، فخذ مفاتيح الدنيا، والخلد فيها، ثم الجنة، قال: لا والله يا أبا مويهبة، لقد اخترت لقاء ربي والجنة“
ترجمہ: ابومویھبہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کر دہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رات کے درمیانی حصہ میں بھیجا … اےابو مویھبہ !مجھے اس بات کا اختیار دیا گیا ہے دنیا کے خزانوں کی چابیاں اور پھر اس میں ہمیشگی اور جنت مجھے دیدی جائے ،یا اپنے رب سے ملاقات کر وں،راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ دنیا کی چابیاں اور اس میں ہمیشگی ، اور پھر جنت کو لے لیتے ، آپ نے فرمایا: نہیں! اللہ کی قسم اے ابو مویھبہ ! میں نے اللہ کی ملاقات اور جنت کو اختیار کیا۔(مسند احمد،حدیث ۱۵۹۹۷،مطبوعہ مؤسسة الرسالة)
فتح الباری میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ذکر فرماتے ہیں:
”و أن هذه الحالة من خصائص الأنبياء أنه لايقبض نبي حتىيخير بين البقاء في الدنيا و بين الموت“
ترجمہ:یہ انبیاءکرام علیہم السلام کی خصوصیت ہے کہ ان روح جب تک قبض نہیں کی جاتی جب تک کہ انھیں دنیا اورموت (آخرت) میں اختیار نہیں دیا جاتا۔(فتح الباری، بَابُ تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ،صفحہ۱۳۷،مطبوعہ دار المعرفة بیروت)
مشکوۃ المصابیح میں ہے:
”وعن جعفر بن محمد عن ابيه ان رجلا من قريش دخل على ابيه علي بن الحسين فقال الا احدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: بلى حدثنا عن ابي القاسم صلى الله عليه وسلم قال: لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم اتاه جبريل فقال: يا محمد إن الله ارسلني إليك تكريما لك وتشريفا لك خاصة لك يسالك عما هو اعلم به منك يقول: كيف تجدك؟ قال: اجدني يا جبريل مغموما واجدني يا جبريل مكروبا. ثم جاءه اليوم الثاني فقال له ذلك فرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم كما رد اول يوم ثم جاءه اليوم الثالث فقال له كما قال اول يوم ورد عليه كما رد عليه وجاء معه ملك يقال له: إسماعيل على مائة الف ملك كل ملك على مائة الف ملك فاستاذن عليه فساله عنه. ثم قال جبريل: هذا ملك الموت يستاذن عليك. ما استاذن على آدمي قبلك ولا يستاذن على آدمي بعدك. فقال: ائذن له فاذن له فسلم عليه ثم قال يا محمد إن الله ارسلني إليك فإن امرتني ان اقبض روحك قبضت وإن امرتني ان اتركه تركته فقال: وتفعل يا ملك الموت؟ قال: نعم بذلك امرت وامرت ان اطيعك. قال: فنظر النبي صلى الله عليه وسلم إلى جبريل عليه السلام فقال جبريل: يا محمد إن الله قد اشتاق إلى لقائك فقال النبي صلى الله عليه وسلم لملك الموت: «امض لما امرت به» فقبض روحه “
ترجمہ : جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش میں سے ایک آدمی ان کے والد علی بن حسین کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث نہ سناؤں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہمیں سناؤ، اس آدمی نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو جبریل آپ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: محمد! اللہ نے آپ کی تکریم و تعظیم کی خاطر مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، وہ آپ کے لیے خاص ہے، وہ آپ سے اس چیز کے متعلق دریافت کرتا ہے، جس کے متعلق وہ آپ سے بہتر جانتا ہے، وہ فرماتا ہے: آپ اپنے آپ کو کیسا محسوس کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل! میں اپنے آپ کو مغموم پاتا ہوں، اور جبریل! میں اپنے آپ کو کرب میں محسوس کرتا ہوں۔ “ پھر وہ دوسرے روز آئے تو انہوں نے آپ سے یہی کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جواب دیا جو آپ نے پہلے روز دیا تھا۔ پھر وہ تیسرے روز آپ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے وہی کچھ کہا جو پہلے روز کہا تھا، اور آپ نے بھی انہیں وہی جواب دیا، اور آخری بار جبریل کے ساتھ اسماعیل نامی فرشتہ آیا جو ایک لاکھ فرشتے کا سردار ہے، اور اس کا ہر ماتحت فرشتہ لاکھ فرشتے کا سردار ہے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل سے اس (فرشتوں) کے متعلق دریافت کیا، تو جبریل نے عرض کیا: یہ موت کا فرشتہ ہے، وہ آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے، اس نے آپ سے پہلے کسی آدمی سے اجازت طلب کی ہے نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت طلب کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دیں۔ “ اسے اجازت دے دی گئی، اس نے سلام کیا، پھر کہا: محمد! اللہ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، اگر آپ اپنی روح قبض کرنے کی مجھے اجازت دیں تو میں قبض کر لوں گا، اور اگر آپ نے اجازت نہ فرمائی تو میں اسے قبض نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”موت کے فرشتے! کیا تم ایسے کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، کیونکہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کی چاہت کا احترام کروں، راوی بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو جبریل نے کہا: محمد! اللہ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے، تب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملک الموت سے فرمایا: ”تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل کرو۔ “ اس نے آپ کی روح قبض کی ۔(مشکوۃ المصابیح، كتاب الفضائل والشمائل،حدیث ۵۹۷۲ )
واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
11/6/2024
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری