نمازِ جنازہ میں طاق صفیں بنانا

نمازِ جنازہ میں طاق صفیں بنانا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کیا نماز جنازہ میں طاق صفیں ہونا ضروری ہے؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب

نماز جنازہ میں طاق صفیں ہونا ضروری نہیں ہاں افضل و مستحب ہے کہ نماز میں طاق صفیں ہوں۔ روایات میں فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جس مسلمان میت پر تین صفیں نماز جنازہ پڑھیں تو اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ لہذا اگر تعداد کم ہو تو مستحب یہ ہے کہ تین صفیں بنائی جائیں، مثلاً سات شخص ہوں تو ان میں سے ایک کو امام بنایا جائے، پہلی صف میں تین کھڑے ہوں، دوسری صف میں دو اور تیسری صف میں ایک شخص کھڑا ہو جائے۔ اور اگر تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں صفیں زیادہ بنانی ہوں تو مستحب ہے کہ طاق (یعنی پانچ، سات، نو، گیارہ وغیرہ)بنائی جائیں۔

امام ابوداؤد وغیرہ محدثین حضرت مالک بن ہبیرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

”ما من مومن یموت فیصلی علیہ ثلاثۃ صفوف من المسلمین الا اوجب “

ترجمہ:جس مسلمان میت پر تین صفیں نماز جنازہ پڑھیں تو (اس پر جنت) واجب ہو جاتی ہے۔( سنن ابی داؤد باب فی الصف علی الجنازۃ ص98 رقم:3166 مطبوعہ لاہور)

امام ترمذی مالک بن ھبیرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، قال رسول ﷲ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم:

“من صلی علیہ ثلثۃ صفوف اوجب“

ترجمہ:جس پر تین صفیں نماز پڑھیں اُس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔( جامع الترمذی ابواب الجنائز باب کیف الصلٰوۃ علی المیت ج1ص200 مطبوعہ کراچی)

غنیہ شرح منیہ اور ردالمحتار میں ہے:واللفظ للاول

”یستحب ان یصفوا ثلثۃ صفوف حتی لوکانوا سبعۃ یتقدم احدھم للامامۃ ویقف ورائہ ثلثۃ دوراھم اثنان ثم واحد ذکرہ فی المحیط لقولہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم من صلی علیہ ثلثہ صفوف غفرلہ رواہ ابوداؤد والترمذی وقال حدیث حسن والحاکم وقال صحیح علٰی شرط مسلم“

ترجمہ: تین صفیں بنانا مستحب ہے یہاں تک کہ اگر سات آدمی ہوں تو ایک شخص امامت کے لئے آگے ہواور اس کے پیچھے تین کھڑے ہوں، ان کے پیچھے دو، پھر ایک۔ اسے محیط میں ذکر کیا ہے۔کیونکہ حضور صلی ﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا ارشادہے: جس پر تین صفیں نماز پڑھیں اس کی بخشش ہو جائے۔اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا۔اور ترمذی نے کہا حدیث حسن ہے۔اور حاکم نے روایت کیا اور کہا امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (غنیۃالمستملی شرح منیہ فصل فی الجنائز ص588 مطبوعہ کوئٹہ، ردالمحتار باب صلاۃ الجنازۃ ج2 ص214 دار الفکر بیروت)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

”والأفضل أن تكون الصفوف ثلاثة حتى لو كانوا ستة اصطف ثلاثة ثم اثنان ثم واحد“

ترجمہ:تین صفیں بنانا افضل ہے یہاں تک کہ اگر چھ مقتدی ہوں تو امام کے پیچھے تین کھڑے ہوں، ان کے پیچھے دو، پھر ایک۔(حاشية الطحطاوي على مراقي باب احکام الجنائز ص583 دار الکتب العلمیہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

”بہتر یہ ہے کہ نماز جنازہ میں تین صفیں کریں کہ حدیث میں ہے:جس کی نماز تین صفوں نے پڑھی،اُس کی مغفرت ہو جائے گی۔” اور اگر کُل سات ہی شخص ہوں تو ایک امام ہو اور تین پہلی صف میں اور دو دوسری میں اور ایک تیسری میں۔“(بہار شریعت،ج1،حصہ4،ص835، 836، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے:

”شرعاً جنازہ میں صفوں کا طاق ہونا مستحب ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

“ان اللہ وتر ویحب الوتر”

یعنی اللہ تعالیٰ وتر یعنی طاق ہے اور طاق کو پسند کرتاہے۔“ (فتاوی مرکز تربیت افتاء،ج1، ص325، فقیہ ملت اکیڈمی)

واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری

26ذوالحجہ1445ھ

3 جولائی 2024،بدھ

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں