بالوں کے مختلف اسٹائل بنانے کا حکم

بالوں کے مختلف اسٹائل بنانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ آجکل جو ہیر اسٹائل بنوائے جاتے ہیں جس میں آدھے بال کاٹے جاتے ہیں آدھے چھوڑے جاتے ہیں بیچ میں مختلف ڈیزائن بنوا کر کانوں سے اوپر چھوٹے کئے جاتے ہیں یا پھر اس جگہ پر بلیڈ سے کٹ لگوا کر ڈیزائن بنوائے جاتے ہیں ان کا کیا حکم ہوگا؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق اس طور پر بال کاٹنا کہ بعض جگہ بال کاٹنا اور بعض جگہ چھوڑ دینا یا سر کے درمیان مونڈنا اور آگے اور گدی کے بالوں کو چھوڑ دینا اس کو قزع کہتے ہیں اس طرح بال کاٹنا مکروہ تنزیہی اور ممنوع ہے اور رہا یہ کہ بیچ کہ بال بڑے رکھنا اور کانوں کے اوپر سے کم کروانا یا کٹ لگوانا یہ اگرچہ قزع نہیں ہے البتہ سنت اور سلف کے طریقے کے خلاف ہے اور اقوام فجار کی ایجاد ہے جن کی مشابہت سے مسلمانوں کو بچنا چاہیے اور سنت کے مطابق ہی بال رکھنے چاہیے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے:

” أخبرني ابن جريج قال أخبرني عبيد الله بن حفص أن عمر بن نافع أخبره عن نافع مولى عبد الله أنه سمع ابن عمر رضي الله عنهما يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن القزع قال عبيد الله قلت وما القزع فأشار لنا عبيد الله قال إذا حلق الصبي وترك هاهنا شعرة وهاهنا وهاهنا فأشار لنا عبيد الله إلى ناصيته وجانبي رأسه“

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا ۔ عبید اللہ کہتے ہیں میں نے کہا ، قزع کیا ہے ؟ تو عبید اللہ نے اشارہ کر کے بتایا کہ جب بچے کا سر کچھ جگہوں سے مونڈا جائے اور کچھ جگہ چھوڑ دیا جائے اور عبید اللہ نے اپنی پیشانی اور سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کیا ۔ (صحیح بخاری ، کتاب اللباس ، باب القزع ، جلد 2، صفحہ 877، مطبوعہ کراچی )

سنن ابی داؤد میں ہے

”عن ابن عمر: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى صبيا قد حلق بعض شعره، وترك بعضه، فنهاهم عن ذلك، وقال: احلقوا كله أو اتركوا كله“

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےایک بچہ کو دیکھا کہ اس کے سر کے بعض حصے کے بال مونڈے ہوئے اور بعض حصے میں بال چھوڑ دیے گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایااور ارشاد فرمایا کہ پورے سر کے بال مونڈو یا پورے سر پر بال رکھو۔(سنن ابو داؤد ،کتاب الترجل، باب في الذؤابة،جلد 6،صفحہ261، مطبوعہ الرسالة العالمیة)

مشکوۃ المصابیح میں ہے :

”وعن نافع عن ابن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عن ‌القزع. قيل لنافع: ما ‌القزع؟ قال: يحلق بعض رأس الصبي ويترك البعض “

ترجمہ:حضرت نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’قزع‘‘سے منع فرماتے ہوئے سنا، حضرت نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا (قزع اس کو کہتے ہیں کہ ) لڑکے کے سر کے بعض حصہ کو مونڈا جائے اور بعض حصے کو چھوڑ دیا جائے۔(‌‌‌‌مشکوۃ المصابیح ، كتاب اللباس، باب الترجل، الفصل الأول،رقم الحدىث، ج: 2، ص 1262، المکتب الاسلامی)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے :

”قزع قاف کے فتحہ سے بمعنی بادل کے ٹکڑے،اب اصطلاح میں سر کا بعض حصہ منڈوانے یا کترانے اور بعض رکھانے کوقزع کہتے ہیں اسے بادل کے ٹکڑوں سے تشبیہ دیتے ہوئے،یہ ممانعت بچوں بڑوں سب کے لیے ہے۔مجبوری کے حالات اس سے علیٰحدہ ہیں جیسے کبھی سر سام میں بیمار کا تالو کھول دیا جاتا ہے یعنی صرف بیچ کھوپڑی کے بال مونڈدیئے جاتے ہیں ویسے بلاضرورت ممنوع ہے کہ کراہت تنزیہی ہے،انگریزی حجامت بھی قزع ہے۔

بچوں کا ذکر اتفاقًا ہے کہ عرب میں بچوں ہی کی حجامت اس طرح کی جاتی ہے ورنہ یہ ممانعت چھوٹے بڑوں سب کے لیے ہے۔ یعنی اس روایت میں اسطرح مروی ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی یہ تفسیر ارشاد فرمائی۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 6 , حدیث 4426 ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

عمدۃ القاری میں ہے :

” وقال النووي في شرح مسلم أجمع العلماء على كراهة القزع إذا كان في مواضع متفرقة إلا أن يكون لمداواة ونحوها وهي كراهة تنزيه“

ترجمہ : امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں : قزع کے مکروہ ہونے پر علماء کا اجماع ہے جب ( سر کے ) مختلف حصوں میں ہو ، سوائے علاج وغیرہ کی خاطر اور یہ مکروہِ تنزیہی ہے ۔(عمدۃ القاری ،کتاب الطب ، باب فی القزع ، جلد 22، صفحہ58، دار احیاء التراث العربی ، بیروت )

فتاوی ہندیہ میں ہے

”يكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب“

ترجمہ : قزع مکروہ ہے اور قزع یہ ہے کہ مختلف ٹکڑوں میں تین انگلیوں کی مقدار تک بعض سر کو مونڈے اور بعض کے بال چھوڑ دے ۔(فتاوی ھندیہ ، کتاب الکراھیۃ ، الباب التاسع عشر ، جلد5، صفحہ 437، مطبوعہ کراچی )

ردالمختار میں ہے

”وفي الذخيرة : ولا بأس أن يحلق وسط رأسه ويرسل شعره من غير أن يفتله وإن فتله فذلك مكروه ، لأنه يصير مشبها ببعض الكفرة والمجوس في ديارنا يرسلون الشعر من غير فتل ، ولكن لا يحلقون وسط الرأس بل يجزون الناصية تتارخانية قال ط : ويكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب“

ترجمہ: ذخیرہ میں ہے کہ سر کے درمیانی حصے کو مونڈ دینا اور باقی بال چھوڑ دینے میں حرج نہیں جبکہ ان بالوں کو نہ گوندھے اور اگر گوندھ لیا تو یہ مکروہ ہے کیونکہ ہمارے شہروں میں یہ بعض کافروں اور مجوسیوں کی مشابہت ہے کہ وہ بال گوندھے بغیر لٹکاتے ہیں لیکن سر کا درمیانی حصہ نہیں مونڈتے بلکہ پیشانی کے بال مونڈتے ہیں ، علامہ طحطاوی نے فرمایا قزع مکروہ ہے اور قزع یہ ہے کہ مختلف ٹکڑوں میں تین انگلیوں کی مقدار تک بعض سر کو مونڈے اور بعض کے بال چھوڑ دے ۔(رد المحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی البیع ، جلد9، صفحہ 672، مطبوعہ کوئٹہ )

فتاوی رضویہ میں ہے:

”تالو کے بال منڈانا جس طرح یہاں کے لوگوں کی عادت ہے بشرطیکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیں جسے پان بنوانا کہتے ہیں جائز ہے مگر اولیٰ نہیں۔ ہاں متفرق مواضع سے قطعے قطعے منڈوانا جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں بیچ سرمنڈوادیا آس پاس کے بال چھوڑدئیے اور کنپٹیوں پر ببریاں رکھیں آس پاس منڈوادئیے اور گدی پر ایک قطعہ بالوں کا چھوڑا دہنے بائیں حلق کیے ،اسے عربی میں قزع کہتے ہیں اور وہ ممنوع ہے۔۔۔۔ اور یہ نئی نئی تراشیں ایک ایک انگل کے بال رکھنا جب اس سے بڑھیں کتروادینا یا آگے سے بڑے پیچھے سے کترے ہوئے یا وسط تالو سے پیشانی تک کھلوادینا یا گدی کے بال منڈانا یا پیشانی سے گدی تک سڑک نکالنا یامنڈے سرخواہ بالوں کی حالت میں یعنی چوڑی قلمیں بڑھا کر رخساروں پر جھکانا یا داڑھی میں ملادینا، یہ باتیں مخالف سنت وخلاف وضع صلحائے مسلمین ہونے کے علاوہ ان میں اکثر اقوام کفار کی ایجاد ہیں جن کی مشابہت سے مسلمانوں کو بچنا چاہیے۔“(فتاوی رضویہ ، جلد 22، صفحہ 577، رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)

بہار شریعت میں ہے:

”بیچ سر کو مونڈا دینا اور باقی جگہ کو چھوڑ دینا جیسا کہ ایک زمانہ میں پان بنوانے کا رواج تھا یہ جائز ہے اور حدیث میں جو قزع کی ممانعت آئی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ متعدد جگہ سر کے بال مونڈنا اور جگہ جگہ باقی چھوڑنا، جس کو گل بنانا کہتے ہیں۔ بخاری شریف سے بھی یہی ظاہر ہے۔ پان بنوانے کو قزع سمجھنا غلطی ہے، ہاں بہتر یہی ہے کہ سر کے بال مونڈائے تو کل مونڈا ڈالے یہ نہیں کہ کچھ مونڈے جائیں اور کچھ چھوڑ دیے جائیں۔بعض دیہاتیوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ پیشانی کو خط کی طرح بنواتے ہیں اور دونوں جانب نوکیں نکلواتے ہیں یا اور طرح سے بنواتے ہیں یہ سنت اور سلف کے طریقہ کے خلاف ہے، ایسا نہ کریں۔“(بھار شریعت ، جلد3، صفحہ 587، مکتبۃ المدینہ ، کراچی )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

ممبر فقہ کورس

09ذی القعدہ 1445ھ19 مئی 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضاقادری

اپنا تبصرہ بھیجیں