وتر میں اگر دعائے قنوت رہ جائے

وتر میں اگر دعائے قنوت رہ جائے

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص کی نماز وتر میں دعائے قنوت رہ جائے تو وہ نماز کس طرح مکمل کرے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

اگر کوئی شخص نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے رکوع میں یاد آئے یا رکوع کے بعد کسی اور مقام پر یاد آئے تو واپس نہ لوٹے اور آخر میں سجدہ سھوکرکےنماذمکمل کرلے۔

امام فخر الدین ابی المحاسن الحسن بن منصور المعروف قاضی خان المتوفی 592 ھ تحریر فرماتے ہیں

” ولو ترك القنوت فذكر في القعدۃ او بعد ما قام من الركوع لا يقنت و عليه السهو“

ترجمہ :اور اگر اس نے دعائے قنوت چھوڑ دی اس کو قعدہ کے یاد آئی یا رکوع سے اٹھنے کے بعد یاد آئی وہ قنوت نہ پڑھے اور اس پر سجدہ سہو لازم ہے۔ (فتاویٰ قاضی خان جلد1کتاب الصلوٰۃ صفحہ نمبر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ 114)

مولانا الشیخ نظام الدین اور جماعت علمائے ہند تحریر کرتے ہیں

”ولو نسي القنوت فتذكر في الركوع فالصحیح انه لا يقنت في الركوع ولا يعود الى القيام هكذا في التتار خانيہ فان عاد الى القيام ولم يعد الركوع لم تقسدصلاته كذا في البحر الرائق “

ترجمہ: اور اگر وہ قنوت بھول گیا اس کو رکوع میں یاد آئی تو صحیح یہ ہے کہ وہ رکوع میں قنوت نہ پڑھے اور نہ قیام کی طرف لوٹے اسی طرح فتاوی تاتارخانیہ میں ہے ۔اگر وہ لوٹا قیام کی طرف اور اس نے قنوت پڑھی اور اس نے رکوع دوبارہ نہ کیا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوئی اسی طرح بحر الرائق میں ہے ۔(فتاویٰ ہندیہ کتاب الصلوٰۃ باب صلاۃ الوتر جلد1صفحہ 163)

امام ابی بکر بن علی بن محمد الحدید الزبیدی المتوفی 800 ہجری تحریر فرماتے ہیں

” ولو قرأالفاتحة والسورة ونسي القنوت فركع ان تذكر بعد رفع راسه يمضي على صلاته ولا يعود ويسجد للسهو وان تذكر في الركوع فعن ابي حنيفه روايتان الصحيحۃ منهما لا يعود ولكن يسجد للسهو في الوجهين“

ترجمہ: اور اگر اس نے فاتحہ پڑھی اور سورت پڑھی اور دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا پھر اس نے رکوع کیا اگر اس کو رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یاد آیا تو وہ نماز جاری رکھے اور واپس نہ لوٹے اور سجدہ سھو کرے اور اگر رکوع میں یاد آیا تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں دونوں میں سےصحیح رویت یہ ہے کہ وہ واپس نہ لوٹے لیکن سجدہ سہو واجب ہے اس پر دونوں صورتوں میں(یعنی لوٹنےاورنہ لوٹنےکی صورت میں۔)(الجوھرۃ النیرہ کتاب الصلوٰۃ جلد1صفحہ154)

علامہ شیخ حسن بن علی الشرنبلالی متوفی 1069 ہجری تحریر فرماتے ہیں

”واذانسيی القنوت في الوتر وتذكره في الركوع او بالرفع منه لا يقنت ولو قنت بعد رفع راسه من الركوع لا يعيد الركوع ويسجد للسهو لزوال القنوت عن محله الاصلي “

ترجمہ: اور جب وتر میں قنوت پڑھنا بھول گیا اور اس کو رکوع میں یاد آئی یا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یاد آئی تو وہ قنوت نہ پڑھے اور اگر اس نے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قنوت پڑھی تو وہ رکوع کو دوبارہ نہ کرےاور سجدہ سہو کرے قنوت کے اپنے اصلی محل سے زائل ہونے کی وجہ سے۔(نورالایضاح کتاب الصلوٰۃ احکام الوتر صفحہ نمبر 128)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ متوفی 1340 ھ تحریر فرماتے ہیں:

”تسبیح پڑھ چکا ہو یا ابھی کچھ نہ پڑھنے پایا ہو اسے قنوت کے لیے رکوع چھوڑنے کی اجازت نہیں اگر قنوت کے لیے قیام کی طرف عود کیا گناہ کیا پھر قنوت پڑھے یا نہ پڑھے اس پر سجدہ سھو ہے۔“(احکام شریعت حصہ دوم صفحہ170)

صدرالشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

” اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع می۔ چلا گیا تو نہ قیام کی طرف لوٹے نہ رکوع میں پڑھے اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا تو نماز فاسد نہ ہوگی مگر گنہگار ہوگا اور اگر صرف الحمدللہ پڑھ کر رکوع میں چلا گیا تھا تو لوٹے اور سورت و قنوت پڑھے پھر رکوع کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔“(بہار شریعت جلد1صفحہ656)

ھذاماعندی والعلم بالحق عنداللہ

کتبہ

محمد عاصم القادری

5ذوالقعدہ 1445

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں