اپنی طرف سے قربانی کی بجائے والد کی طرف سے کرنا

اپنی طرف سے قربانی کی بجائے والد کی طرف سے کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص جو صاحب روزگار اور صاحب نصاب ہے ،اس پر قربانی بھی واجب ہے ،جبکہ اس کے والد صاحب پر نصاب نہ ہونے کی وجہ سے قربانی بھی لازم نہیں ہے،لیکن وہ شخص اپنی قربانی کرنے کے بجائے والد صاحب کی اجازت سے ان کی طرف سے کرتے ہیں تو کیا وہ شخص والد صاحب کی طرف سے قربانی کرنے سے بری الذمہ ہو جائے گا ؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الوھاب

مذکورہ صورت میں اس شخص نے جو قربانی اجازت کے ساتھ اپنے والد صاحب کی طرف سے کی ہے وہ اس کے والد صاحب کی طرف سے ہوئی ،لہذا یہ شخص اس قربانی کی وجہ سے بری الذمہ نہ ہوا ،بلکہ یہ شخص اپنے اوپر قربانی لازم ہونے کے باوجود قربانی نہ کرنے سے گنہگار ہوا اور اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ جس سال کی اپنی طرف سے واجب قربانی نہیں کی تو اس سال کی قربانی کے بدلے ایک لائقِ قربانی بکری کی قیمت صدقہ کرے۔

درمختارمیں ہے:

’’ لاعن زوجتہ وولدہ الکبیر العاقل ولوادی عنھما بلااذن اجزا استحسانا للاذن عادۃ ای لو فی عیالہ والا فلا قسھتانی عن المحیط، فلیحفظ“

ترجمہ:اپنی بیوی اور (اپنے)عاقل بالغ بیٹے کی طرف سے اس پر واجب نہیں اوراگر ان دونوں کی طرف سے اجاز ت کے بغیر ادا کردے، تو استحسانا ،جائز ہے، عادتا اجازت کی بناء پر یعنی جب عاقل بالغ بیٹا اس کی عیال میں شامل ہو، ورنہ اجازت کے بغیرنہیں، یہ قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے۔ تو اس کو محفوظ کرلو۔(درمختار،کتاب الزکاۃ،باب صدقۃالفطر،جلد3،صفحہ370،مطبوعہ کوئٹہ)

مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے سوال ہوا :

’’جس پر قربانی واجب ہے ،وہ اگر اپنے لڑکے یا بی بی وغیرہ کے نام سے کرے ،تو اس کےذمہ کا واجب ساقط ہو گا یا نہیں؟اور یہ قربانی صحیح ہو گی ؟‘‘

مفتی صاحب جواباً ارشاد فرماتے ہیں:

’’جس پر قربانی واجب ہے اس کو خود اپنے نام سے قربانی کرنی چاہیے،لڑکے یا زوجہ کی طرف سے کرے گا ،تو واجب ساقط نہ ہو گا،اپنے نام سے کرنے کے بعد جتنی قربانیاں کرے،مضائقہ نہیں،مگر واجب کوادا نہ کرنا اور دوسروں کی طرف سے نفل ادا کرنا بہت بڑی غلطی ہے، پھر بھی دوسروں کی طرف سے جو قربانی کی ہو گئی اور ایام نحر(قربانی کے دن)باقی ہوں، تو یہ خود قربانی کرے،گزرنے پر قیمتِ اضحیہ تصدق کرے۔‘‘(فتاوی امجدیہ ،کتاب الاضحیہ،جلد2،حصہ3،صفحہ314،مکتبہ رضویہ،کراچی)

در مختار میں ہے:

’’ ترکت التضحیۃ ومضت ایامھا تصدق غنی بقیمۃ شاۃ تجزئ فیھا ، ملتقطا“

ترجمہ: قربانی چھوٹ گئی اورقربانی کے دن گزر گئے،تو غنی شخص لائقِ قربانی بکری کی قیمت صدقہ کردے ۔ (در مختار ،کتاب الاضحیہ،جلد9،صفحہ531تا533،مطبوعہ کوئٹہ)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم

کتبہ: محمد انوار

13/5/2024

نظر ثانی مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں