غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینا
سوال۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں ہمارے پڑوسی اور دیگر لوگ غیر مسلم ہے تو ان سے دوستی کرنے ، سلام کرنے یا ان کے تہواروں میں تحفہ لینے یا خود سے تحفہ دینے کا اور ان کی دعوت مثلاً شادی وغیرہ میں شرکت کا کیا حکم ہے اور اسی طرح ان کو قربانی کا گوشت دینا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق کفار سے میل جول ،دوستی رکھنا، محبت رکھنا ، ان کی خوشامد میں رہنا ناجائز ہے کہ کفار ایک ہی ملت ہے اور ان سے محبت اور دوستی سے بچنا چاہیے کہ حدیث میں ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ۔
رہا ان کو سلام کرنا تو ان کو سلام نہ کرے اور اگر وہ سلام کرے تو جواب میں صرف علیکم کہہ دے اور اگر وہاں رہنے کے سبب سے اس کے لیے کوئی مشکل وغیرہ ہونے کا اندیشہ ہو تو سلام میں حرج نہیں مگر بقصد تعظیم کافر کو ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کرنا کفر ہے۔
ان کے تہواروں میں شرکت کرنا تو جائز نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کے تہوار کے موقع پر مٹھائی یا گفٹ وغیرہ لینا بھی درست نہیں ہے۔ البتہ عام مواقع پر جو ان کے تہواروں سے الگ ہو اس میں بمصلحت شرعی ان سے کچھ لینا کہ جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو اور جس سے دین پر اعتراض نہ ہو جائز ہے ۔
ان کی دیگر دعوتوں میں شرکت مثلاً شادی وغیرہ تو وہ مخصوص مذہبی طور پر ہی کی جاتی ہے جس میں شرکت کرنا درست نہیں اور دیگر تقریبات مثلاً سالگرہ وغیرہ تو اس میں اگرچہ کوئی مذہبی رسم کے طور پر نہیں منائی جاتی مگر اس میں بھی یقینا موسیقی ، بے پردگی اور دیگر بھی کئی قسم کی خرابیاں ہوتی ہیں جس کے سبب سے اس میں بھی شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔
المختصر اگر ان سے تعلق رکھنا ہی پڑے تو واجبی سا تعلق رکھا جائے ان کے گھر آنا جانا دعوتوں میں وغیرہ میں شرکت کرنے سےبچنا ہی بہتر ہے۔
قربانی کا گوشت کافر کو دینا شرعا جائز نہیں ہے کہ قربانی کے گوشت پر خاص مسلمانوں کا حق ہے اور اگر پہلے کبھی دیا بھی ہو تو گناہ گار ہوا توبہ کرے البتہ اس گوشت دینے سے اس پر قربانی کا اعادہ کرنا واجب نہیں ہے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتاہے:
﴿وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾
ترجمہ کنزُالعِرفان:’’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو،ورنہ تمہیں آگ چھوئے گی۔‘‘(القرآن الکریم، پارہ 12، سورہ ھود، آیت113)
خزائن العرفان میں صدر الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافِروں اور بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول ، رسم و راہ ، مَوَدّت و مَحبت ، ان کی ہاں میں ہاں ملانا ، ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے۔ “(خزائن العرفان ،صفحہ437، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی )
اللہ پاک ارشاد فرماتاہے :
﴿ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴾
ترجمۂ کنزُالعِرفان:’’اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔‘‘(القرآن الکریم، پارہ 7، سورۃ الانعام، آیت68)
تفسیرات احمدیہ میں علامہ ملّا احمد جیون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”وان القوم الظالمین یعم المبتدع والفاسق والکافر ، والقعود مع کلھم ممتنع‘‘
ترجمہ: آیت میں موجودلفظ﴿اَلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴾ بدعتی ،فاسق اور کافر سب کو شامل ہے اور ان تمام کے ساتھ بیٹھنا منع ہے۔(تفسراتِ احمدیہ ، سورہ انعام ، تحت الایۃ68، صفحہ 388 ، مطبوعہ کوئٹہ )
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
﴿ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤی اَوْلِیَآءَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ﴾
ترجمۂ کنزُالعِرفان:’’اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ، وہ (صرف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“ (القرآن الکریم ، پارہ 6 ، سورۃ المائدۃ، آیت 51)
تفسیر نسفی میں مذکورہ بالا آیت کے تحت امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”أی لا تتخذوهم أولياء تنصرونهم وتستنصرونهم وتؤاخونهم وتعاشرونهم معاشرة المؤمنين ثم علل النهي بقوله ﴿بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ وكلهم أعداء المؤمنين وفيه دليل على أن الكفر كله ملة واحدة‘‘
ترجمہ:یعنی کفّار کو دوست اور مددگار نہ بناؤکہ تم ان کی مدد کرو یا اُن سے مدد لواور ان سے بھائی چارہ اختیار کرواور ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا برتاؤ کرو(کیونکہ یہ سب منع ہے)،پھر اس کی علت بیان فرمائی کہ( وہ (صرف)آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں) اور تمام کفارمسلمانوں کے دشمن ہیں اور اس میں دلیل ہے کہ کفر ایک ملت ہے۔(تفسیر نسفی، جلد1، صفحہ453، مطبوعہ لاھور)
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے
”وعن ابي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرء على دين خليله فلينظر احدكم من يخالل» “
ترجمہ:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔
(مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الآداب ،جلد 6 ،حدیث 5019، مطبوعہ بیروت)
مرآۃ المناجیح میں ہے :
”دین سے مراد یا تو ملت و مذہب ہے یا سیرت و اخلاق،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں یعنی عمومًا انسان اپنے دوست کی سیرت و اخلاق اختیار کرلیتا ہے کبھی اس کا مذہب بھی اختیار کرلیتا ہے لہذا اچھوں سے دوستی رکھو تاکہ تم بھی اچھے بن جاؤ۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، جلد:6 , حدیث نمبر:5019 ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
فتاویٰ رضویہ میں امامِ اہلسنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”موالات مطلقاً ہر کافر ہر مشرک سے حرام ہے …اور معاملتِ مجردہ سوائے مرتدین ہر کافر سے جائزہے ،جبکہ اس میں نہ کوئی اعانتِ کفریا معصیت ہو،نہ اِضْرارِ اسلام وشریعت۔“(فتاوی رضویہ ،جلد14، صفحہ 432 ، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن ،لاھور)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
” واذا کان له حاجة فلا باس بالتسليم عليه ولا بأس برد السلام علي أهل الذمة لكن لا يزاد علي قوله ” وعليكم ” .
اسی طرح اگر کوئی یہودی ، عیسائی یا مجوسی سلام کرے کرے تو مسلمان کو صرف “وعلیکم ” کہ کر جواب دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔(الفتاوی الہندیۃ ،کتاب الکراہیۃ، الباب السابع في السلام،ج 5 ،ص 325 دار الفکر بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
’’ کفار کو سلام نہ کرے اور وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے مگر جواب میں صرف عَلَیْکُمْ اگر ایسی جگہ گزرنا ہو جہاں مسلم و کافر دونوں ہوں تو السَّلامُ عَلَیْکُمْ کہے اور مسلمانوں پر سلام کا ارادہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے۔ کہ السَّلامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی کہے۔۔۔۔
کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلا سلام نہ کرنے میں اندیشہ ہے تو کوئی حرج نہیں اور بقصد تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کرنا کفر ہے۔“(بہارشریعت،جلد3،صفحہ461، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
البدع والنہی عنہا میں ہے
”عن أبان بن أبی عیاش قال لقیت طلحۃ بن عبید اللہ بن کریز الخزاعی فقلت لہ قوم من إخوانک من أہل السنۃ والجماعۃ لا یطعنون علی أحد من المسلمین یجتمعون فی بیت ہذا یوما وفی بیت ہذا یوما ویجتمعون یوم النیروز والمہرجان ویصومونہما فقال طلحۃ بدعۃ من أشد البدع واللہ لہم أشد تعظیما للنیروز والمہرجان من غیرہم“
ترجمہ: حضرت ابان بن ابی عیاش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں طلحہ بن عبید اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ کے اہل سنت وجماعت بھائی نیروز،مہرجان ایک گھر میں جمع ہوتے ہیں،کسی مسلمان پر طعن و تشنیع نہیں کرتے اور ان دونوں دنوں میں روزہ رکھتے ہیں۔ حضرت طلحہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ سخت بدعت ہے ۔ اللہ کی قسم یہ روزہ رکھنا کفار سے زیادہ نیروز اور مہرجان کے دن کی تعظیم ہے۔(البدع والنہی عنہا،جلد1،صفحہ42، مکتبۃ ابن تیمیۃ، القاہرۃ)
در مختار مع رد المحتار میں ہے
”الاعطاء باسم النیروز والمھرجان (بان یقال ھدیۃ ھذا ھذا الیوم ) لا یجوز ای الھدایا باسم ھٰذین الیومین حرام وان قصد تعظیمه کما یعظمه المشرکون یکفر“
یعنی نیروز اور مہرجان پر عطیہ کا تبادلہ یہ کہہ کر کہ یہ آج کا ہدیہ ہے جائز نہیں یعنی ان دونوں دنوں کے نام پر تحفے لینا حرام ہے اور اگر مشرکین مجوسی کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گا تو کفر ہے۔(در مختار مع رد المحتار، جلد 5، صفحہ 481 ، دار الفکر بیروت)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
” بمصلحت شرعی ایسے (کافر کو )ہدیہ دینا جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو، اس کا ہدیہ قبول کرنا جس سے دین پر اعتراض نہ ہو ۔“(فتاوی رضویہ ،جلد14، صفحہ 420 ، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن ،لاھور)
فتاویٰ یورپ میں ہے :
”مسلمانوں کے لئے حرام ہے کہ ان کے تیوہار میں اپنے گھروں کو انہیں چیزوں سے مزین کریں جن سے وہ لوگ کرتے ہیں۔ پھراس تاریخ میں انہیں ہدیہ دینا اور ان سے تحفہ لینا بھی حرام و ممنوع ہے۔ اوراگرکرسمس ڈے کی تعظیم مقصود ہو تو معاذ اللہ یہ کفر ہے۔“(فتاوٰ ی یورپ، صفحہ540،شبیر برادرز،لاہور)
فتاوی شارح بخاری میں سوال ہوا کہ:” ہندو کے یہاں کا تیوہار وغیرہ کی مٹھائی کھانا کیسا ہے؟”
اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا:”یہ مٹھائی پاک ہے اس لیے اس کا کھانا جائز لیکن خاص ان کے تیوہار کے موقع پر لینا ممنوع ہے ،یہ ایک طرح سے ان کے تیوہار میں شرکت ہے ،دوسرے دنوں میں لینے میں کوئی حرج نہیں۔” (فتاوی شارح بخاری،جلد2،صفحہ598،599، برکات المدینہ،کراچی)
بدائع الصنائع میں ہے:
’’لایجوز صرف الکفارۃ والنذر وصدقۃ الفطر والاضحیۃ الی الحربی‘‘
ترجمہ :کفارہ ،نذر، صدقۂ فطر اورقربانی کاگوشت حربی کافر کو دیناجائز نہیں ہے۔(بدائع الصنائع،جلد7، صفحہ341،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
امامِ اہلِ سنت ، مجدد دین و ملت ،شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
”یہاں کے کافروں کو (قربانی کا ) گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے ۔“(فتاوی رضویہ ، جلد 20، صفحہ 457، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور )
فتاویٰ فیض الرسول میں فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”قربانی کاگوشت کافر کو دینا شرعاًجائز نہیں اورکسی نے دے دیا،تو گنہگار ہے، توبہ کرے اور قربانی ہوجائے گی یعنی کافرکو گوشت دینے کے سبب قربانی کا اعادہ کرنا واجب نہیں۔“(فتاوی فیض الرسول،جلد2،صفحہ457،شبیر برادرز،لاھور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
04 ذی الحجہ 1445ھ11 جون 2024ء
نظرثانی :
مفتی محمد انس رضا قادری