قرض دی ہوئی رقم پر قربانی کا حکم

قرض دی ہوئی رقم پر قربانی کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر کسی شخص نے 4 لاکھ روپے قرض دیئے ہوئے ہیں تو اس پر قربانی کا کیا حکم ہے اور اگر کسی کی رقم کمیٹی میں جمع ہو تو اب اس کی قربانی کا کیا حکم ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق اتنی رقم بلکہ فی زمانہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے بھی کسی کو قرض دیے ہوں تو یہ ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہے اور اس شخص پر قربانی لازم ہوجائے گی۔ اب اس قرض دینے والے پر لازم ہے کہ اپنی قرض دی ہوئی رقم کا مطالبہ کرے جس سے اس کا قربانی کا واجب ادا ہوسکے اور اگر کسی صورت میں بھی اسے وہ رقم واپس نہیں مل سکتی اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی اور رقم وغیرہ ہیں کہ جس سے قربانی کرسکے تو اب اس پر قربانی واجب نہیں ہے ۔ اس پر اب قرض لے کر بھی قربانی کرنا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی رقم بعد میں ملنے کی صورت میں جانور کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے۔

کمیٹی کی جمع شدہ رقم باون تولہ چاندی کے برابر ہے اور وہ شخص مقروض بھی نہیں ہے تو اس پر قربانی واجب ہے یا پھر وہ جمع شدہ رقم اگرچہ نصاب کے برابر نہیں مگر اس کے پاس موجود رقم یا مال سے مل کر نصاب تک پہنچ جاتی ہے تب بھی قربانی واجب ہوگی۔

فتاوی بزازیہ میں ہے:

’’لہ دین حال علی مقر ولیس عندہ مایشتر یھا بہ لایلزمہ الاستقراض ولا قیمۃ الاضحیۃ اذا وصل الدین الیہ ولکن یلزمہ ان یسال منہ ثمن الاضحیۃ اذا غلب علی ظنہ انہ یعطیہ ‘‘

ترجمہ: صاحب نصاب کا کسی ایسے شخص پر قرض فوری ہے ، جس کاوہ اقرار کرتاہے اور اس کے پاس کوئی ایسی شے نہیں کہ جس سے وہ قربانی کے لیے جانور خرید سکے ، تو اس پر قربانی کے لیے قرض لینالازم نہیں اور نہ ہی قرض واپس ملنے پر قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنالازم ہے ،لیکن اس کے لیے قربانی کی قیمت جتنی رقم کاسوال کرنا اس کے لیےلازم ہے ، جبکہ اس کوظن غالب ہو کہ وہ دے دے گا۔(فتاوی بزازیہ،جلد2،صفحہ406،قدیمی کتب خانہ،کراچی)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’ولو کان علیہ دین بحیث لو صرف فیہ نقص نصابہ لا تجب وکذا لو کان لہ مال غائب لا یصل إلیہ فی أیامہ‘‘

ترجمہ:اگر کسی شخص پر اتنا دَین ہو کہ وہ اپنامال اس دَین کی ادائیگی میں صرف کر ے ، تو نصاب باقی نہ رہے تواس پر قربانی نہیں ہے ۔ اسی طرح جس شخص کامال اس کے پاس موجود نہیں اور قربانی کے ایام میں وہ مال اسے ملے گا بھی نہیں۔(فتاوی عالمگیری،کتاب الاضحیۃ ،جلد5،صفحہ292،مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے :

’’اوس شخص پر دَین ہے اور اوس کے اموال سے دَین کی مقدارمُجرا کی جائے تو نصاب نہیں باقی رہتی ، اوس پر قربانی واجب نہیں اور اگر اس کا مال یہاں موجود نہیں ہے اور ایامِ قربانی گزرنے کے بعد وہ مال اوسے وصول ہوگا تو قربانی واجب نہیں۔‘‘(بہارشریعت ،جلد3،حصہ 15،صفحہ 333،مکتبۃ المدینۃ،کراچی)

بدائع الصنائع میں ہے

” فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه وهو نصاب صدقة الفطر “

ترجمہ:(قربانی میں)مالداری کااعتبارہوناضروری ہے اوروہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دوسو درہم(ساڑھے باون تولہ چاندی)یابیس دینار(ساڑھے سات تولہ سونا)ہوں یارہائش،خانہ داری کے سامان، کپڑے،خادم،گھوڑا، ہتھیاراوروہ اشیاء جن کے بغیرگزارہ نہ ہو،ان کے علاوہ کوئی ایسی چیزہو ، جواس کی قیمت کوپہنچتی ہواوریہ ہی صدقہ فطرکانصاب ہے۔(بدائع الصنائع،کتاب التضحیہ،ج4،ص196،مطبوعہ کوئٹہ)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ 56 روپیہ کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت، کاشتکار کے ہل بیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ، ان کا شمار نہ ہو۔ “(فتاوی رضویہ،جلد 20،صفحہ 370 ، رضافاونڈیشن ، لاھور)

بہار شریعت میں ہے:

”جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کےسوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو ،وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ، ان کے سوا جو چیزیں ہوں ، وہ حاجت سے زائد ہیں۔“(بہارِشریعت،جلد3،صفحہ 333،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

08ذی الحجہ 1445ھ14 جون 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں