جوتےپہن کر طواف کرنا

جوتےپہن کر طواف کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ مسجد الحرام میں جوتا پہن کر جانے اور طواف کرنے کا کیا حکم ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق مسجد الحرام ہو یا دیگر کوئی بھی مسجد ہو اس میں استعمالی جوتا پہن کر جانا ممنوع وناجائز ہے اور اگر جوتا غیر استعمالی ہو تب مکروہ اور ادب کے خلاف ہے ۔ غیر استعمالی جوتے کو عذر کے سبب سے پہن کر طواف کرسکتے ہیں ۔

فتاوٰی سراجیہ میں ہے

”دخول المسجد متنعلا مکروہ“

مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا مکروہ ہے ۔ (فتاوٰی سراجیہ، باب المسجد، صفحہ 71 ،مطبوعہ بیروت)

ردالمحتار میں ہے

”دخول المسجد متنعلا من سوء الادب“

ترجمہ: مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا بے ادبی ہے۔( ردالمحتار ، مطلب فی احکام المساجد ، جلد 1 ،صفحہ 486 ، دار الفکر بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے:

’’مسجد میں تو استعمالی جوتے پہنے جانا ہی ممنوع و ناجائز ہے۔ ‘‘(فتاوی رضویہ،جلد7،صفحہ377،رضا فاؤنڈیشن: لاہور)

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

”عندالتحقیق استعمالی جوتے پہن کرنمازپڑھنی مکروہ ہے اور اگر معاذ اﷲ نماز کو کہ حاضری بارگاہ شہنشاہ حقیقی ملک الملوک رب العرش عزجلالہ ہے ہلکا جان کر استعمالی جوتا پہنے ہوئے نماز کوکھڑاہوگیا توصریح کفرہے پھر بے نیت استخفاف نری کراہت بھی اس حالت میں ہے کہ غیرمسجد میں ایساکرے اور مسجد میں تو استعمالی جوتے پہنے جاناہی ممنوع وناجائز ہے نہ کہ مسجد میں یہ جوتا پہنے۔“(فتاوی رضویہ ، جلد 07، صفحہ367، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے:

’’مسجد میں جوتاپہن کرجانا خلاف ادب ہے۔ردالمحتارمیں ہے:’’دخول المسجد متنعلا سوء الادب‘‘(ترجمہ:مسجد میں جوتاپہن کرداخل ہونا بے ادبی ہے)ادب کی بناعرف ورواج ہی پرہے اور وہ اختلاف زمانہ و ملک وقوم سے بدلتاہے۔“(فتاوی رضویہ ،جلد7، صفحہ 392،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے

’’(والطواف فی نعل أو خف اذا کانا طاھرین) أی والا فیکون مکروھا…لکن فی النعلین ولو طاھرین ترک الادب کما ذکرہ فی البدائع، الا انہ محمول علی حال عدم العذر‘‘ ملتقطاً

ترجمہ:چپل یا موزے میں طواف کرنا جائز ہے جبکہ وہ پاک ہوں،ورنہ اس میں طواف کرنا مکروہ ہے۔لیکن چپل پہن کر طواف کرنے میں ترکِ ادب ہے اگرچہ وہ پاک ہوں،جیسا کہ بدائع میں اس کو ذکر کیا ہے اوروہ عذر نہ ہونے کی حالت پرمحمول ہے۔(لباب المناسک مع شرحہ،باب انواع الاطوفۃ،صفحہ232،مطبوعہ :مکۃ المکرمۃ)

لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے

’’(والطواف متنعلا ترک الادب)أی المستفاد من قولہ تعالی فاخلع نعلیک الا لضرورۃ التعب‘‘

ترجمہ:چپل پہن کر طواف کرنا ترک ادب ہے ، اور یہ اللہ تعالی کے اس قول سے مستفاد ہوتا ہے کہ تو اپنے جوتے اتار دے، مگر یہ کہ پا ؤں تھکنے کی ضرورت کی وجہ سے پہنے۔(لباب المناسک مع شرحہ،باب انواع الاطوفۃ،صفحہ237،مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

29 ذی القعدہ 1445ھ 07 جون2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں