اگر خدانخواستہ حج فاسد ہوجائے تو کیا کرے؟
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس کا حج فاسد ہوجائے تو وہ اب کیا کرے؟ کیا حج کے بقیہ افعال کرے یا نہیں؟بینوا توجروا۔بیان فرما کر اجر پائیے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اگر کسی شخص کا حج فاسد ہوجائے تو اب اس پر فساد کی وجہ سے دم لازم ہوگا اور آئندہ سال اس حج کی قضاء بھی لازم ہوگی۔ مزید یہ کہ اب اس شخص پر بقیہ افعال حج کو پورا کرنا واجب ہے۔
کنز الدقائق و بحر الرائق میں ہے:
”( تجب شاة إن أفسد حجه بجماع في أحد السبيلين قبل الوقوف بعرفة ويمضي ويقضي) ويجب المضي في أفعال الحج بعد إفساده كما يمضي فيه، وهو صحيح، ويلزمه قضاؤه من قابل ملتقطا “
ترجمہ: اگر کسی شخص نے وقوف عرفہ سے پہلے دونوں شرم گاہوں میں سے کسی ایک میں جماع کر کے حج فاسد کردیا تو اس پر ایک بکری واجب ہوجائے گی اور حج فاسد کرنے کے بعد بھی افعال حج کو مکمل کرنا واجب ہے جیسے حج صحیح میں افعال حج مکمل کرتا ہے، یہی صحیح ہے اورآئندہ سال اس حج کی قضا لازم ہوگی۔ (کنز الدقائق و بحر الرائق، کتاب الحج، باب الجنایات، جلد3، صفحہ25، 28، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
”(ووطؤه في إحدى السبيلين) من آدمي (ولو ناسيا قبل وقوف فرض يفسد حجه)…(ويمضي) وجوبا في فاسده كجائزه (ويذبح ويقضي) ملتقطا “
ترجمہ: اگر کسی شخص نے وقوف عرفہ سے پہلے انسان کی دو شرم گاہوں میں سے کسی ایک میں جماع کیا اگرچہ بھول کر تو اس کا حج فاسد ہوجائے گا اور حج فاسد ہوجانے کے با وجود بقیہ افعال حج کو پورا کرنا واجب ہے حج صحیح کی طرح، اور ایک بکری ذبح کرے گا اور حج کی قضا کرے گا۔ (تنویر الابصار مع در مختار، کتاب الحج، باب الجنایات، جلد3، صفحہ672-674، دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”جامع إمرأته قبل وقوفه بعرفة وهما محرمان فسدت حجتهما إذا التقى الختانان وغابت الحشفة وعليهما المضي والإتمام على الفساد، وعلى كل واحد منهما الدم وتجزئ الشاة في ذلك وعليهما قضاء الحجة من قابل“
ترجمہ: اگر میاں بیوی نے احرا کی حالت میں وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا تو ان دونوں کا حج فاسد ہوجائے گا جبکہ دونوں شرم گاہیں اس طرح ملیں کہ حشفہ غائب ہوجائے، اور حج فاسد ہوجانے کے باوجود اس کو جاری رکھنا اور پورا کرنا لازم ہے، اور دونوں پر دم لازم ہوگا اور اس میں بکری بھی کافی کفایت کرے گی، اور آئندہ سال ان دونوں پر اس حج کی قضا لازم ہوگی۔(فتاوی عالمگیری، کتاب المناسک، الباب الثانی فی الجنایات، الفصل الرابع فی الجماع، جلد1، صفحہ244، دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”حنفیہ کے نزدیک اگر حج میں وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج فاسد، اور اسے بدستور پورا کرکے ذبح شاۃ (بکری) واعادہ لازم۔“(فتاوی رضویہ، کتاج الحج، جلد10، صفحہ785، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج فاسد ہوگیا۔ اسے حج کی طرح پورا کر کے دَم دے اور سال آئندہ ہی میں اس کی قضا کر لے۔“(بہار شریعت، جرم اور ان کے کفارے کا بیان، جلد1، صفحہ1173، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم
کتبه
ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی
نظر ثانی:
ابو احمد مفتی انس رضا قادری
مؤرخہ 29 ذو القعدۃ الحرام 1445ھ بمطابق 07جون 2024ء، بروز جمعۃ المبارک