احرام اور ناپاکی کے ایام

احرام اور ناپاکی کے ایام

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ایک عورت کو احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا تو اس کے باعث وہ طواف تو نہیں کرسکی تو کیا سعی کرکے احرام کھول سکتی ہے اور پھر جب پاک ہو جائے اور طواف کرنا ہو تو دوبارہ احرام باندھ کر طواف کرلے تو کیا اس کا عمرہ ادا ہو جائے گا؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق سعی میں اگرچہ طہارت شرط نہیں ہے لیکن سعی کے لیے ضروری ہے کہ طواف کے بعد ہو اور اگر طواف سے پہلے سعی کی تو وہ کالعدم ہوگی اور طواف کے بعد اس کا اعادہ کرنا ہوگا اور اگر اعادہ نہیں کیا تو دم واجب ہوگا۔ احرام باندھنے کے بعد اگر حیض آگیا تو اب احرام کی پابندیوں کا خیال رکھتے ہوئے ناپاکی کے ایام گزارنے ہوں گے۔ کیونکہ بغیر افعال احرام کی ادائیگی کے بعد احرام سے نہیں نکلا جاسکتا ہے اور لاعلمی کی بناء پر احرام ختم کرنے کی نیت سے ممنوعات احرام کا ارتکاب کیا تو اس صورت میں ایک دم لازم آئے گا جو کہ حدود حرم میں دینا ضروری ہے ۔ اب پاک ہونے کے بعد دوبارہ احرام باندھنے کی حاجت نہیں ہے کیونکہ وہ بدستور حالت احرام میں ہی ہے اور اگر دوبارہ احرام کی نیت کی تو وہ دو احرام کو جمع کرنے والی ہو جائے گی اور پھر ان میں سے ایک کے رفض یعنی ختم ہو جانے کے سبب سے اس ختم ہونے والے عمرے کی قضا اور ایک دم لازم ہو جائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے

” والحيض والجنابة لا يمنعان صحة السعي كذا في محيط السرخسي. و الأصل أن كل عبادة تؤدى لا في المسجد من أحكام المناسك فالطهارة ليست من شرطها كالسعي“

ترجمہ: حیض و جنابت ،سعی کی صحت کو مانع نہیں جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے، اور اس میں اصل یہ ہے کہ احکام مناسک میں سے ہر وہ عبادت جو مسجد میں نہ ادا کی جاتی ہو اس میں طہارت شرط نہیں جیسے سعی ہے ۔(فتاوی ہندیہ ، کتاب الحج، باب فی کیفیۃ اداء لحج، ج 1، ص 227، دار الفکر، بیروت)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے

”فإن ‌سعى جنبا أو سعت المرأة ‌حائضا أو نفساء فالسعي صحيح لأنه عبادة تؤدى في غير المسجد“

ترجمہ:پس اگر حالت جنابت میں سعی کی یا عورت نے حالت حیض یا نفاس میں سعی کی تو سعی صحیح ہوگی کیونکہ یہ وہ عبادت ہے کہ جو مسجد کے علاوہ میں ادا کی جاتی ہے ۔(الجوہرۃ النیرۃ ، كتاب الحج،باب الجنايات في الحج،جلد 1، صفحہ 172،المطبعه الخيريه)

بہار شریعت میں ہے :

”سعی کے لیے طہارت شرط نہیں ، حیض والی عورت اور جُنب بھی سعی کرسکتا ہے۔“(بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 6، صفحہ 1116، مکتبہ المدینہ کراچی)

مناسک ملا علی قاری میں ہے

” ولو سعی قبل الطواف لم یعتد به ای بذٰلک السعی، فإن سعیه حینئذ کالمعدوم، فان لم یعده فعلیه دم ای اتفاقاً“

ترجمہ:اور اگر طواف سے قبل سعی کی اور پھر اس کا اعادہ نہیں کیا یعنی سعی کا تو یہ سعی کالعدم ہوگی پس اگر اس سعی کا اعادہ نہیں کیا تو اس پر متفقہ طور پر دم واجب ہوگا۔ ( مناسک ملا علی قاری ، صفحہ 355 ، مکتبہ امدادیہ)

لباب المناسک میں ہے

”ان یکون بعد طواف او بعد اکثرہ فلو سعی قبل الطواف او بعد اقله لم یصح ولو سعی بعد اربعة اشواط صح“

ترجمہ:اور سعی کے لیے شرط ہے کہ یہ طواف کے بعد یا اس کے اکثر چکر کے بعد ہو اور اور طواف سے قبل سعی کی یا اس کے کم چکر یعنی کہ تین پھیرے کے بعد سعی کی تو یہ سعی صحیح نہیں ہوگی اور اگر سعی چار چکر کے بعد کی تو سعی صحیح ہوگی۔ (لباب المناسک ، صفحہ 125 ، دار قرطبہ)

بہار شریعت میں ہے :

”سعی کے لیے شرط یہ ہے کہ پورے طواف یا طواف کے اکثر حصہ کے بعد ہو، لہٰذا اگر طواف سے پہلے یا طواف کے تین پھیرے کے بعد سعی کی تو نہ ہوئی اور سعی کے قبل احرام ہونا بھی شرط ہے، خواہ حج کا احرام ہو یا عمرہ کا، احرام سے قبل سعی نہیں ہو سکتی۔“(بہار شریعت ،جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1116، مکتبہ المدینہ کراچی)

مبسوط سرخسی میں ہے

’’وكذلك بنية الرفض وارتكاب المحظورات فهو محرم على حاله‘‘

ترجمہ:محرم احرام توڑنے کی نیت اور ممنوعات کے ارتکاب کے سبب بھی حالت احرام ہی میں رہے گا۔(مبسوط سرخسی،جلد4، صفحہ122،دار المعرفۃ، بيروت)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

’’نية الرفض باطلة لأنه لا يخرج عنه إلا بالأعمال، لكن لما كانت المحظورات مستندة إلى قصد واحد وهو تعجيل الإحلال كانت متحدة فكفاه دم واحد۔بحر۔ قال في اللباب اعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع، وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب، ولو كل المحظورات وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه ‘‘

ترجمہ:احرام کو ختم کرنے کی نیت باطل ہے کیونکہ بغیر افعال کے احرام سے نہیں نکلا جاسکتا،لیکن جب ممنوعات ایک ہی قصد کی طرف منسوب ہوں اور وہ جلد احرام سے نکلنا ہے تو تمام جنایات ایک ہی سمجھی جائیں گی اور اسے ایک دم کافی ہوگا۔لباب میں فرمایا: جان لے کہ محرم جب احرام سے نکلنے کی نیت کرلے اور وہ کام شروع کر دے جو غیر ِمحرم کرتا ہے جیسے سلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، حلق کروانا، جماع کرنا اور شکار کو قتل کرنا، تو وہ اس نیت سے احرام سے باہر نہیں آئے گا اور اُس پر لازم ہوگا کہ جیسے پہلے محرم تھا، اسی حالت پرواپس لوٹ آئے اور اُس پر تمام ممنوع اُمور کے ارتکاب کے عوض ایک ہی دم لازم ہو گا، اگر چہ اُس نے سارے ہی ممنوعات احرام کا ارتکاب کیا ہو اور متعد دجنایات سے متعدد کفارے اُس وقت لازم ہوتے ہیں جب احرام سے نکلنے کی نیت نہ کی ہو۔ پھر احرام سے نکلنے کی نیت اُسی کی معتبر ہے جو یہ گمان کرتا ہو کہ وہ اس قصد کے ذریعے احرام سے نکل جائے گا۔اور جو جانتا ہو کہ اس طرح صرف نیت سے وہ احرام سے نہیں نکلے گا تو اب اس کی یہ نیت معتبر نہیں ہوگی ۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ،باب الجنایات، جلد 3، صفحہ665،دارالمعرفۃ،بیروت)

لباب المناسک میں ہے

’’ والثالث:ذبحہ فی الحرم ‘‘

ترجمہ:(دم کی ادائیگی کی شرائط میں سے )تیسری شرط ،اُس جانور کا حرم میں ذبح ہونا ہے۔ (لباب المناسک،فصل فی احکام الدماء ،ص 554،مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

بحر الرائق ميں ہے

’’وإن كانا معا أو على التعاقب فالحكم كما تقدم في الحجتين من لزومهما عندهما خلافا لمحمد من ارتفاع أحدهما بالشروع في عمل الأخرى عند الإمام خلافا لأبي يوسف ووجوب القضاء ودم للرِفض‘‘

ترجمہ:اور اگر دو عمروں کا احرام ایک ساتھ ہو یا ایک کے بعد دوسرے کا ہو تو اس کا حکم وہی ہے جو دو حج کو جمع کرنے کا بیان ہوا یعنی یہ دونوں عمرے شیخین کے نزدیک لازم ہوجائیں گے،برخلاف امام محمد کے۔ اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دوسرے کے افعال میں شروع ہونے سے اُن میں سے ایک کا ارتفاع ہوجائے گا ،برخلاف امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے اور اس چھوٹنے والے عمرے کی قضا واجب ہوگی اور رِفض( ترکِ ) عمرہ کا ایک دم لازم ہوگا۔(البحر الرائق،،باب اضافۃ الاحرام الی الاحرام ،ج 3،ص 56، دار الكتاب الإسلامی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

27 ذی القعدہ 1445ھ04 جون 2024ء

نظر ثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں