کام ہونے پر دس قرآن پڑھنے کی منت ماننے کا حکم

کام ہونے پر دس قرآن پڑھنے کی منت ماننے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے منت مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں دس قرآن پاک پڑھوں گا، اب وہ کام ہوگیا تو کیازید پر دس قرآن پاک پڑھنا واجب ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

پوچھی گئی صورت میں زید پر دس قرآن پاک پڑھنا واجب نہیں اور نہ پڑھنے پر کوئی گناہ یا کفارہ لازم نہیں ہو گا کیونکہ قرآن پڑھنے کی منت ماننا شرعی منت نہیں۔شرعا ایسی عبادت کی منت ماننا جسکی جنس سے کوئی فرض یا واجب نہ ہو وہ منت لازم نہیں ہوتی۔ البتہ زید نے ایک اچھی چیز کی منت مانی ہے لہذہ بہتر ہے کہ دس قرآن پاک پڑھ لے۔

رد المحتار میں ہے :

”ولا يصح النذر بقراءة القرآن وصلاة الجنازة وتكفين الموتى“

ترجمہ:میت کو کفن دینے کی منت ،نماز جنازہ پڑھنے کی منت اور تلاوتِ قرآن کی منت درست نہیں ہوتی۔ (ردالمحتار مع الدر المختار،باب الایلاء، جلد3،صفحہ426، دارالفکر،بیروت)

در مختار میں ہے:

”لو نذر التسبيحات دبر الصلوة لم يلزمه“

ترجمہ:اگر کسی نے نماز کے بعد تسبیحات کی منت مانی تو یہ منت لازم نہیں ہوگی۔

اس عبارت کے تحت علامہ شامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

” وكذا لو نذر قراءة القرآن وعلله القہستانی فی باب الاعتکاف بانھا للصلاۃ و فی الخانیہ ولو قال علی الطواف بالبیت و السعی بین الصفا والمروۃ أؤ علی ان اقراء القرآن ان فعلت کذا لا یلزمہ شئی“

ترجمہ:یعنی ایسے ہی اگر قرآن مجید کی تلاوت کی منت مانی (تو منت لازم نہیں ہوگی) اور اسکی علت قہستانی نے بیان کی اعتکاف کے باب میں کہ قرآن کی تلاوت نماز کے لیے فرض ہے (لعینہ فرض نہیں) اور خانیہ میں ہے اور اگر اس نے کہا کہ مجھ پر بیت اللہ کا طواف لازم ہے اور صفا مروہ کے درمیان سعی واجب ہے یا مجھ پر لازم ہے کہ میں قرآن کی تلاوت کروں اگر میں نے ایسا کیا تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہو گی۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الایمان، جلد3،صفحہ738،دارالفکر،بیروت)

طحطاوی میں ایسی منت کے واجب نا ہونے کے بارے میں ہے:

”وعلل عدم الوجوب في القهستاني بأن لزومها للصلاة لا لعينها“

ترجمہ:قہستانی میں اس منت کے واجب نہ ہونے کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت نماز کے لیےلازم(یعنی واجب و فرض) ہے نہ کہ مستقل طور پر۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،کتاب الصوم،باب ما یلزم الوفاء به، صفحہ 693،دارالکتب العلمیہ،بیروت)

مجمع الانہرمیں ہے:

”لم يلزم الناذر ما ليس من جنسه فرض كقراءة القرآن وصلاة الجنازة ودخول المسجد“

ترجمہ:جس کی جنس سے فرض نہ ہووہ منت ماننے والے پر لازم نہیں ہوتی جیسا کہ قرآن پاک کی تلاوت،نمازجنازہ اور مسجد میں داخل ہونا۔ (مجمع الانھر،کتاب الأیمان،فصل حروف القسم،جلد1،صفحہ547،دار احیاء التراث العربی)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں:

”وضو وغسل وتلاوت قرآن وسجدہ تلاوت واتباعِ جنازہ وغیرہ کے یہ چیزیں نذر وتعلیق سے لازم نہیں ہوجاتیں۔“(فتاوی رضویہ،جلد13 ،صفحہ257، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ:

انتظار حسین مدنی کشمیری

مؤرخہ:2 رجب المرجب 1444/ 25 جنوری 2023 بروز بدھ

اپنا تبصرہ بھیجیں